اتوار، 4 جنوری، 2026

آیت مباہلہ,سعد بن وقاص رض اور معاویہ


آیت مباہلہ,سعد بن وقاص رض اور معاویہ

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ  کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾
اللہ تعالٰی کے نزدیک عیسیٰ  ( علیہ السلام )  کی مثال ہوبہو آدم  ( علیہ السلام )  کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہوجا !پس وہ ہوگیا ۔ 

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا ۔ 

فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾

اس لیے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں ،  پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ۔ 

[ القرآن : سورة آل عمران: ٦١_ ۵۹ ]

بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، کہا : آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب ( حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کو برا کہیں ۔ انھوں نے جواب دیا : جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) سے کہی تھیں ، میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا ۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہو تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہو گی ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ، آپ ان سے ( اس وقت ) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا ، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے ۔‘‘ اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا :’’ اب میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ کہا : پھر ہم نے اس بات ( کا مصداق جاننے ) کے لئے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر ( ہر طرف ) دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ علی کو میرے پاس بلاؤ ۔‘‘ انھیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا ۔ آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا انھیں عطا فرما دیا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا ۔ اور جب یہ آیت اتری : ( تو آپ کہہ دیں : آؤ ) ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں ۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن ، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا :’’ اے اللہ ! یہ میرے گھر والے ہیں ۔‘‘

{ 📗: مسلم شریف: 6220 }
- SM Enamul Hassan

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں