بدھ، 4 نومبر، 2026

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔۔‌

اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے برصغیر میں اسلام بزرگان دین سے آیا نہ کہ تلوار والے لٹیروں کی وجہ سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ کون سا اسلام ہے جو ڈاکے ڈالنے سے اور قتل و غارت سے پھیلایا گیا اور ‏یہ بدبخت ہیرو نہیں ظالم لٹیرے تھےاور اپنے ہمسائے ممالک پر حملے کر کے انکو لوٹنے والے سفاک درندے‏تھے 
محمود غزنوی لگ بھگ 10 لاکھ مقامی ہندوستانی بشمول عورتوں بچوں کو پنجاب سے قیدی بنا کر غزنی لے کر گیا جہاں انکو بیچا گیا تاریخی حوالوں خاص طور پر "العتبی کی تاریخ یمینی"  کے مطابق یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ غزنی خراسان اور وسطی ایشیا کے بازاروں میں غلاموں کی قیمتیں زمین پر آ گئیں تھی
‏خصوصاً 1014 اور 1018 کے حملوں کے بعد غزنی کے بازاروں میں ایک تندرست ہندوستانی غلام یا کنیز صرف 2 سے 10 درہم میں دستیاب تھی کہا جاتا ہے کہ غزنی کا کوئی ایسا گھر نہیں تھا جہاں ہندوستانی غلام موجود نہیں تھا بلکہ محمود غزنوی کے کرائے کے فوجی جو ترک عرب اور وسطی ایشیا ممالک کے تھے ان کے حصوں میں بھی درجنوں غلام آئےاس دور میں بہت سے تاجر عراق، مصر اور خراسان سے قافلے لے کر آتے اور غزنی میں ان غلاموں کو خرید کر لے جاتے کیونکہ یہاں غلام نہایت ہی سستے داموں دستیاب تھے
اس کی مثال اپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آج کل عید الاضحی پر وسطی پنجاب سے لوگ جنوبی پنجاب سفر کرتے ہیں تاکہ وہاں سے سستے داموں بھیڑ بکریوں کی خریداری کر سکیں غزنوی کے 17 حملوں میں تب کی رائج کرنسی سونے کے سکے ( دینار ) کی صورت میں  تقریبا 93 میٹرک ٹن خالص سونا لوٹا گیا سونے کے برتن، بت  اور زنجیروں کے سونے کو پگھلا کر لگ بھگ 20 میٹرک ٹن سونا حاصل کیا گیا‏ چاندی کے سکے ( درہم ) تقریبا 30 میٹرک ٹن خالص چاندی حاصل کی گئی اس کے علاوہ خام چاندی اور چاندی کے بتوں سے لگ بھگ 45 میٹرک ٹن چاندی حاصل کی گئی۔
اس کے علاوہ قیمتی ہیرے جواہرات ،یاقوت اور موتیوں کی قیمت کا اندازہ اگر اج لگایا جائے تو وہ اربوں ڈالر بنتا ہے سونے کی مالیت آج کے دور کے حساب سے تقریبا 10 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے اور اگر ان میں نایاب ہیرو جواہرات کو شامل کر لیا جائے تو یہ رقم 15 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
‏محمود غزنوی کے ان 17 حملوں میں لگ بھگ پانچ لاکھ افراد جان سے گئے اور ان میں وہ لوگ شمار نہیں کیے گئے جنہیں غزنوی بطور غلام بنا کر کوہ ہندو کش کے راستے واپس لے کر جاتا تو راستے میں بھوک پیاس شدید سردی سے جان کی بازی ہار جاتے اور اسی وجہ سے اس درہ کو ہندو کش کا نام دیا گیا جس کا ذکر بعد میں ابن بطوطہ نے بھی کیا
عام طور پر دعوی کیا جاتا ہے کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پہ 17 حملے اسلام کی تبلیغ کے لیے کہ لیکن اس کے حملوں کا پیٹرن اور ہر بار ایک نئے علاقے میں جانے کو فوقیت دینا بتاتا ہے کہ وہ دولت اکٹھا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ اسے اس وقت اس کی کافی ضرورت تھی اور اس کی وجوہات درجہ ذیل ہیں
محمود غزنوی کی فوج میں کثیر القومی کرائے کے فوجی تھے جو ترک عرب, کرد ,افغان یہاں تک کہ ہندو دستے بھی اس میں تنخواہوں پر لڑتے تھے تو ان کے اخراجات کیلئے محمود غزنوی کو ایک بڑا خزانہ درکار تھا جو اسے ہندوستان نے مہیا کیا اور اسی کے بل بوتے پر اگے وہ خوارزم، سمرقند اور ایران کی مہمات پر خرچ کرنے کے قابل ہوا
اس سے پہلے غزنی ایک پسماندہ علاقہ تھا لیکن ہندوستان سے لوٹے گی پیش بہا قیمتی دولت نے غزنی کو اس دور کا دنیا کے سب سے شاندار شہر میں بدل دیا وہاں سنگ مرمر سے عظیم الشان عروس الفلق ( آسمان کی دلہن ) نامی جامع مسجد بنائی گئی مدارس بنے، پل، نہریں اور کئی شاہی محلات کی تعمیر ہوئی۔
‏محمود غزنوی نے اپنے دربار میں تقریبا 400 شعرا اور علماء رکھے ہوئے تھے جن میں البیرونی، عنصری، فرخی سیستانی اور فردوسی شامل تھے اور جب بھی یہ غزنوی کی تعریف کرتے یا تائید کرتے یا اس کے لیے کچھ اشعار عنایت فرماتے تو بدلے میں مجموعی طور پر ان پر لاکھوں دینار نچھاور کیے گئے
‏1030 میں جب غزنوی تپ دق یا ملیریا کی وجہ سے بستر مرگ پر تھا تو اس نے اپنی موت سے دو دن قبل شاہی خزانے کا سارا سونا چاندی جواہرات یاقوت محل کے صحن میں بچھائے اور اس نے حسرت بھری نگاہوں سے اس بے حساب دولت کو دیکھا اور پھر زور قطار روتے ہوئے اسے واپس خزانے میں رکھوا دیا
محمود غزنوی کی موت کی تقریبا 120 سال بعد 1151 میں غور کے حکمران علاؤالدین حسین " جہاں سوز" نے غزنی شہر پر ایک بڑا حملہ کیا اور شہر کو 7 دن تک اگ لگائے رکھی غزنوی سلطانوں کی قبریں اکھاڑ دی گئی اور محمود کی جمع کردہ اور تعمیر کردہ تمام شان و شوکت کو خاک میں ملا دیا گیا آسان الفاظ میں محمود غزنوی کہ 17 ہندوستان پر کیے گئے حملوں سے بنائے گئے عظیم الشان عظمت لگ بھگ 140 سال قائم رہی اورغزنی پھر سے غریب پسماندہ علاقہ بن گیا اور یوں لوٹ مار سے حاصل کی گئی دولت کسی اور نے لوٹ لی

جمعہ، 14 اگست، 2026

بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !


بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !
 ابوالکلام آزاد کے تجزیے کا عبدالملک بن مروان کے عمل سے ثبوت :

پہلے قول ابوالکلام آزاد:

بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن :

ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر قیامت کے دن دنیا کے ظالموں کی صفیں عام فساق و فجار سے الگ قرار دی جائیں تو ان میں سب سے پہلی صف یقینا (بنی امیہ) کی ہوگی۔ انہی ظالموں نے اسلام کی اس روح حریت کو غارت ظلم و استبداد کیا اور اس کے عین عروج اور نشوونما کے وقت اس کی قوت نمو کو اپنے اغراض شخصیہ کے لیے کچل ڈالا۔ ان کا اقتدار و تسلط فی الحقیقت "امر بالمعروف " کے سد باب کا پہلا دن تھا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اسلام کی جمہوریت کو غارت کرکے اس کی جگہ شخصی حکومت کی بنیاد ڈالی "جو یقینا اعتقاد قرآنی کی رو سے کفر جلی ہے" بلکہ سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اظہار حق اور امر بالمعروف کی قوت کو تلوار کے زور سے دبا دینا چاہا اور مسلمانوں کی حق گوئی کے ترقی کناں ولولے کو مضمحل کر دیا۔ تاہم چونکہ عہد نبوت کا فیضان روحانی اور تعلیم قرآنی کا اثر ابھی بالکل تازہ تھا اس لیے اگرچہ طرح طرح کی بدعات اور محدثات و معاصی کا بازار گرم ہو گیا تھا لیکن پھر بھی "امر بالمعروف " کی آواز کی گرج کوفہ و دمشق کے ایوان ومحل کو لرزا دیتی تھی ۔
اب قول عبدالملک بن مروان:

زبانیں بند کرانا حق کہنے سے :

حق کی آواز کو خاموش کرانا، کس کی ایجاد ہے ؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے عرب اور مروان کے سارے خاندان میں عبدالملک بن مروان (اموی خلیفہ) سے بڑھ کر کوئی شخص ظالم اور فاسق وکافر نہیں تھا اور عبدالملک کے مقرر کردہ تمام عمال (گورنروں) میں کوئی عامل حجاج سے بڑھ کر ظالم اور فاسق و کافر نہیں تھا۔ عبدالملک ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام سر انجام دینے والے لوگوں کی زبانیں کاٹ ڈالی تھیں۔ ایک دفعہ منبر پر چڑھ کر کہنے لگا۔” خدا کی قسم ! میں کوئی کمزور خلیفہ نہیں ہوں۔ (اشارہ حضرت عثمان کی طرف تھا) اور نہ ہی کوئی مصلحت کوش خلیفہ (اشارہ حضرت معاویہ کی طرف تھا) تم لوگ ہمیں بہت سی باتیں کرنے کا حکم دیتے ہو اور خود یہ باتیں اپنی ذات کے سلسلے میں بھول جاتے ہو۔ خدا کی قسم آج کے بعد جو شخص بھی مجھ سے تقویٰ اور اللہ سے ڈرنے کی بات کرے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔

قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِى الظّٰلِمِيۡنَ
 خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کیلئے نہیں ہوا کرتا۔

احکام القرآن
مفسر: امام ابوبکر الجصاص
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 124
۔
۔
۔

ہفتہ، 4 جولائی، 2026

مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب


مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب
وَتَحَرَّوْا لِحَرْبِ عَدُوِّکُمْ، فَانْتَبِهُوا إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ الطلقاء وَأَبْنَاءَ الطلقاء وَ أَهْلَ الْجَفَاءِ، وَ مَنْ أَسْلَمَ کَرْهاً... وَلِلْإِسْلَامِ کُلِّهِ حَرْباً، أَعْدَاءَ السُّنَّةِ وَالْقُرْآنِ، وَ أَهْلَ الْبِدَعِ وَالْأَحْدَاثِ، وَ أَکَلَةَ الرِّشَا، وَ عَبِیدَ الدُّنْیا:
دشمنوں سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اور جان لو کہ تم طلقاء اور ان کے اہل جفا بیٹوں سے نبرد آزما ہو، جو دباؤ کے تحت ڈر کے مارے اسلام لائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اسلام سے جنگ کرتے رہے۔ یہ لوگ قرآن و سنت کے دشمن ہیں۔ یہی لوگ اہل بدعت ہیں۔ یہی لوگ راشی اور دنیا کے رسیا بندے ہیں۔
(دینوری، ابن‌قتیبه؛ الامامه والسیاسه، بیروت، دارالاضواء، 1410 ق، طبع اول، ص178.)

بدھ، 7 جنوری، 2026

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ
باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟
---------------
کریم آقاﷺ کا فرمان
فمر به النبي صلى الله عليه وسلم ، ومسح عن راسه الغبار ، وقال : " ويح عمار تقتله الفئة الباغية عمار يدعوهم إلى الله ، ويدعونه إلى النار
اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہونگے ۔
حدیث نمبر: 2812
صحیح بخاری
----------
( معاویہ بن ابوسفیان کے گروہ میں شامل)
ابوالغادیہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا، اور جب کبھی معاویہ وغیرہ کے پاس جاتا تو کہتا: "دروازے پر عمار کا قاتل آیا ہے"۔ وہ پوچھنے پر لوگوں کو قتل کی تفصیل بتاتا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا۔

(الاستيعاب لِابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113، أسد الغابة لِابن الثیر: 5/ 237/ 6140، تعجيل المنفعة لابن حجر: 2/ 519/ 1364)منقول۔

میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو  ( خمس میں سے )  کچھ نہیں دیا تھا۔ابو داؤود+ مختصر تاریخ -ابن عبدالوہاب 

مروان دیوبند کی نظر میں،فتوی

سوال نمبر: 42656 

عنوان:مروان بن حکم کون ہے ؟

سوال:میرا آپ سے سوال یہی ہے کہ مروان بن حکم کون ہے ؟کیا وہ صحابی ہیں؟ان کا کردار کیسا ہے؟ان کی والدصحابی تھے ؟ تو انکو رسول ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک بدر کیوں کیا تھا؟اور کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا تھا اور ان کا حمل گروایا تھا، کیا یہ روایت صحیح یا نہیں؟

جواب نمبر: 42656

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 9-126/D=2/1434 (۱) مروان بن الحکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں، ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کسی نے وثوق کے ساتھ ان کو صحابی نہیں کہا ہے۔ (الاصابة: ۳/۴۷۷) (۲) ان کا کردار کیسا ہے؟ کردار سے کیا مراد ہے، واضح کریں۔ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان صحابہ تابعین اور فقہاء المسلمین کے نزدیک عادل اور امت کے عظیم اشخاص میں ہیں، ان سے صحابہ میں حضرت سہل بن سعد نے روایتیں لی ہیں، تابعین میں حضرت علی زین العابدین سعید بن المسیب، عروہ بن الزبیر، ابوبکر بن عبدالرحمن الحارث، عبید اللہ بن عبد اللہ جیسے جلیل القدر علماء اور محدثین نے حدیثیں روایت کی ہیں، فقہاء میں سبھی نے ان کی عظمت اور خلافت کو تسلیم کیا ہے، ان کے فتاے کو قابل التفات سمجھا اور ان کی حدیثوں پر اعتماد کیا ہے، رہے بیوقوف قسم کے ادباء اور موٴرخین ان کا تذکرہ اپنی اپنی حیثیت سے کرتے ہیں۔ (العواصم من القواصم) (۳) علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم بن ابی العاص کی جلا وطنی کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں (منہاج السنہ) بعض تاریخی روایات میں اس کا ذکر ہے تو ممکن ہے کسی وقتی مصلحت کی بنیاد پر ایسا کیا ہو۔ (۴) یہ روایت من گھڑت اور موضوع ہے۔ دیکھئے منہاج السنہ لابن تیمیہ: ۳/۱۲۸)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت


مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت 
مولا حسین علیہ السلام مدینہ سے کیوں نکلے؟ کچھ پتہ نہیں  راوی سویا ہوا تھا۔ مکہ میں کیا کیا؟ ابھی راوی کی نیند پوری نہیں ہوئی۔ تھوڑی دیر کیلئے راوی کی آنکھ کھلی تو قافلے والے مولا کو روک رہے تھے کوفہ نہیں جانا۔ تو کروٹ لے کے سو گیا۔ پھر خواب میں دیکھا کہ سپاہیوں نے روک لیا ہے۔ پھر راوی کا خواب ٹوٹ گیا۔ پھر امام ع کو تیر لگا سر کاٹا گیا۔ کس نے کیسے کاٹا باقی قافلے والے کہاں گئے۔ راوی تو سویا ہوا تھا۔ بس صحیح راوی نماز صبح پڑھ کر جونہی ابن زیاد سے ملنے گیا تو امام حسین علیہ السلام کا سر پڑا دیکھا۔ ابن زیاد نے صحیح راوی کو پریشانی کے عالم میں بتایا کہ ،،  یار صحیح راوی دیکھ بھلا صبح صبح نجانے کون کسی کا سر کاٹ کے میرے دربار میں چھوڑ گیا،،
تو صحیح راوی نے کہا پا جی فی الحال خاموشی بہتر ہے۔ اے گل کسے نو نی کرنی۔  1400 سال بعد اک مولبی نوں دساں گے او آپی سنبھال لے گا۔
تیری مہربانی مولبی تونے پیدا ہو کے احسان کیا ہے امت پہ۔ نہیں تو 60 ہجری سے لے کر آج تک سب خاموش تھے اور ڈرے ہوئے بھی تھے۔ اب تونے بات کھول دی واضح کر دی۔ اب صحیح راوی ابن زیاد،  تیرا روحانی یاشاید اصلی ابا یزید کی روح سکون محسوس کر رہی ہوگی۔
در فٹے منہ تیرا مردود۔
پاگل سمجھتا ہے سب کو؟ آج کل لوگ تیرے سے زیادہ عقلمند ہیں۔ تیرے فیس امپریشن بتا رہے ہیں تو کس کی نمک حلالی کر رہا ہے۔منقول

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔۔‌

اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے برصغیر میں اسلام بزرگان دین سے آیا نہ کہ تلوار والے لٹیروں کی وجہ سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ کون سا اسلام ہے ج...