بدھ، 7 جنوری، 2026

مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت


مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت 
مولا حسین علیہ السلام مدینہ سے کیوں نکلے؟ کچھ پتہ نہیں  راوی سویا ہوا تھا۔ مکہ میں کیا کیا؟ ابھی راوی کی نیند پوری نہیں ہوئی۔ تھوڑی دیر کیلئے راوی کی آنکھ کھلی تو قافلے والے مولا کو روک رہے تھے کوفہ نہیں جانا۔ تو کروٹ لے کے سو گیا۔ پھر خواب میں دیکھا کہ سپاہیوں نے روک لیا ہے۔ پھر راوی کا خواب ٹوٹ گیا۔ پھر امام ع کو تیر لگا سر کاٹا گیا۔ کس نے کیسے کاٹا باقی قافلے والے کہاں گئے۔ راوی تو سویا ہوا تھا۔ بس صحیح راوی نماز صبح پڑھ کر جونہی ابن زیاد سے ملنے گیا تو امام حسین علیہ السلام کا سر پڑا دیکھا۔ ابن زیاد نے صحیح راوی کو پریشانی کے عالم میں بتایا کہ ،،  یار صحیح راوی دیکھ بھلا صبح صبح نجانے کون کسی کا سر کاٹ کے میرے دربار میں چھوڑ گیا،،
تو صحیح راوی نے کہا پا جی فی الحال خاموشی بہتر ہے۔ اے گل کسے نو نی کرنی۔  1400 سال بعد اک مولبی نوں دساں گے او آپی سنبھال لے گا۔
تیری مہربانی مولبی تونے پیدا ہو کے احسان کیا ہے امت پہ۔ نہیں تو 60 ہجری سے لے کر آج تک سب خاموش تھے اور ڈرے ہوئے بھی تھے۔ اب تونے بات کھول دی واضح کر دی۔ اب صحیح راوی ابن زیاد،  تیرا روحانی یاشاید اصلی ابا یزید کی روح سکون محسوس کر رہی ہوگی۔
در فٹے منہ تیرا مردود۔
پاگل سمجھتا ہے سب کو؟ آج کل لوگ تیرے سے زیادہ عقلمند ہیں۔ تیرے فیس امپریشن بتا رہے ہیں تو کس کی نمک حلالی کر رہا ہے۔منقول

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں