باب علم Baab-e-ilm
بدھ، 4 نومبر، 2026
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔۔
جمعہ، 14 اگست، 2026
بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !
ہفتہ، 4 جولائی، 2026
مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب
مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب
وَتَحَرَّوْا لِحَرْبِ عَدُوِّکُمْ، فَانْتَبِهُوا إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ الطلقاء وَأَبْنَاءَ الطلقاء وَ أَهْلَ الْجَفَاءِ، وَ مَنْ أَسْلَمَ کَرْهاً... وَلِلْإِسْلَامِ کُلِّهِ حَرْباً، أَعْدَاءَ السُّنَّةِ وَالْقُرْآنِ، وَ أَهْلَ الْبِدَعِ وَالْأَحْدَاثِ، وَ أَکَلَةَ الرِّشَا، وَ عَبِیدَ الدُّنْیا:
دشمنوں سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اور جان لو کہ تم طلقاء اور ان کے اہل جفا بیٹوں سے نبرد آزما ہو، جو دباؤ کے تحت ڈر کے مارے اسلام لائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اسلام سے جنگ کرتے رہے۔ یہ لوگ قرآن و سنت کے دشمن ہیں۔ یہی لوگ اہل بدعت ہیں۔ یہی لوگ راشی اور دنیا کے رسیا بندے ہیں۔
(دینوری، ابنقتیبه؛ الامامه والسیاسه، بیروت، دارالاضواء، 1410 ق، طبع اول، ص178.)
بدھ، 7 جنوری، 2026
ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟
ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ
باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟
---------------
کریم آقاﷺ کا فرمان
فمر به النبي صلى الله عليه وسلم ، ومسح عن راسه الغبار ، وقال : " ويح عمار تقتله الفئة الباغية عمار يدعوهم إلى الله ، ويدعونه إلى النار
اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہونگے ۔
حدیث نمبر: 2812
صحیح بخاری
----------
( معاویہ بن ابوسفیان کے گروہ میں شامل)
ابوالغادیہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا، اور جب کبھی معاویہ وغیرہ کے پاس جاتا تو کہتا: "دروازے پر عمار کا قاتل آیا ہے"۔ وہ پوچھنے پر لوگوں کو قتل کی تفصیل بتاتا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا۔
(الاستيعاب لِابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113، أسد الغابة لِابن الثیر: 5/ 237/ 6140، تعجيل المنفعة لابن حجر: 2/ 519/ 1364)منقول۔
میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو ( خمس میں سے ) کچھ نہیں دیا تھا۔ابو داؤود+ مختصر تاریخ -ابن عبدالوہاب
مروان دیوبند کی نظر میں،فتوی
سوال نمبر: 42656
عنوان:مروان بن حکم کون ہے ؟
سوال:میرا آپ سے سوال یہی ہے کہ مروان بن حکم کون ہے ؟کیا وہ صحابی ہیں؟ان کا کردار کیسا ہے؟ان کی والدصحابی تھے ؟ تو انکو رسول ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک بدر کیوں کیا تھا؟اور کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا تھا اور ان کا حمل گروایا تھا، کیا یہ روایت صحیح یا نہیں؟
جواب نمبر: 42656
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 9-126/D=2/1434 (۱) مروان بن الحکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں، ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کسی نے وثوق کے ساتھ ان کو صحابی نہیں کہا ہے۔ (الاصابة: ۳/۴۷۷) (۲) ان کا کردار کیسا ہے؟ کردار سے کیا مراد ہے، واضح کریں۔ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان صحابہ تابعین اور فقہاء المسلمین کے نزدیک عادل اور امت کے عظیم اشخاص میں ہیں، ان سے صحابہ میں حضرت سہل بن سعد نے روایتیں لی ہیں، تابعین میں حضرت علی زین العابدین سعید بن المسیب، عروہ بن الزبیر، ابوبکر بن عبدالرحمن الحارث، عبید اللہ بن عبد اللہ جیسے جلیل القدر علماء اور محدثین نے حدیثیں روایت کی ہیں، فقہاء میں سبھی نے ان کی عظمت اور خلافت کو تسلیم کیا ہے، ان کے فتاے کو قابل التفات سمجھا اور ان کی حدیثوں پر اعتماد کیا ہے، رہے بیوقوف قسم کے ادباء اور موٴرخین ان کا تذکرہ اپنی اپنی حیثیت سے کرتے ہیں۔ (العواصم من القواصم) (۳) علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم بن ابی العاص کی جلا وطنی کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں (منہاج السنہ) بعض تاریخی روایات میں اس کا ذکر ہے تو ممکن ہے کسی وقتی مصلحت کی بنیاد پر ایسا کیا ہو۔ (۴) یہ روایت من گھڑت اور موضوع ہے۔ دیکھئے منہاج السنہ لابن تیمیہ: ۳/۱۲۸)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت
مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت
مولا حسین علیہ السلام مدینہ سے کیوں نکلے؟ کچھ پتہ نہیں راوی سویا ہوا تھا۔ مکہ میں کیا کیا؟ ابھی راوی کی نیند پوری نہیں ہوئی۔ تھوڑی دیر کیلئے راوی کی آنکھ کھلی تو قافلے والے مولا کو روک رہے تھے کوفہ نہیں جانا۔ تو کروٹ لے کے سو گیا۔ پھر خواب میں دیکھا کہ سپاہیوں نے روک لیا ہے۔ پھر راوی کا خواب ٹوٹ گیا۔ پھر امام ع کو تیر لگا سر کاٹا گیا۔ کس نے کیسے کاٹا باقی قافلے والے کہاں گئے۔ راوی تو سویا ہوا تھا۔ بس صحیح راوی نماز صبح پڑھ کر جونہی ابن زیاد سے ملنے گیا تو امام حسین علیہ السلام کا سر پڑا دیکھا۔ ابن زیاد نے صحیح راوی کو پریشانی کے عالم میں بتایا کہ ،، یار صحیح راوی دیکھ بھلا صبح صبح نجانے کون کسی کا سر کاٹ کے میرے دربار میں چھوڑ گیا،،
تو صحیح راوی نے کہا پا جی فی الحال خاموشی بہتر ہے۔ اے گل کسے نو نی کرنی۔ 1400 سال بعد اک مولبی نوں دساں گے او آپی سنبھال لے گا۔
تیری مہربانی مولبی تونے پیدا ہو کے احسان کیا ہے امت پہ۔ نہیں تو 60 ہجری سے لے کر آج تک سب خاموش تھے اور ڈرے ہوئے بھی تھے۔ اب تونے بات کھول دی واضح کر دی۔ اب صحیح راوی ابن زیاد، تیرا روحانی یاشاید اصلی ابا یزید کی روح سکون محسوس کر رہی ہوگی۔
در فٹے منہ تیرا مردود۔
پاگل سمجھتا ہے سب کو؟ آج کل لوگ تیرے سے زیادہ عقلمند ہیں۔ تیرے فیس امپریشن بتا رہے ہیں تو کس کی نمک حلالی کر رہا ہے۔منقول
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔۔
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے برصغیر میں اسلام بزرگان دین سے آیا نہ کہ تلوار والے لٹیروں کی وجہ سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ کون سا اسلام ہے ج...
-
ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟ --------------- کریم آقاﷺ کا فرمان فمر به النبي صلى...
-
بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن ! ابوالکلام آزاد کے تجزیے کا عبدالملک بن مروان کے عمل سے ثبوت : پہلے قول ...
-
سوال نمبر: 42656 عنوان: مروان بن حکم کون ہے ؟ سوال: میرا آپ سے سوال یہی ہے کہ مروان بن حکم کون ہے ؟کیا وہ صحابی ہیں؟ان کا کردار کیسا ہے؟...