بدھ، 7 جنوری، 2026

#اکابرین_دیوبند_کے_مرشد_میلاد_مناتے_تھے

 #اکابرین_دیوبند_کے_مرشد_میلاد_مناتے_تھے

جمیع اکابرینِ دیوبند کے پیرو مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

”مشرب(طریقہ) فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مولود میں شریک ہوتا ہوں ، بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں ، اور قیام میں لُطف و لذت پاتا ہوں۔“

[کلیاتِ امدایہ، رسالہ فیصلہ ہفت مسئلہ ، 80، مطبوعہ دار الاشاعت کراچی]

#گنگوھی_کی_چالاکی

کیونکہ "فیصلہ ہفت مسئلہ" میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اھلسنت کے عقائد لکھے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدد کر سکتے ہیں، یارسول اللہ مدد پکار سکتے ہیں ، "یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئا للہ" پڑھ سکتے ہیں، عرس مناجائز ہے، "الصلوة والسلام علیك یارسول اللہ" پڑھنا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ جہاں چاہیں ایک آن میں متعدد جگہ جا سکتے ہیں" ، "محفلِ میلاد میں خود منعقد کرتا" ، "ہوں قیام میں لُطف سرور ملتا ہے"۔

جب یہ ساری چیزیں اکابرین دیوبند کے پیرو مرشد نے لکھی تو علماء دیوبند کیلئے جان چھڑانا مشکل ہو گیا کیونکہ انہی سب چیزوں کو یہ لوگ شرک و بدعت کہتے ہیں۔ 
گنگوھی نے چالاکی اپناتے ہوئے انکار کر دیا کہ رسالہ "فیصلہ ہفت مسئلہ"حاجی امداد اللہ مہاجرمکی" صاحب کا لکھا ہوا نہیں ہے۔

چنانچہ مولوی رشید احمد گنگوھی لکھتا ہے کہ:

”یہ رسالہ انکا لکھا ہوا نہیں ہے کسی نے لکھا انکو سُنا دیا انہوں نے اصل مطلب کو دیکھ کر اباحب (جواز) کی تصحیح کر دی۔“

[فتاویٰ رشیدیہ، کتاب العلم، صفحہ 159، عالمی مجلس تحفظِ اسلام کراچی]

گنگوھی نے جان چھڑانے کی کوشش تو بہت کی لیکن اسکے جھوٹ پر "حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب" نے خود پانی پھیر دیا۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب فرماتے ہیں:

”سُنا ہے کہ "فیصلہ ہفت مسئلہ" کے اوپر بھی اکثر لوگ اشتباہ کرتے ہیں کہ وہ فقیر کا لکھا ہوا نہیں ہے ، مگر افسوس ہے کہ یہ نہیں دیکھتے کہ خواہ کسی کا لکھا ہوا ہو ، حق بات کو سمجھیں ، اور وہ رسالہ فقیر ہی نے لکھا ہے“

[امداد المشتاق، صفحہ174، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]

گنگوھی نے جان چھڑانے کیلئے جو محل تعمیر کیا تھا حاجی صاحب نے دھڑم سے اسے گرا کر دیوبندیت کے منہ پر تمانچہ رسید کر دیا۔
حاجی صاحب فرماتے ہیں کہ افسوس ہے کہ حق بات کو نہیں سمجھتے جیسا کہ گنگوھی نے حق بات کو نہیں سمجھا، اسی لئے ایسے لوگوں پر انہی کے مانے ہوئے پیر و مرشد افسوس کر رہے ہیں-منقول

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں