اتوار، 4 جنوری، 2026

#حضرت حجر بن عدیؓ کے فضائل اور شہادت(قتل) !


#حضرت حجر بن عدیؓ کے فضائل اور شہادت(قتل) !

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ لوگوں کو بالکل خاموش کر دو  ( تاکہ وہ خوب سن لیں ).  پھر فرمایا، لوگو! میرے بعد پھر کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
[ 📗: بخاری : ۱۲۱ ]

حافظ ذہبی حجر بن عدی رضی اللہ عنہ و علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں:
“وكان شريفا ، أميرا مطاعا ، أمارا بالمعروف ، مقدما على الإنكار ، من شيعة علي رضي الله عنهما . شهد صفين أميرا ، وكان ذا صلاح وتعبد ”
“وہ عزت دار تھے ، فرماںبردار امیر تھے، (امر بالمعروف ونھی عن المنکر) یعنی نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکنے پر ثابت قدم تھے، سیدنا علی کے شیعہ میں سے تھے ، اللہ (علی اور حجر) دونوں سے راضی ہو ، صفین میں امیر تھے اور صالح اور عبادت گزار تھے۔” [سیر اعلام النبلاء]

زیاد کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے زیاد نے حضرت حجرؓ بن عدی کی جانب انکو بلانے کے لئے بھیجا ، انکو "ابن ادبر" کہا جاتا تھا ۔ حضرت حجرؓ نے آنے سے انکار کر دیا ۔ زیاد نے دوسری مرتبہ بھیجا لیکن انہوں نے اس بار بھی منع کر دیا ۔ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہہ کر بھیجا کہ ' تم ایسے امور کی دم کے پیچھے پڑنے سے بعض آجاو جن امور کے سینوں پر سوار ہونے والے بھی ہلاک ہو گئے ۔'!
{📗مستدرک علی الصحیحین للحاکم: رقم : 5972}
زیاد بن علاثہ فرماتے ہیں : میں نے حجر بن ادبر کو دیکھا جب زیاد نے انکو  امیر معاویہ کی جانب  بھیجا ۔ (انکی یہ کیفیت تھی) کہ انکو اونٹ کے ایک جانب باندھا گیا تھا اور انکے پاوں ایک جانب لٹک رہے تھے !!!
{ 📗مستدرک علی الصحیحین للحاکم: 5973 }
مصعب بن عبد اللہ زبیری فرماتے ہیں کہ حجرؓ  بن عدی الکندی  کی کنیت " ابو عبد الرحمٰن " تھی ۔ آپ رسول ﷺ کی  بارگاہ میں آئے تھے ، جنگ قادسیہ،  جنگ جمل ، جنگ صفین میں سیدنا علیؓ کے ساتھ شریک ہوئے تھے ۔ معاویہ بن ابو سفیان نے انکو مقام " مرج عذراء " پر شہید(قتل) کیا ۔ حضرت حجرؓ  بن عدی ۵۳ ہجری میں شہید(قتل) کئے گئے ۔
{📗:مستدرک علی الصحیحین للحاکم: 5974 }
ابو اسحاقؒ کہتے ہیں : میں نے حجر بن عدی ؓ کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے ! خبردار میں اپنی بیعت پر قائم ہوں ، نا میں نے اسکو توڑا ہے اور نا توڑنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ ( مستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۵۹٧٦ )
محمد بن سیرین ؒ  فرماتے ہیں : زیاد نے خطبہ لمبا کر دیا تو حضرت حجر بن عدی ؓ  نے کہا : نماز کا وقت ہو چکا یے ۔ لیکن زیاد نے اپنا خطبہ جاری رکھا ، ( بنو امیہ  کے گورنر اس وقت اپنے خطبوں میں مولا علی علیہ السلام پر سب و شتم اور لعن طعن کیا کرتے تھے ) ، حضرت حجر ؓ نے دوبارہ کہا نماز کا وقت ہو چکا ہے  اور ساتھ اپنا ہاتھ زمین پر مارا، ان کے ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی ہاتھ زمین پر مارے ۔ زیاد منبر سے اترا اور نماز پڑھا دی ، اور حضرت حجرؓ کے بارے میں امیر معاویہ کی جانب خط لکھا ۔ امیر معاویہ نے جوابی مکتوب میں لکھا کہ ان کو میرے پاس بھیج دو ، زیاد نے انکو امیر معاویہ کے پاس بھیج دیا ، جب حضرت حجر بن عدی ؓ امیر معاویہ کے پاس پہنچے تو کہا : اسلام علیک یا امیر المومنین ! امیر معاویہ  نے کہا کیا  میں امیر المومنین ہوں؟ نا میں تجھ سے کوئی بات کروں گا اور نا تیری سنوں گا !!! امیر معاویہ نے انکے قتل کا حکم دے دیا !!! جب وہ قتل کے لئے لے جائے جا رہے تھے ، انہوں نے نماز پڑھنے کے لئے مہلت طلب کی۔ مہلت دی  گئی۔ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر وصیت کی : میری بیڑیاں مجھ سے نا اتارنا ، اور نا ہی میرے جسم سے میرا خون دھونا ، مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا،  کیونکہ کل ( قیامت کے دن میرا  تمہارے ساتھ ) جھگڑا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں اسکے بعد انکو قتل کر دیا گیا ! انا للہ وانا الیہ رجعون
{📗: مستدرک علی الصحیحین للحاکم:٥٩٨١ ، مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۸۹۵ }
مروان بن حکم کا بیان ہے کہ میں امیر معاویہ کے ہمراہ  ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپؓ نے فرمایا : اے معاویہ تم نے حجر اور انکے ساتھیوں کو شہید کر دیا !!!!!تجھے اس بات سے ذرا خوف نہیں آیا کہ ایک آدمی کو میں نے تمہارے لئے  سنبھال کر رکھا ہوا ہے ، وہ تجھے قتل کر دیگا ؟ امیر معاویہ نے کہا : میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " ایمان اچانک حملہ کرنے سے روکتا ہے " ، مومن اچانک حملہ نہیں کرتا۔
{📗مستدرک علی الصحیحین للحاکم: رقم : ٨٠٣٨ ، اخرجہ احمد فی المسند :  ١٦٩٥٧ ،  قال  الشیخ شعیب ارناوط: اسنادہ صحیح }
حضرت نافعؒ فرماتے ہیں: جب حضرت حجر بن عدی ؓ کو امیر معاویہ کی جانب بھیجا جا رہا تھا،  لوگ بہت حیران تھے اور پوچھتے تھے کہ حجر کا قصور کیا ہے ! ؟
یہ خبر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ تک پہنچی  ، وہ اس وقت بازار میں کسی جگہ روپوش تھے،  آپ نے روپوشی ختم کی اور لوگوں کے درمیان آگئے ۔ وہ واپس جا رہے تھے تو میں انکی پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آوازیں سن رہا تھا ۔
{ 📗: مستدرک علی الصحیحین للحاکم: ٥٩٧٥ }
-SM Enamul Hassan

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں