جمعرات، 1 جنوری، 2026

مجھے یہ بات بری نہیں لگتی کہ اللہ معاویہ کو عذاب دے

مجھے یہ بات بری نہیں لگتی کہ اللہ معاویہ کو عذاب دے
نامور اہلحدیث عالم مولانا وحید الزمان صاحب تو معاویہ کے ساتھ رض کا لفظ لگانا بھی پسند نہیں کرتے ۔
کنز الحقائق من فقہ خیرالخلایق میں لکھتے ہیں
تمام صحابہ کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھنا مستحب ہے ماسوائے ابوسفیان ، معاویہ ، عمرو بن العاص ، مغیرہ بن شعبہ اور سمرہ بن جندب کے ، ان پانچ سے سکوت مستحب ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیا جائے، نہ ان کو برا کہا جایے نہ ان کی تعریف کی جائے۔
(دیکھئے کنز الحقائق من فقہ خیرالخلایق صفحہ 234)

اور اپنی کتاب نزل الابرار میں لکھتے ہیں
ومنه يعلم ان من الصحابة من هو فاسق كالوليد ومثله يقال في حق معاوية وعمرو مغيرة و سمرة
ترجمہ : اس سے معلوم ہوا کہ کچھ صحابہ فاسق ہیں جیسا کہ ولید (بن عقبہ) اور اسی کے مثل کہا جاۓ گا، معاویہ (بن ابی سفیان) ، عمرو (بن عاص)، مغیرہ (بن شعبہ) اور سمرہ (بن جندب) کے حق میں
(دیکھئے نزل الابرار من فقه النبي المختار : ٢/٩٤)

نوٹ: مولانا وحید الزمان صاحب پہلے حنفی تھے بعد میں انھوں نے حنفی مسلک کو چھوڑ کر اہل حدیث کے منہج کو اختیار کر لیا تھا

علی ابن الجعد کا قول ہے : مجھے یہ برا نہیں لگتا کہ اللہ معاویہ کو عذاب دے۔
( دیکھئے تہذیب التہذیب جلد 14 صفحہ 571 اور
قیام رمضان صفحہ 77 شیخ زبیر علی زئی

نوٹ : علی ابن الجعد اپنی کتاب مسند الجعد ہے جن کو دیوبندی کوڈ کرتے ہیں شیخ زبیر علی زئی ،علامہ ذہبی، نسائی، ابن عدی، ابو حاتم، سب نے ان ثقہ اور سچا لکھا اور ان کے حافظے کی بہی تعریف فرمائی، امام بخاری اپنی سخت شرائط کے باوجود ان سے اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں
اور ان پر شیعیت کا بہی الزام ہے جو کہ غلط ہے
دیکھئے سير أعلام النبلاء : جلد 10 /  صفحہ 459
تاريخ بغداد : 11 / 365 ؛ تهذيب الكمال : 20 / 35
الجرح والتعديل : 6 / 178

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں