پیر، 22 جون، 2026

بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !


بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !
 ابوالکلام آزاد کے تجزیے کا عبدالملک بن مروان کے عمل سے ثبوت :

پہلے قول ابوالکلام آزاد:

بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن :

ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر قیامت کے دن دنیا کے ظالموں کی صفیں عام فساق و فجار سے الگ قرار دی جائیں تو ان میں سب سے پہلی صف یقینا (بنی امیہ) کی ہوگی۔ انہی ظالموں نے اسلام کی اس روح حریت کو غارت ظلم و استبداد کیا اور اس کے عین عروج اور نشوونما کے وقت اس کی قوت نمو کو اپنے اغراض شخصیہ کے لیے کچل ڈالا۔ ان کا اقتدار و تسلط فی الحقیقت "امر بالمعروف " کے سد باب کا پہلا دن تھا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اسلام کی جمہوریت کو غارت کرکے اس کی جگہ شخصی حکومت کی بنیاد ڈالی "جو یقینا اعتقاد قرآنی کی رو سے کفر جلی ہے" بلکہ سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اظہار حق اور امر بالمعروف کی قوت کو تلوار کے زور سے دبا دینا چاہا اور مسلمانوں کی حق گوئی کے ترقی کناں ولولے کو مضمحل کر دیا۔ تاہم چونکہ عہد نبوت کا فیضان روحانی اور تعلیم قرآنی کا اثر ابھی بالکل تازہ تھا اس لیے اگرچہ طرح طرح کی بدعات اور محدثات و معاصی کا بازار گرم ہو گیا تھا لیکن پھر بھی "امر بالمعروف " کی آواز کی گرج کوفہ و دمشق کے ایوان ومحل کو لرزا دیتی تھی ۔
اب قول عبدالملک بن مروان:

زبانیں بند کرانا حق کہنے سے :

حق کی آواز کو خاموش کرانا، کس کی ایجاد ہے ؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے عرب اور مروان کے سارے خاندان میں عبدالملک بن مروان (اموی خلیفہ) سے بڑھ کر کوئی شخص ظالم اور فاسق وکافر نہیں تھا اور عبدالملک کے مقرر کردہ تمام عمال (گورنروں) میں کوئی عامل حجاج سے بڑھ کر ظالم اور فاسق و کافر نہیں تھا۔ عبدالملک ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام سر انجام دینے والے لوگوں کی زبانیں کاٹ ڈالی تھیں۔ ایک دفعہ منبر پر چڑھ کر کہنے لگا۔” خدا کی قسم ! میں کوئی کمزور خلیفہ نہیں ہوں۔ (اشارہ حضرت عثمان کی طرف تھا) اور نہ ہی کوئی مصلحت کوش خلیفہ (اشارہ حضرت معاویہ کی طرف تھا) تم لوگ ہمیں بہت سی باتیں کرنے کا حکم دیتے ہو اور خود یہ باتیں اپنی ذات کے سلسلے میں بھول جاتے ہو۔ خدا کی قسم آج کے بعد جو شخص بھی مجھ سے تقویٰ اور اللہ سے ڈرنے کی بات کرے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔

قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِى الظّٰلِمِيۡنَ
 خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کیلئے نہیں ہوا کرتا۔

احکام القرآن
مفسر: امام ابوبکر الجصاص
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 124
۔
۔
۔

بدھ، 7 جنوری، 2026

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ
باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟
---------------
کریم آقاﷺ کا فرمان
فمر به النبي صلى الله عليه وسلم ، ومسح عن راسه الغبار ، وقال : " ويح عمار تقتله الفئة الباغية عمار يدعوهم إلى الله ، ويدعونه إلى النار
اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہونگے ۔
حدیث نمبر: 2812
صحیح بخاری
----------
( معاویہ بن ابوسفیان کے گروہ میں شامل)
ابوالغادیہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا، اور جب کبھی معاویہ وغیرہ کے پاس جاتا تو کہتا: "دروازے پر عمار کا قاتل آیا ہے"۔ وہ پوچھنے پر لوگوں کو قتل کی تفصیل بتاتا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا۔

(الاستيعاب لِابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113، أسد الغابة لِابن الثیر: 5/ 237/ 6140، تعجيل المنفعة لابن حجر: 2/ 519/ 1364)منقول۔

میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو  ( خمس میں سے )  کچھ نہیں دیا تھا۔ابو داؤود+ مختصر تاریخ -ابن عبدالوہاب 

مروان دیوبند کی نظر میں،فتوی

سوال نمبر: 42656 

عنوان:مروان بن حکم کون ہے ؟

سوال:میرا آپ سے سوال یہی ہے کہ مروان بن حکم کون ہے ؟کیا وہ صحابی ہیں؟ان کا کردار کیسا ہے؟ان کی والدصحابی تھے ؟ تو انکو رسول ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک بدر کیوں کیا تھا؟اور کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا تھا اور ان کا حمل گروایا تھا، کیا یہ روایت صحیح یا نہیں؟

جواب نمبر: 42656

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 9-126/D=2/1434 (۱) مروان بن الحکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں، ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کسی نے وثوق کے ساتھ ان کو صحابی نہیں کہا ہے۔ (الاصابة: ۳/۴۷۷) (۲) ان کا کردار کیسا ہے؟ کردار سے کیا مراد ہے، واضح کریں۔ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان صحابہ تابعین اور فقہاء المسلمین کے نزدیک عادل اور امت کے عظیم اشخاص میں ہیں، ان سے صحابہ میں حضرت سہل بن سعد نے روایتیں لی ہیں، تابعین میں حضرت علی زین العابدین سعید بن المسیب، عروہ بن الزبیر، ابوبکر بن عبدالرحمن الحارث، عبید اللہ بن عبد اللہ جیسے جلیل القدر علماء اور محدثین نے حدیثیں روایت کی ہیں، فقہاء میں سبھی نے ان کی عظمت اور خلافت کو تسلیم کیا ہے، ان کے فتاے کو قابل التفات سمجھا اور ان کی حدیثوں پر اعتماد کیا ہے، رہے بیوقوف قسم کے ادباء اور موٴرخین ان کا تذکرہ اپنی اپنی حیثیت سے کرتے ہیں۔ (العواصم من القواصم) (۳) علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم بن ابی العاص کی جلا وطنی کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں (منہاج السنہ) بعض تاریخی روایات میں اس کا ذکر ہے تو ممکن ہے کسی وقتی مصلحت کی بنیاد پر ایسا کیا ہو۔ (۴) یہ روایت من گھڑت اور موضوع ہے۔ دیکھئے منہاج السنہ لابن تیمیہ: ۳/۱۲۸)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت


مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت 
مولا حسین علیہ السلام مدینہ سے کیوں نکلے؟ کچھ پتہ نہیں  راوی سویا ہوا تھا۔ مکہ میں کیا کیا؟ ابھی راوی کی نیند پوری نہیں ہوئی۔ تھوڑی دیر کیلئے راوی کی آنکھ کھلی تو قافلے والے مولا کو روک رہے تھے کوفہ نہیں جانا۔ تو کروٹ لے کے سو گیا۔ پھر خواب میں دیکھا کہ سپاہیوں نے روک لیا ہے۔ پھر راوی کا خواب ٹوٹ گیا۔ پھر امام ع کو تیر لگا سر کاٹا گیا۔ کس نے کیسے کاٹا باقی قافلے والے کہاں گئے۔ راوی تو سویا ہوا تھا۔ بس صحیح راوی نماز صبح پڑھ کر جونہی ابن زیاد سے ملنے گیا تو امام حسین علیہ السلام کا سر پڑا دیکھا۔ ابن زیاد نے صحیح راوی کو پریشانی کے عالم میں بتایا کہ ،،  یار صحیح راوی دیکھ بھلا صبح صبح نجانے کون کسی کا سر کاٹ کے میرے دربار میں چھوڑ گیا،،
تو صحیح راوی نے کہا پا جی فی الحال خاموشی بہتر ہے۔ اے گل کسے نو نی کرنی۔  1400 سال بعد اک مولبی نوں دساں گے او آپی سنبھال لے گا۔
تیری مہربانی مولبی تونے پیدا ہو کے احسان کیا ہے امت پہ۔ نہیں تو 60 ہجری سے لے کر آج تک سب خاموش تھے اور ڈرے ہوئے بھی تھے۔ اب تونے بات کھول دی واضح کر دی۔ اب صحیح راوی ابن زیاد،  تیرا روحانی یاشاید اصلی ابا یزید کی روح سکون محسوس کر رہی ہوگی۔
در فٹے منہ تیرا مردود۔
پاگل سمجھتا ہے سب کو؟ آج کل لوگ تیرے سے زیادہ عقلمند ہیں۔ تیرے فیس امپریشن بتا رہے ہیں تو کس کی نمک حلالی کر رہا ہے۔منقول

قرآن و حدیث ،قرآن و حدیث کے چرچے اور حقیقت !

قرآن و حدیث ،قرآن و حدیث کے چرچے اور حقیقت !
                                                                -المہر خاں
آج کل قرآن و حدیث پہ عمل کرنے پر بڑا زور دیا جا رہا ہے۔جدھر دیکھو یہی صدا سنائی دیتی ہے کہ قرآن پہ عمل کرو اور احادیث پہ۔ ان میں جو واقعی کسی قابل ہیں،ان کی بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخر وہ اس بات پہ اتنا زور کیوں دے رہے ہیں؟ در اصل ان کی کردان کا واحد مقصد آپ ص کے نبوت و رسالت کا اعلان فرمانے کے دن سے آج تک کی تاریخ سے مسلمانوں کا دھیان ہٹانا ہے، تاکہ بنو امیہ کے کارناموں کو چھپا لیا جائے۔ احادیث میں وارد کوئی کارنامہ سامنے آ ہی جائے تو اس کی آسانی سے ایسی تاویل و تشریح کر دی جائے کہ لوگ تاریخ سے نابلد ہونے اور بے وقعت ماننے کی بنا پر برضا و رغبت ہضم کر لیں۔ جو باز نہ آئیں اور پڑھ ہی لیں ان کی تعداد اتنی نہ ہوگی کہ معاشرے پہ اثرانداز ہو سکیں۔ پھر یہ بھی کہ تاریخ کو بھی مخدوش،احادیث کو توڑ مروڑ اور قرآن کی آیتوں کو کہیں سے کہیں منطبق کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی جنہیں اپنی مادری زبان بھی ٹھیک سے نہیں آتی اور گردان کرتے رہتے ہیں کلام اللہ و کلام رسول اللہ ص  پہ عمل کرنا ہی سنت اور اسلام پہ عمل کرنا ہے۔ورنہ بدعت ہی بدعت ہے اور بدعت شرک کا راستہ ہے۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راقم کو عربی نہیں آتی۔ جن کو آتی تھی اور خوب آتی تھی،وہی آتی تھی جس میں خدا نے کلام فرمایا،اہل زبان تھے۔ کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان ہی کے زبان و بیان،اسرار و رموز ،لہجے،طرز تخاطب،محاوروں اور امثال میں ا پنے محبوب ص کے ذریعے‌ خطاب فرمایا۔                    

خدا نے کتاب سے پہلے ان میں ان میں سے ہی ان کو علم و حکمت (prectically) سکھانے کے لئے نبی و رسول(ص) مبعوث فرمایا۔اسے(ص) تربیت کے مراحل سے گزارا۔ اس (ص) پر حالات کے مطابق ہر ضرورت کے وقت آیتیں نازل کر کے 23 سال میں قرآن مکمل کیا۔

آپ ص کے بعد کسی طرح ایک ڈیڑھ سال گزرآ؛ شدید ضرورت پیش آئی کہ قرآن جمع کر کے لکھوا دیا جائے۔ قلمبند ہوا تو بارہ چودہ سال بعد پھر مشکل پیش آئی‌۔ اب اس کی قرائتیں بھی معین کرنی پڑیں مگر ایک چیز منسلک، جسے حاشئے میں درج کیا جا سکتا تھا،نہیں کی گئی۔ بلکہ لانے والے کو کہا گیا ' اسے لے جاؤ ! ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔' چیز تھی آیتوں کے شان نزول کی کتاب۔ بھیجی تھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرات عثمان غنی رض کے پاس فرزند ارجمند حضرت محمد بن حنفیہ رح کے ہاتھ اور ہر نزول آیت کے موقع پہ بڑے اہتمام سے 23 سال کے طویل عرصے میں قلمبند کی گئی تھی۔

مصیبت پہلے ہی سر ابھار چکی تھی، اب ہمیشہ کے لئے گلے پڑ گئی۔حالانکہ بہت بعد میں سخت جاں فشانی سے چھان بین کی گئی مگر مرض پوری طرح لا علاج ہو چکا تھا۔ سو آج تک دانستہ یا نادانستہ قرآن کی آیتوں کو کہیں سے کہیں فٹ کیا جاتا ہے۔ایک کا حق دبا کے دوسرے کو دیا جاتا ہے۔اسے تحریف قرآن نہ بھی کہیں، ہیر پھیر کہنا، یقینا درست ہے۔ مثلأ، سورہ الحدید،آیت10،کو بعض علماء نے مؤلفۃ القلوب طلقاء سے منسوب کر دیا حالانکہ اس کے الفاظ و معانی کا صحیح ترین انطباق، شان نزول اور موقع و محل احادیث کے مطابق بھی صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکے سے قبل برضا و رغبت مسلمان ہوئے اصحاب رسول (ص) پہ ہی ہوتا ہے۔مثلا، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص رض وغیرہ وغیرہ وغیرہ،جو صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکے سے قبل از خود مکے سے مدینے جاکر مسلمان ہوئے تھے اور پچیس پچاس ہزار دیگر۔ سب سے اہم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ الفتح میں صلح حدیبیہ کو ہی " فتح مبین"  قرار دیا ہے اور فتح مکہ اسی کا زائدہ ہے جیسے فتح خیبر۔

گاڑی سو ڈیڑھ سو سال روز بروز زائد از زوال پزیری کے ساتھ گھسٹ گھسٹ کے جیسے تیسے چلتی رہی مگر بہت بری حالت کر دی گئی تھی۔ یہ جو کوئی ناف کے نیچے ہاتھ باندھتا ہے،کوئی ناف کے اپر ،کوئی سینے پہ اور کوئی ہاتھ چھوڑ کے نماز پڑھتا ہے،اسی دور میں دانستہ مخدوش کرنے کی کوششوں کے تحت کئے گئے تنزل دین مبین کی نشانیاں ہیں۔ خلفائے راشدین رض کے بعد سو برس کے اندر دین محمدی ص کا کیا حشر کیا گیا ! ! ! :- " اب دور  رسولؐ کی نماز بھی نہیں رہی ! :حضرت انس بن مالک رض، وصال،93ھ۔ " اب میں عہد نبوی ص کی نماز بھی نہیں پاتا ! : امام مالک رح،وقات،176ھ۔ بخاری کی وحشت-ناک #صحیح روایتوں کے ان الفاظ میں پنہاں معانی و مطالب سے ہر صاحب علم و نظر واقف ہے۔اس دور میں لکھنے لکھانے کا کچھ دینی کام ہوا مگر منظر عام پہ بعد میں ہی آ سکا۔ آہستہ آہستہ عوام الناس کے ساتھ علماء حق کو  بھی جنبش زبان و قلم کی آزادی نصیب ہوئی۔پہلے پہل اکا دکا کتابچے  جاری کئے گئے۔ بڑھتی ہوئی نعمت آزادی کے طفیل جزبہ خدمت دین پروان چڑھا اور فقہ جعفریہ ،فقہ حنفیہ،فقہ مالکیہ اور موطی امام مالک جیسی کتابیں منصہ شہود پہ آنی شروع ہوئیں۔ بعد از نصف تیسری صدی ہجری  بخاری،مسلم،نسائی،ابو داؤد، تفاسیر،شمائل، تاریخ وغیرہ وغیرہ۔ان سے استفادہ باکمال اہل علم ہی کرتے تھے۔

250/300 ہجری کے بعد کتب احادیث کا جمع ہوا ذخیرہ،کم و بیش ڈیڑھ سو سال سے ہی منظر عام پہ آیا ہے،خصوصا بر صغیر میں۔ اس سے قبل عوام تو عوام بہت سے ملا جی اور مسجدوں کے امام بھی ان کے ناموں سے واقف نہ ہوتے تھے۔ مگر مسلمان ہزار سال سے اسلام پہ عمل کرتے آ رہے تھے۔ پوری آن بان شان سے اور نہ صرف عمل کرتے آ رہے تھے بلکہ متواتر پھیلتے پھیلاتے بھی جا رہے تھے۔ آپس میں دشمنی و عناد ہونا دور کی بات،اعراض و کراہت کی حرکت بھی شاز و نادر ہی ہوتی تھی۔سب گھل مل کے رہتے تھے نہ صرف آپس میں بلکہ غیر مسلموں سے بھی حتی الامکان۔ اب ! جب سے عوام کے درمیان احادیث کا پٹارا کھولنے والے مولوی پیدا ہوئے، آپس میں ہی نبردآزما ہیں۔ سب سے پہلے دیوبندی فرقہ گھڑا گیا ،پھر اہل حدیث،بعد از ندوی،بریلوی،جماعتی،جماعت اسلامی،اب غامدی اور آئندہ جہلمی وغیرہ بھی رونق افروز ہونے ہیں۔

مسئلے کاحل صرف قرآن و حدیث پہ عمل کرنا نہیں ہے۔ یہ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی نہ ہو سکا، جو وہ زبان بھی خوب اچھی طرح جانتے تھے، جس میں قرآن نازل ہوا، آپ ص کی مصابحت میں 14-15 سال تربیت بھی حاصل کی تھی، فرامین و سنت رسول ص بھی اپنے کانوں سنے آنکھوں دیکھے وافر تعداد میں جانتے تھے اور انہیں ناز و گمان بھی تھا کہ " ہمارے لئے قرآن کافی" ہوگا یعنی ہمیں آپ (ص) کے بعد قرآن و ہمارے درمیان آپ (ص) کی  وصیت کی حاجت ہو گی نہ وصی (بابا) کی؛ لیکن ایسا ہرگز ہو سکتا تھا نہ ہوا اور آپ رض کو کہنا پڑا " ابو الحسن(حضرت علی کرم۔۔۔) ہیں تو مصیبت نہیں ! " واضح طور پہ جانا جا سکتا ہے کہ جو اہل زبان ہو،جسے 14-15 سال تربیت رسول ص بھی حاصل ہوئی ہو،جس کے قول کے مطابق  کئی آیت نازل ہوئی ہوں ،اسے بھی مصیبت کے وقت مشکل کشا و رہنما کی اشد ضرورت پیش آتی تھی، کسی اور کی اوقات ہی کیا ہے! ممکن ہے تمام باتوں کو رد کردیں۔ مگر اس سے پہلے مندرجہ ذیل قرآنی الفاظ اور ان کے ترجموں پہ اچھی طرح غور کرلیں کہ خدا کی منشا کے مواقف کون سا ترجمہ (ہو سکتا) ہے؟ : -

"۔۔۔۔ و ما انا من المشرکین۔" سورہ یوسف،جزو آیت 108.

1۔۔۔۔اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔

2۔۔۔۔اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

3۔۔۔۔اور میں شرک کرنے والا نہیں۔

4۔۔۔۔اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو     
       اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

5۔۔۔۔اور میں مشرکوں میں نہیں۔

اسلام 360 میں 16 ترجمے دستیاب ہیں، امید ہے آسانی سے فیصلہ کرنے کے لئے پانچ مناسب ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔....؟            

بنو ہاشم و مطلب ایک،عبد شمس و نوفل الگ،4229 بخاری

میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو  ( خمس میں سے )  کچھ نہیں دیا تھا۔ 

بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !

بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !  ابوالکلام آزاد کے تجزیے کا عبدالملک بن مروان کے عمل سے ثبوت : پہلے قول ...