حکمراں رحم،عدل ،وعدے(پورے) نہ کریں تو ان پر
اللہ, فرشتوں و لوگو کی لعنت،مسند احمد،12023
بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان میں سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔
۔ (۱۲۰۲۳)۔ عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ وَہْبٍ الْجَزَرِیُّ، قَالَ: قَالَ لِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا مَا أُحَدِّثُہُ کُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ عَلَی بَابِ الْبَیْتِ وَنَحْنُ فِیہِ، فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، وَلَکُمْ عَلَیْہِمْ حَقًّا مِثْلَ ذٰلِکَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوْا فَرَحِمُوْا، وَإِنْ عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِنْ حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۳۲)
▼
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں