بدھ، 7 جنوری، 2026

ادیان نو بنو کے نام نہاد مسلمانوں نے نا مسلموں کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا

ادیان نو بنو کے نام نہاد مسلمانوں نے غیر مسلموں کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا۔قانون قدرت: جو رحم نہیں کرتا، اس پہ رحم نہیں کیا جاتا۔ جو عدل نہیں کرتا, اس سے عدل نہیں کیا جاتا۔ یہ اور ایسے ہی دیگر حقوق العباد کے فرائض کسی قوم کے 95% افراد کو ہر جگہ ہر وقت ادا کرنے ہوتے ہیں۔50-60% بھی ادا کریں تب بھی کسی قوم کی رحم دل اور عادل ہونے کی شبیہ نہیں بنتی۔ ہمارے یہاں بمشکل  00.01% لوگ ہی عادل ہوتے ہوں گے۔ یا پھر جانبداری کا نام عدل رکھ لیا ہے۔ یہ سب مزید بڑھتا جائے گا۔
  فرض کریں 2024 میں بی جی پی نہیں بھی آتی ، تب بھی کچھ فرق نہیں پڑے گا ۔ کیونکہ تبدیلی کی ضرورت ہمارے اپنے اندر ہے۔عدل عدل عدل۔ صرف ایک راستہ ہے،خانقاہی نظام کو بحال کرنا۔ مولوی اور ان کے مدرسے تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکے، نہ دے سکیں گے۔ انہوں نے اسلام کو سلامتی کا دین ہی نہیں رہنے دیا،بد امنی،بد تمیزی،بد چلنی، جھوٹ،دھوکے بازی، مکاری،عیاری،تکبر،انا پرستی،میں ماری،جانبداری،بے ایمانی،ناانصافی کا دین بنا دیا ہے۔
مسلمانوں کے دکھاوے کے کاموں کے باوجود دنیا یہی تاثر لے کے شام کو گھر جاتی ہے۔اب دکھنے والے نیک  اعمال اور لباس اسی لئے ناقابل اعتبار ہو گئے ہیں۔فی الوقت مسلمانوں کی یہ کرامات تجربے،مشاہدے اور سننے میں آتی ہیں کہ " ارے واہ ! میں نے اسے بے وقوف بنا دیا"۔ یہ ایک مولوی کا قول ہے جو ایک شناسا مولوی نے بتایا۔ بتانے والے مولوی صلاح مشورے اور دعا کے لئے آئے سیدھے سادھے عقیدت سے بھرے مسلمانوں کو شروع میں اچھا سامان رکھنے،اچھا کھانا پکانے اور سال چھ ماہ بعد ہوٹل یا دکان چل جائے، گھٹیا سامان رکھنے،کھانے کی کوالٹی گھٹانے کی نیک اور فائدہ مند صلاح دیتے دیکھے گئے ۔ کم بیش 18 سال ممبئی میں ہو گئے آج تک کسی مولوی کو حرام اور چھوٹ بولنے سے بچنے کی تلقین کرتے نہیں سنا۔ سب اس کے برعکس تعلیم فرماتے ہیں۔ کوئی صاف صاف کوئی اشارے کنایوں میں۔ہاں ،وہ خود بھی ان معاملوں میں نفاق بالکل نہیں کرتے۔ ایک دن ایک اور نصف مولوی اور پکے نماڑی دیندار سڑک پہ پانچ سات مسلمانوں کو تبلیغ کر رہے تھے " جب تماہرے پاس جیبیں بھر بھر کے نوٹ آتے تھے ,تب تو بچا کے نہیں رکھے! اب کام دھندے کا رونا رونے لگتے ہو۔" ان کا مطلب تھا کہ جب بھی میں تمہیں دین کی دعوت کے لئے کہتا ہوں،تم عذر پیش کر دیتے ہو کہ کام دھندہ نہیں ہے۔چلتے چلتے بات کان میں پڑی تھی اور معلوم بھی نہیں تھا کے مبلغ صاحب کے اطراف کھڑے لوگ ایسا کیا کرتے تھے کہ جیبیں بھر بھر کے نوٹ آتے تھے۔ کافی دنوں تک بیچنی رہی سو کسی سے معلوم کرنے کا فیصلہ کیا کہ آخر پانچ دس سال قبل لوگ کیا کرتے تھے۔معلوم ہوا کہ قریب ہی واقع بہت  بڑے بڑے سرکاری ٹینکوں سے ڈیزل اور پیٹرول چوری کر کے فروخت کیا کرتے تھے_المہر خاں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں