حضرت ابوذر رض، معاویہ و سونے چاندی کے ڈھیر
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے حوالے سے یہ بلکل درست نہیں کہ وہ صرف ایک روز یا تین روز کا کھانا یا خرچ ساتھ رکھنا حلال سمجھتے تھے، اس سے زیادہ حرام۔۔۔۔۔۔۔خود اپ کی جلاوطنی کا واقعہ انہی کی زبانی مستند احادیث میں موجود ہے۔۔۔وہ مال دولت کے ارتکاز کے خلاف تھے،خاص کر سونا چاندی جمع کرنےکے ۔۔۔وہ مال جمع کرکے اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ۔۔۔۔۔خرچ نہ کرنے اور کنجوس رہنے پرمعتریض تھے۔۔۔ زید بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کہتے ہیں کہ میں نے ربذہ (مدینہ کے قریب ایک جگہ) میں ابوذرؓ کو دیکھا۔میں نےان سے پوچھا تم یہاں جنگل میں کیوں آپڑے؟ انہوں نے کہا،ہم ملک شام میں تھے کہ میرے اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے درمیان تنازعہ ہوا میں نے یہ ایت جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی خبر دو۔(سورۃ التوبہ9: 34 ) بیان کی تو معاویہ نے کہا یہ ایت میرے حق میں نہیں بلکہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔میں نے کہا یہ ہمارے اور اہل کتاب دونوں کے بارے میں ہے"(بخاری کتاب التفسیر سورۃ التوبہ، باب والذین یکنزون ۔۔۔۔)۔۔۔۔بخاری میں یہی قیصہ ذرہ تفصیل سے دوسرے مقام پر ہے۔۔۔۔مذکورہ قیصے کے بعد ۔۔۔۔خود ابوذرؓ نے فرمایا " تواس نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا اور میری شکایت کی۔حضرت عثمان نے مجھے لکھا کہ واپس مدینہ او۔چنانچہ میں مدینہ ایا تو اتنے بہت سے لوگ میرے پاس جمع ہونے لگے جیسے انہوں نے مجھے اس سے پہلے دیکھا ہی نہ ہو۔ میں نے عثمان سے اس کا ذکر کیا(یعنی کہ شام میں لوگ سونا چاندی جمع کرہے ہیں،اور اشرفیہ بنے ہوئے ہیں) انہوں نے کہا تم چاہو تو الگ ایک گوشہ میں مدینے سے قریب رہو، میں اس وجہ سے یہاں رہ رہا ہوں اور ظاہر ہے کہ اگر مجھ پر حبشی سردار بھی ہو تو میں اس کی بات سنوں اور مانوں گا(بخاری کتاب الزکوۃ حدیث نمبر 1406)۔۔۔۔۔اس سے بھی زیادہ تفصیل دوسرے مقام پر ہے۔۔۔۔اور جس میں حضرت ابوذرؓ نےسونا چاندی جمع کرنے کے حوالے سے حدیث بھی سنائی ۔۔۔۔۔اور کہا کہ جو لوگ دنیا کے پیچھے پڑکرایسا کرتے ہیں یہ لوگ بیوقوف ہیں کہ دنیا کا مال اکٹھا کرتے ہیں، اور میں تو خدا کی قسم نہ ان سے دنیا کا سوال کروں گا نہ دین کی کوئی بات پوچھوں گا، یہاں تک کہ اللہ سے مل جاوں (بخاری، کتاب الزکوۃ، مسلم کتاب الزکوۃ باب تغلیظ عقربہ من لایری الزکوۃ)...... حضرت ابوذر رض شام میں تھے کہ انہیں حضرت عثمان رض نے خط بھیجا اور لکھا کہ تم حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہو۔معاویہ نے مجھے لکھا ہے کہ اگر شام قبضے میں رکھنا چاہتے ہو تو ابوذرؓ کو واپس بلائیں ۔حضرت ابوذرؓ نے جواباً کہا نہ میں حکومت کے خلاف ہوں نہ مالداری کے بلکہ میں سونے چاندی کے ڈھیر اکٹھے کرنے کے خلاف ہوں ۔۔۔۔۔۔لوگوں کوجاگریں دیں جن سے اشرفیہ پیدا ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔اسی اعتراض پر جلاوطن کیا گیا(مسلم شرح اکمال اکمال المعلمج از علامہ ابی مالکی جلد اول ص 234)......اگر وہ واقعی ایک روز کھانا ساتھ رکھنے کے قائل تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اور دیگر خلفاء اور خود مکے اور مدینے کے مالداروں اور ایک روز سے زیادہ مال رکھنے والوں پر معترض کیوں نہ تھے؟........باقی ایک دن یا تین اشرفی والی بات ان کا مسلک نہیں تھا بلکہ سونا چاندی جمع کرنے والے اشرفیہ کے سامنے جس طرح سورہ توبہ دلیل میں پیش کی تھی،اس طرح رسول اللہ ص کا فرمان پیش کیا تھا کہ رسول اللہ ص نے فرمایا ، کیا تو احد پہاڑ دیکھتا یے؟ یہ سن کر میں نے سورج کی طرف دیکھا کہ دن کتنا باقی ہے، میر خیال تھا کہ رسول اللہ ص مجھے کسی کام سے بھیجنا چاہتے ہیں ۔میں نے عرض کیا جی ہاں: فرمایا میں چاہتاہوں کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں سب اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالوں اور صرف تین اشرفیاں پاس رکھوں "(بخاری کتاب الزکوۃ مسلم کتاب الزکوۃ باب تغلیظ ۔۔۔۔۔)
اہل شام کے سونے چاندی کا استعمال اور عیش وعشرت کا زکر دیگر روایات میں بھی ہے۔ جس طرح حضرت ابوذرؓ اس پر معترض تھے اسی طرح دیگر صحابہ کرام بھی اس پر سخت معترض تھے۔۔۔۔ مثلاً جب حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا(تہذیب التہذیب، ابن حجر، ابن اثیر اسد الغابہ جلد دوم، ص 15)....تو اس پر معاویہ اور حضرت مقدام رض کے درمیان سخت تکرار ہوئی۔۔۔۔لمبی روایت ہے، اس میں ہے کہ ۔۔۔حضرت مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا معاویہ تجھے خداکی قسم دیتا ہوں,کیا تو نے رسول اللہ ص سے نہیں سنا کہ کہ مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ حضرت معاویہ رض نے کہا، ہاں، مقدم رض نے کہا تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ ص نے مردوں کو ریشم پہننے سے منع نہیں فرمایا، حضرت معاویہ نے کہا ہاں، ۔۔ حضرت مقدم رض نے کہا تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا، رسول اللہ ص نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع نہیں فرمایا؟ حضرت معاویہ رض نے کہا ہاں، ۔۔۔۔حضرت مقدم رض نے کہا خدا کی قسم یہ تینوں کام تیرے گھر میں ہورہے ہیں (ابو داود کتاب اللباس باب فی جلود النمور، اسلسلۃ الاحادیث جلد دوم، رقم حدیث 811)
Dr Zahid Shah-Pakistan
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں