بدھ، 7 جنوری، 2026

سجدہ تعظیمی،مسلمان،توحید اور الحاد


دیکھو ! بر صغیر میں کیا ہوا، ہو رہا ہے، ہو گا۔ 
صوفیاء کرام کے ہاتھ پہ لوگ مسلمان ہوئے،خصوصا چشتی صوفیاء کے اور  ان کے ہاتھ پر اب ابھی ہوتے ہیں۔ قادری اور سہروردی سلسلے  آئے انہوں نے بھی کچھ دیگر مذاہب والے مسلمان کئے اور کچھ چشتی مسلمانوں کو قادری و سہروردی بنایا۔سب سے بعد میں نقشبندی سلسلہ آیا اور فقط چشتی،قادری و سہروردی مسلمانوں کو نقشبندیہ مجددیہ بنایا۔ ڈھائی تین سو سال تک نقشبندیوں کا اثر و رسوخ بڑھتا رہا،مگر صرف مسلمانوں میں۔انگریزوں سے ہارنے (ہار جو کہ طے تھی)کے بعد نقشبندیوں نے ایک مدرسہ کھولا۔ یعنی امت محمدیہ ہندیہ کو اب پوری طرح دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ عرصے بعد تیسرا دھڑا اہلحدیث کا بھی وجود میں آگیا‌۔ یعنی مسلمانوں کو تین حصوں میں منقسم کر دیا گیا۔ پھر امام احمد رضا خاں منظر عام پہ آئے اور اہل تصوف امت محمدیہ ہندیہ کو تقسیم کرنے والے پہلے دونوں دھڑوں خصوصاً دیوبندیوں سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک اور دھڑا وجود میں آیا اور چار دھڑے بن گئے۔ شروع میں تینوں دھڑوں کا تصوف اور اہل تصوف سے کچھ کم زیادہ تعلق رہا۔ آہستہ آہستہ اہلحدیث اور دیوبندی تصوف سے دور اور اہل تصوف کو کھاتے رہے اور اب فرداً فرداً چھوڑ کے پوری طرح تصوف و اہل تصوف سے نفرت کرتے ہیں۔ بریلوی بھی بہت سست رفتار سے  ہی سہی اسی طرف جا رہے ہیں اگرچہ قبول نہ کریں کہ ابھی ان میں بڑی بھاری اکثریت تصوف و صوفیاء کرام سے عقیدت و محبت رکھتی ہے۔ 
پھر مودودی آتے اور انہوں نے بھی چشتی،قادری،سہروردی،نقشبندی مسلمانوں کو مسلمان بنایا اور پانچواں دڑھا تشکیل دیا۔ انہوں نے تصوف کو افیم سے تشبیہ دی مگر صوفیاء کرام پہ خاموش رہے۔ اب غامدی اور انجینئر کا دور ہے۔ غامدی مودودی سے دو قدم آگے بڑھ کے کہتے ہیں کہ "تصوف اسلام کے متوازی دین ہے" یعنی آپ ص،حضرت علی کرم۔۔۔حضرت حسن بصری و جنید بغدادی سے ہوتے ہوتے جو دین داتا گنج بخش،عثمان ہارونی،خواجہ اجمیری کے ذریعے بر صغیر پہنچا ،اسلام نہیں تھا۔ نہ اس کو لاکر پھیلانے والے مسلمان تھے اور غامدی سے پہلے و علاوہ جتنے بھی مسلمان ہوئے اور ہیں ،مسلمان ہوئے تھے نہ ہیں۔ انجینئر غامدی سے دو قدم آگے جا رہا ہے۔ یعنی وہ بند الفاظ میں تصوف کو ہی ڈھکوسلا قرار نہیں دے رہا ہے،تمام صوفیاء کرام کو بھی جھوٹے بتا رہا ہے۔ ان دونوں اور معاویائیوں (اہلحدیث و دیوبندیوں کی بڑی تعداد اور بریلویوں کی کم کم) کے ذریعے مسلمانوں میں سے مسلمان بنائے گئے لوگوں کی دس بیس پشت بعد کی اولادوں کا آخری ٹھکانا الحاد ہی نظر آ رہا ہے۔ کہاں سے نکلے ،کہاں ہیں اور کہاں ہوں گے،آشکار ہے۔
خیر،مندرجہ بالا ہر لفظ یہ چھوٹا سا سچ بتانے کے لئے لکھا کہ ،چشتی صوفی آج بھی مریدوں سے سجدہ تعظیمی کرواتے ہیں اور فرض نماز پڑھتے وقت بھی پیر کے بلانے پر نماز پڑھنا چھوڑ کے آنے کا درس دیتے ہیں۔
جسے کم سے کم یہ دونوں باتیں ہضم نہ ہوں توحید کے نام پہ الحاد کے طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں