بدھ، 7 جنوری، 2026

"سب و شتم" کی تحقیق، حقیقی معانی و مطالب اور متبادل مرکب-المہر خاں

"سب و شتم"  کی تحقیق، حقیقی معانی و مطالب اور متبادل مرکب-المہر خاں 

گزشتہ ڈیڑھ صدی سے بر صغیر کے مسلمانوں کا واسطہ ایک مرکب " سب و شتم " سے پڑ رہا ہے۔اس سے قبل ایسا بالکل نہیں تھا۔ مسلمانوں کو اس مرکب کے معانی و مطالب جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔ بر صغیر میں دین محمدی ص کی تبلیغ و ترویج کرنے والے صوفیاء کرام  ہرکز نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ہونے والوں کے دل و دماغ میں اسلام وحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے تئیں کسی قسم کا شک و شبہ اور دشمنان علی کے لئے نفرت و کدورت پروان چڑھیں۔انہوں نے اسی طرح کی وجوہات کے پیش نظر دشمنان علی کا انتہائی ضرورت کے علاوہ کبھی بھی مجالس عامہ میں تذکرہ نہیں کیا۔ لیکن جیسے کے اوپر ذکر کیا گیا،ڈیڑھ صدی سے  خصوصاً فی الوقت اس مرکب کے حقیقی صحیح معانی و مطالب جاننے و عام کرنے کی اشد ضرورت آن پڑی ہے۔ اس تعلق سے مختصر سی تحقیق پیش خدمت ہے:- 
                              ' سب وشتم ' کا صحیح ترین ترجمہ اور معانی ' بہت زیادہ یا بہت سخت گالی گلوچ کرنا ' ہی ہو سکتا ہے۔ بہت زیادہ یا بہت سخت اور گالی گلوچ کے علاوہ الفاظ کے کسی بھی مرکب سے ' سب و شتم ' کے معانی و مطالب ادا نہیں ہوتے نہ بر صغیر کے اردو داں عوام اس کے صحیح پس منظر،اثرات اور پسر ہندہ جگر خور کی پالیسی ، حضرت علی رض سے نفرت و کدورت و ذہنیت اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی مظلومیت،حق حقوق و قدر و منزلت سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔

" سب و شتم " اصطلاح کے پیچھے بغض و کینے کا ایک پورا نظام و نظریہ،داستان و تاریخ پوشیدہ ہے۔ دانستہ طور پر ان (بہت زیادہ یا بہت سخت گالی گلوج کرنا) سے ہلکے الفاظ میں 'سب و شتم ' کا مفہوم ادا کرنے کی کوشش کرنے والے،کوشش میں ناکام،بددیانتی و حق سے کھلواڑ کے مرتکب، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے باغی اور پسر ہندہ جگر خور کے طرفدار قرار پاتے ہیں۔

حق تبھی تک حق ہے جبتک خالص ہے،پورا ہے۔مثلا، یہ کہنا پورا حق نہیں کہ آپ ص نے فرمایا " اے ! عمار تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔" یہ حق اور آپ ص کے ساتھ کھلواڑ،ان کی توہین و تذلیل۔۔۔ہے۔پورا حق ، پورا فرمان رسول ص پیش کرنے سے ہی ہوگا ، کتر بیونت کرنے سے نہیں۔ فرمان رسول ص آگے ہے،" تو اسے جنت کی طرف بلاتا ہوگا اور وہ تجھے جہنم کی۔"

مصباح اللغات میں 'سبہ' (سین پہ زبر،ب پہ تشدید و زبر اور ہ پہ الٹا پیش)  کے معانی 'سخت گالی دینا' درج ہیں۔'شتمہ' ( شین بہ زبر،ت پہ تشدید و زبر،میم پہ زبر اور ہ پہ الٹا پیش) کے معنی 'بہت گالی دینا' رقم ہیں۔  الشتام(شین بہ زبر،ت پہ تشدید و زبر) بہت گالی دینے والا۔ شتم و سب و شاتم غالباً موارد ہیں،مصباح اللغات میں نہیں ملے اور المنجد کے احقر کے پاس نسخے میں ' سبہ 'کے معنی وہی درج ہیں جو مصباح اللغات میں۔ 'شتمہ' ملا نہیں کہ 499 سے 514 تک کے صفحے غائب ہیں یا کہیں دوسری جگہ منسلک۔

                       ایک حیران کن بات اور، اردو کی معتبر ترین لغت فرہنگ آصفیہ میں 'سب و شتم ' لفظ ہی نہیں ، نہ ایس ڈبلیو فیلن صاحب کی "اے نیو ہندستانی- انگلش" لغت میں۔ فرہنگ عامرہ میں 'سب' اور 'شتم ' الگ الگ اپنے مقام پہ درج ہیں۔ اس میں 'سب ' کے معنی گالی اور 'شتم ' کے معانی 'گالی گلوچ' درج ہیں۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ' سب و شتم ' کے حقیقی اور صحیح معانی و مفاہیم کو ادا کرنے اور عوام الناس تک پہنچانے کے لئے ' بہت زیادہ گالی گلوچ کرنا، ہی لکھنا بولنا لازم و ملزوم ہے۔
 آخر آصفیہ و فیلن صاحب کی لغت میں یہ مرکب یا دونوں لفظ کیوں درج نہیں؟ یہی حیران کن بات ہے! 
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک جب یہ دونوں لغات تالیف کی گئیں، بر صغیر کے مسلمان پسر ہندہ جگر خور کو جانتے ہی نہیں تھے۔ اس دور تک کے لوگوں کے لئے یہ ضروری الفاظ نہیں تھے کہ درج کئے جاتے۔اسی وجہ سے مسلم معاشرے میں رائج تھے نہ کسی کو ان کے معانی جاننے کی ضرورت تھی،سو درج بھی نہیں کئے گئے ۔ فرہنگ عامرہ ان دونوں سے بعد کی تالیف ہے،ناصبی پیدا ہو گئے ہیں۔پسر ہندہ جگر خور کو کھوج کھوج کے زندہ کیا جانے لگا ہے، مگر اتنا نہیں ہوا کہ لغت میں ' سب و شتم ' کو مرکب کے طور پہ اور اس کے حقیقی صحیح معانی و مطالب و مفاہیم کے ساتھ درج کرنے کی ضرورت ہو۔
فیروز اللغات آتے آتے وہ دور آ گیا کہ ناصبی زور مارنے لگے اور مسلمان خدا مست ہی رہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ مؤلف نے'سب و شتم' کے معانی فقط "گالی گلوج " درج کئے۔ حالانکہ بہت زیادہ یا بہت سخت گالی گلوج رقم کرنے چاہئیں تھے۔ بے شک اس میں اولا ' لعن طعن کرنا' درج ہیں مگر یہ اس مرکب کے حقیقی صحیح معانی کو عوام الناس کے ذہنوں میں نہیں اتار سکتے۔ تیسرے معانی 'برا بھلا کہنا ' درج ہیں۔ یہ مرکب ' سب و شتم ' کے حقیقی صحیح معانی و مطالب کی قطعاً ترجمانی نہیں کرتا جیسے کہ مصباح اللغات و المنجد میں درج ہیں۔

"سب و شتم " یعنی بہت زیادہ گالی گلوچ کرنا۔

خدا سے دعا و امید ہے کہ حق تعالیٰ حق کے متلاشیوں کی ضرورت اس ادنی سی تحقیق سے پوری فرمائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں