بدھ، 7 جنوری، 2026

8 (نام نہاد)صحابہ جو لشکر یزید میں تھے : امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شامل

 8 (نام نہاد)صحابہ جو لشکر یزید میں تھے :
امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شامل ۔
ایسے ہے چند مصداق سورہ المنافقون جو کربلاء میں لشکر یزید میں تھے - سبط رسول (ص) کے قتل میں ملوث (ان میں سے 8 صحابہ کے نام  معتبر حوالہ جات کے ساتھ - ملاحظہ فرمائی !
انصاف ہر صاحب انصاف سے انصاف کا طالب !
1 . كثير بن شهاب الحارثي :
اس کے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔
قال أبو نعيم الأصبهاني المتوفی : 430 -
كثير بن شهاب البجلي رأى النبي (ص)
کثیر بن شہاب نے آپ (ص) کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
تاریخ  أصبہان جلد 2 صفحہ 136 دار النشر : دار الكتب العلمية ۔
بيروت 1410 هـ 1990م الطبعة : الأولى تحقيق :
2 . حجار بن أبجر العجلي :
ابن حجر عسقلانی رح نے اسے صحابی کہا ہے ۔۔۔۔۔۔
اور بلاذری نے اس کا خط جو اس نے امام حسین (ع) کو لکھا، نقل کیا ہے ۔
حجار بن أبجر بن جابر العجلي له إدراك .
اس نے آپ (ع) کے زمانے کو درک کیا ہے ۔
الإصابة في تمييز الصحابة جلد 2 صفحہ 167 رقم 1957 دار النشر : دار الجيل بيروت : قالوا : وكتب إليه أشراف أهل الكوفة ... وحجار بن أبجر العجلي... :  امام حسین (ع) کو جن اہل کوفہ نے خط لکھے، ان میں ایک حجار ابن ابجر تھا۔ (أنساب الأشراف جلد1 صفحہ 411)
وہ ایک ہزار سپاہ کے لشکر کی سالاری کرتا ہوا کربلاء پہنچا ۔

3. عبد الله بن حصن الأزدی :
اسکے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔
قال ابن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي المتوفي : 852 : عبد الله بن حصن بن سهل ذكره الطبراني في الصحابة ۔ طبرانی نے اسے صحابہ میں ذکر کیا ہے ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة جلد 4 صفحہ61 رقم 4630 دار النشر : دار الجيل بيروت)
کربلاء میں اس کا امام حسین (ع) کی توہین کرنا ۔۔۔۔۔
وناداه عبد الله بن حصن الأزدي : يا حسين ألا تنظر إلى الماء كأنه كبد السماء، والله لا تذوق منه قطرة حتى تموت عطشاً : عبد اللہ ازدی نے کہا ۔ اے حسین (ع) کیا تم پانی کی طرف نہیں دیکھ رہے ۔۔لیکن خدا کی قسم اس میں سے ایک قطرہ بھی تمہں نہیں ملے گا - حتی کہ تم پیاسے ہی مرو گے !(نعوذباللہ) (أنساب الأشراف جلد1 صفحہ 417)
4. عبدالرحمن بن أبي سبرة الجعفی :
کے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔
قال ابن عبد البر المتوفي 463 : عبد الرحمن بن أبى سبرة الجعفى واسم أبى سبرة زيد بن مالك معدود فى الكوفيين وكان اسمه عزيرا فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن ...
اسکا نام عزیز تھا۔ رسول اللہ (ص) نے بدل کر عبد الرحمن رکھا ۔
الاستيعاب جلد 2 صفحہ 834 رقم 1419 نشر دار الجيل بيروت ۔
اسکا قبیلہ اسد کی سربراہی کرنا اور امام حسین (ع) کے قتل میں شامل ہونا۔
5. عزرة بن قيس الأحمسی :
اسکے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔
قال ابن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي المتوفي : 852 : عزرة بن قيس بن غزية الأحمسي البجلي ... وذكره بن سعد في الطبقة الأولى۔
اس کو ابن سعد نے پہلے طبقے میں ذکر کیا ہے ( یعنی صحابی )۔
الإصابة في تمييز الصحابة جلد 5 صفہہ 125 رقم 6431 نشر دار الجيل بيروت - : اس نے امام حسين (ع) کو خط لکھا تھا :
قالو ا : وكتب إليه أشراف أهل الكوفة ... وعزرة بن قيس الأحمسی ۔
(أنساب الأشراف جلد 1 صفحہ 411) ۔۔۔۔۔
گھڑ سواروں کا سالار :
وجعل عمر بن سعد ... وعلى الخيل عزرة بن قيس الأحمسی ۔

6 - عبـد الرحمن بن أَبْـزى :
له صحبة وقال أبو حاتم أدرك النبي صلى الله عليه وسلم وصلى خلفه ۔ یہ صحابی ہے ۔ ابو حاتم نے کہا ہے کہ اس نے آپ (ص) کے پیچھے نماز پڑھی ۔
الإصابة - ابن حجر - جلد 4 صفحہ 239 -
قال المزّي: «سكن الكوفة واستُعمل عليها»، وكان ممّن حضر قتال الإمام عليه السلام بكربلاء ۔ : مزّی کہتا ہے ۔ کہ وہ کوفے میں رہتا تھا ۔ امام حسین (ع) سے جنگ کرنے کے لئے کربلاء میں تھا۔
تہذيب الكمال 11 / 90 رقم 3731 -
7 - عمرو بن حريث :
يكنى أبا سعيد رأى النبي صلى الله عليه وسلم ۔
اس نے  آپ(ص) کو دیکھا تھا ۔
أسد الغابة - ابن الأثير - جلد 4 صحہ 97 -
سپہ سالاروں میں سے تھا :
ومن القادة : «عمرو بن حريث وهو الذي عقد له ابن زياد رايةً في الكوفة وأمّره على الناس : ابن زیاد نے اسے کوفہ میں علم جنگ دیا - اور لوگوں پر امیر بنایا  ۔ (بحار الأنوار 44 / 352)
وبقي على ولائه لبني أُميّة حتّى كان خليفة ابن زياد على الكوفة.
بنو امیّہ کیلیئے والی رہا یہاں تک کہ ابن زیاد کوفہ کا خلیفہ تھا ۔
(أنساب الأشراف 6 / 376)
8 - أسماء بن خارجة الفزاری :
اس کے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وقد ذكروا أباه وعمه الحر في الصحابة وهو على شرط بن عبد البر۔
اسکو صحابہ میں شمار کیا گیا ہے ۔ : الإصابة في تمييز الصحابة جلد 1 صفحہ 195 دار النشر دار الجيل بيروت -
امام حسين (ع) کو قتل کرنے میں اس کا شامل ہونا :
دعا ابن زياد ... وأسماء بن خارجة ۔۔۔۔۔۔۔
و سیعلمو الزین ظلمو ای منقلبون ینقلبون ۔۔۔۔۔۔۔منقول

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں