جمعرات، 1 جنوری، 2026

قصاص عثمان کے اصلی مطالبین مولا علی کرم کے ساتھ


قصاص ِعثمان کے اصلی مطالبین حضرت علی کرم۔۔کے ساتھ:-
سیدنا عبرالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ہم بیعت رضوان میں شامل 800 افراد  علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے، جن میں سے 63 شہید ہوئے انہی میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ  بھی تھے۔تاریخ خلیفة بن خیاط ص ١٩٦ واسنادہ حسن

امام تابعی سعید بن جبیر فرماتے ہیں:
جمل کے دن سیدنا علی قرضی اللہ عنہ کے ساتھ آٹھ سو انصاری صحابہ تھے جن میں سے  چار سو بیعت رضوان میں شریک تھے۔ تاریخ خلیفة بن خیاط ص 184، وسندہ حسن

پہلا قول زیادہ مضبوط ہے کیونکہ شریک ہونے والے صحابی خود بتارہے ہیں، البتہ امام سعید بن جبیر کے قول کا بھی مداف یہی ہے کہ بہت بڑی تعداد میں صحابہ حضرت علی کے ساتھ باقاعدہ جنگ میں شریک ہوئے۔
اس سے اندازہ لگایئے جو حقیقت میں بیعت رضوان میں شامل صحابہ تھے جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کے لیے نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی وہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں، اور بیعت رضوان اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مشرف باسلام بھی نہیں ہوئے تھے۔ اب کسی کو لگتا ہے کہ بیعت رضوان والے سینکڑوں صحابہ سے زیادہ کسی کو قصاص عثمان کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتا ہے تو پھر وہ اسکا فھم ہے۔ لیکن قصاص عثمان کی جس تحریک کی اللہ تعالی نے بیعت رضوان والے دن تائید کی اور جسے ویلیڈیٹ کیا، اس کے شرکاء تو حضرت علی کے ساتھ تھے۔
بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ بچے کچے اصحاب بیعت رضوان کو واقعہ حرہ میں شہید کردیا گیا چنانچہ تابعی امام سعید بن المسیب کا قول ہے:
وقعت الفتنة الأولى يعني مقتل عثمان فلم تبق من أصحاب بدر أحدا ثم وقعت الفتنة الثانية يعني الحرة فلم تبق من أصحاب الحديبية أحدا
پہلا فتنہ جب پیش آیا یعنی شہادت ِعثمان تو اس نے اصحاب بدر میں سے کسی کو نہیں چھوڑا اور جب دوسرا فتنہ پیش آیا یعنی حرہ تو اس نے صلح حدیبیہ والے صحابہ میں سے کسی کو نہیں چھوڑا۔صحیح بخاری تحت الحدیث 4024
-محمد شاہرخ خان

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں