اتوار، 4 جنوری، 2026

" عمارؓ کو خوارج نے قتل کیا'' کا رد

 " عمارؓ کو خوارج نے قتل کیا'' کا رد

ابن حجر عسقلانی ابن بطال کا ردّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لِأَنَّ الْخَوَارِجَ إِنَّمَا خَرَجُوا عَلَى عَلِيٍّ رضی ا لله عنہ بَعْدَ قَتْلِ عَمَّارٍ رضی ا لله عنہ بِلَا خِلَافٍ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ، بِذَلِكَ فَإِنَّ ابْتِدَاءَ أَمْرِ الْخَوَارِجِ كَانَ عَقِبَ التَّحْكِيمِ، وَكَانَ التَّحْكِيمُ عَقِبَ انْتِهَاءِ الْقِتَالِ بِصِفِّينَ، وَكَانَ قَتْلُ عَمَّارٍ رضی ا لله عنہ قَبْلَ ذَلِكَ قَطْعًا، فَكَيْفَ يَبْعَثُهُ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ بَعْدَ مَوْتِهِ.

(ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 1/542).

ابن بطال نے مہلّب کی پیروی میں کہا ہے: یہ بات اُن خوارج کے بارے میں درست ہے جن کی طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا کہ وہ اُنہیں جماعت کی طرف بلائیں، اور یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کے بارے میں کہنا صحیح نہیں ہے۔ اس بات میں شارحین کی ایک جماعت نے اُن کی پیروی کی ہے، لیکن اس میں کئی وجوہ سے کلام (یعنی اعتراض) ہے۔

اس لیے کہ خوارج نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد کیا تھا، اس سلسلے میں اہل علم کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ خوارج کے معاملہ کا آغاز تحکیم کے بعد اور جنگ صفین کے خاتمہ پر ہوا، جب کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت قطعی طور پر اس سے قبل (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج کے ہاتھوں ) ہو چکی تھی، سو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُنہیں اُن کے شہید ہونے کے بعد خوارج کی طرف کیسے بھیج دیا تھا؟ (لہٰذا یہ بات خلافِ واقعہ اور خلافِ حقیقت ہے۔)۔-ابو محمد السلفی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں