وسیلہ: قرآن اور حدیث کی روشنی میں
○سوال: ’وسیلہ‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
●جواب: وسیلہ، وہ واسطہ ہے جس کے ذریعے سے کسی چیز تک پہونچا جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے، اور شریعت کی زبان میں بارگاہ الہی میں قرب حاصل کرنے کے لئے یا حصول مراد کے لئے بوقت دعا کسی مقبول عمل، صالح بزرگ یا با برکت چیز وغیرہ کا واسطہ پیش کرنے کو وسیلہ کہتے ہیں۔
○سوال: کیا وسیلہ جائز ہے؟
●جواب: الحمد للہ! وسیلہ کے جواز پہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت سے دلائل موجود ہیں، ان میں سے کچھ مند رجہ ذیل ہیں۔
دلیل نمبر: ۱۔ ارشاد ربانی ہے۔ "یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ و ابتغو الیه الوسیلة۔ (سورہ مائدہ،آیت:۳۵) "ائے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور (اس کی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے) وسیلہ تلاش کرو۔
اس آیت کر یمہ میں اللہ تعالی نے خود ہی اپنے بندوں کو اپنی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ وسیلہ بلا شبہ جائز ہے۔
دلیل نمبر :۲۔ جب مدینہ طیبہ میں قحط پڑ جاتا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ، حضور نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے ہوئے کہتے’’اللھم انا کنا نتوسل إليك بنبینا فتسقینا و إنا نتوسل إليك بعم نبینا فاسقنا‘‘ "اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتے تھے تو، تو ہم پر بارش نازل فرماتا تھا ۔ اور اب ہم تیری بارگا میں اپنے نبی (ﷺ) کے چچا جان کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر بارش نازل فرما۔" راوی کہتے ہیں تو پھر ان پر (اس دعا کی بدولت) بارش برسائی جاتی۔ (صحیح بخاری ،کتاب الاستسقاء ،باب سوال الناسِ الامام َ الاستسقاء اذا قحطوا، حدیث :۱۰۱۰
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صحابہء کرام کی جماعت کے ساتھ سرکار علیہ السلام کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے۔ مگر کسی صحابی رسول ﷺ نے اعتراض نہ کیا ۔ گویا وسیلہ کے جواز پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم کا اجماع ہو گیا۔ اس لئے اس کے جواز میں کسی مسلمان کو ذرّہ برابر بھی شبہ نہیں ہونی چاہئے۔
○سوال: اللہ تعالی کی بارگاہ میں نیک عمل اور بزرگان دین، دونوں کو وسیلہ بنانا جائز ہے یا صرف ایک کو؟
●جواب: اللہ تعالی نے بغیر کسی چیز کو خاص کئے ہوئے مطلق ارشاد فرمایا کہ’’ائے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو‘‘ تو اب ہر اس چیز کو وسیلہ بنانا جائز ہوگا جو اس کی بارگاہ میں مقبول و محبوب ہو اور جس کے ذریعے اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہو ۔ چاہے وہ نیک اور مقبول عمل ہو یا نیک اور مقبول ذات۔ چا ہے وہ زندہ ہو یا وفات فرما چکے ہوں۔ ہاں ہمیں اپنے کسی عمل کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں معلوم کہ وہ بارگاہ الہی میں مقبول ہے یا مردود؟ مگر کچھ مقدس ہستیوں کے بارے میں ہمیں صرف معلوم ہی نہیں بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مقبول اور محبوب ہیں جیسے کہ انبیائے کرام، صحابہ کرام اور اولیائے کرام وغیرہ ۔ اس لئے ان کے وسیلے سے دعا کرنے میں قبولیت کی امید زیادہ ہے۔
○سوال: کیا حضور ﷺ نے کسی کو وسیلہ بنا کر دعا کرنے کی تعلیم دی ہے؟
●جواب: جی ہاں! حضور ﷺ نے خود اپنے صحابی کو اپنی ذات اقدس کا وسیلہ بنا کر دعا کرنے کی تعلیم دی ۔ چنانچہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا : میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے عافیت بخشے ۔ تو حضور ﷺ نے کہا : اگر تم چاہو تو میں موخر کردوں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر چاہو تو دعا کر دوں۔ تو انہوں نے کہا : دعا کر دیجئے، تو اس کو حضور ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اس طر ح سے دعا کرے: `ائے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی محمد ﷺ کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد ﷺ ! بےشک میں نے آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف لَو لگائی اپنی اس ضرورت میں تاکہ میری یہ ضرورت پوری ہو جائے، ائے اللہ! تو میری اس ضرورت کو پوری فرما۔`
(ابن ماجہ،رقم الحدیث:۱۳۸۵،ترمذی ،رقم الحدیث: الحدیث:۳۵۷۸)
○سوال: کیا کسی ایسے بزرگ کو جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئے مگر حضور ﷺ نے ان کے آنے کی بشارت دی ہے ۔ جیسے امام مہدی اور ہر سو سال کے بعد ظاہر ہونے والے مجددین وغیرہ کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے؟
●جواب: جی ہاں! ان بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم اور احادیث طیبہ سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے حضور اکرم ﷺ کے وسیلے سے دعا فرمائی ۔ تو اللہ تعالی نے ان کی دعاء قبول فرمائی۔
چنانچہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺنے کہا : "جب حضرت آدم سے خطائے اجتہادی سرزد ہوئی ، تو انہوں نے دعا کی: ائے میرے رب! میں تجھ سے محمد ﷺ کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔ اس پر اللہ رب العزت نے فر مایا: ائے آدم ! تو نے محمد (ﷺ) کو کس طرح پہچان لیا حالانکہ ابھی میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا: مولا! جب تونے اپنے دست قدرت سے مجھے پیدا کیا اور اپنی روح میرے اندر پھونکی میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر `لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ` لکھا ہوا دیکھا ، میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہو سکتا ہے جو تمام مخلوق میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ اس پر اللہ تعالی نے فر مایا: ائے آدم! تو نے سچ کہا: مجھے ساری مخلوق میں سب سے زیادہ وہی محبوب ہیں ۔ اب جبکہ تم نے ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف کر دیا اور اگر محمد (ﷺ) نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہیں کرتا"-
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔( المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب تواریخ المتقدمین من الانبیاء والمرسلین ،باب ومن کتاب آیات رسول اللہ ﷺ التی ھی دلائل النبوۃ ،حدیث:۴۲۲۸)
اسی طرح بنی اسرائیل کے لوگ اپنے دشمنوں کے خلاف حضور ﷺ کی پیدائش سے پہلے حضور علیہ السلام کے وسیلے سے دعا کرتے تھے تو اللہ تعالی انہیں کامیابی عطا فرماتا تھا۔ چنانچہ جب حضور ﷺکے اعلان نبوت کے بعد ان لوگوں نے سرکشی اختیار کی تو اللہ تعالی نے ان لوگوں کے اس رویہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح (کی دعا) مانگتے تھے۔ پھر جب تشریف لایا وہ ان کے پاس جانا پہچانا ہوا (یعنی اس حال میں کہ وہ لوگ اس نبی کی صفات کو خوب جانتے اور پہچانتے تھے) تو ان لوگوں نے انکار کر دیا تو اللہ کی لعنت ہے منکروں پر۔
(سورہ بقرہ،آیت:۸۹)
مذکورہ آیت کریمہ اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی ایسے بزرگ کے وسیلے سے بھی دعا کرنا جائز ہے جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئے۔ در اصل وسیلہ میں خاص نکتہ یہی ہے کہ جس کو ہم وسیلہ بنا رہے ہیں وہ اللہ کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول ہو- چاہے وہ ابھی دنیا میں موجود ہو یا دنیا سے جاچکا ہو یا ابھی آیا ہی نہ ہو۔ان سب کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔اور جو اللہ کی بارگاہ میں مردود ہو، اس کو وسیلہ بنانا ہرگز جائز نہیں چاہے وہ دنیا میں موجود ہو یا جا چکا ہو یا ابھی آیا ہی نہ ہو۔ چنانچہ ہم ایک فاسق و فاجر یا کافر، مشرک کی ذات کو کسی صورت میں وسیلہ نہیں بنا سکتے ۔ چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ ۔ اور اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہستیوں جیسے انبیائے کرام ، صحابہ عظام اور اولیائے کرام وغیرہ کو ہر حال میں وسیلہ بنا سکتے ہیں۔ کیو نکہ وہ ہر حال میں اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیں۔ بہت سارے سادہ لوح قسم کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ۔ اس لئے اس نکتہ کو خوب سمجھ لیں کہ وسیلہ بنانے کے لئے اُس ذات کا زندہ یا موجود ہونا شرط نہیں بلکہ اس کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونا شرط ہے۔
○سوال: کیا بعد وصال بھی حضور ﷺ اور دیگر بزرگانِ دین کے وسیلے سے دعا کرنا جائز ہے؟
●جواب: وصال کر جانے سے آپ ﷺ کی مقبولیت اور محبوبیت ختم نہیں ہوئی بلکہ اب بھی ہی ہے جیسے حیات مبارکہ میں تھی، بلکہ اب تو اور زیادہ بڑھ گئی کہ قرآن حکیم میں آپ ﷺ کے تعلق سے ارشاد ہوا ’’وللاٰخرۃخیر لك من الاولی‘‘ کہ آپ کی ہر آنے والی گھڑی پچھلی گھڑی سے بہتر ہے۔ اس لئے جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کے وسیلے سے دعا کرنا جائز تھا ویسے ہی اب بھی جائز ہے بلکہ قبولیت دعا کا سب سے عظیم ذریعہ ہے۔
چنانچہ امام دارمی اپنی سنن میں اوس بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کر تے ہیں کہ: ایک مرتبہ مد ینہ شر یف کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنے حالات کی شکایت کی، تو آپ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : حضور نبی اکرم ﷺ کی قبر انور کے پاس جائو اور اس کی ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھول دو کہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ : انہوں نے ایسا ہی کیا، تو خوب بارش ہوئی۔ اور اُس سال خوب سبزہ اُگا جس کی وجہ سے اونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ محسوس ہوتا کہ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے ۔ اس لئے اُس سال کا نام ہی’’عام الفتق‘ پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔
(سنن دارمی،باب ما اکرم اللہ تعالیٰ نبیہ ﷺ بعد موتہ، حدیث:۹۲)
اب آپ خود ہی سوچیں کہ مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدھے اللہ پاک سے کیوں نہ دعا کی؟ پھر اس وقت صحابہ کرام اور جلیل القدر تابعین بھی تو زندہ تھے۔ انہوں نے شرک کا فتوی کیوں نہ لگایا؟کیا آج کے اہل حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بڑھ کے توحید پرست ہیں؟اگر اِن سوالوں میں سے ہر ایک کا جواب ’’ نہیں ‘‘ ہے تو بلاشبہ جس طرح باحیات بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے ۔اسی طرح وفات یافتہ بزرگوں کے وسیلہ سے بھی دعا کرنا جائز ہے۔
○سوال : کیا وسیلہ کے جائز ہونے کا فتوی علمائے کرام نے بھی دیا ہے؟
●جواب: وسیلہ، کے جواز اور اس کے استحسان پر تمام علمائے اہل سنت و جماعت متفق ہیں ۔چنانچہ ائمہ اربعہ، امام طبرانی، امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، امام فخر الدین رازی، امام قرطبی، علامہ ابن حجر عسقلانی، امام احمد بن محمد شہاب الدین قسطلانی، ملا علی قاری ، علامہ جلال الدین سیوطی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے علاوہ بے شمار علمائے امت علیھم الرحمۃ و الرضوان نے اس کے جواز کا فتوی صادر فرمایا ۔ ہم یہاں پر بنظر اختصار صرف امام ابو زکریا محی الدین بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اکتفا کر تے ہیں ۔
• امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ’کتاب الاذکار‘ کے باب ’الاذکار فی الاستسقائ‘ میں کسی بزرگ کے وسیلے سے دعا کرنے کے جواز پر اس طرح سے اظہار خیال فرماتے ہیں۔’’جب تم میں کوئی ایسا آدمی ہو جس کا زہد و تقوی مشہور ہو تو اس کی ذات کے وسیلے سے بارش طلب کیا کرو ، اور یوں دعا مانگا کرو ’’ائے اللہ! ہم تیرے فلاں بندے کے وسیلے سے بارش اور شفاعت طلب کرتے ہیں ۔ جس طرح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے بارش طلب فرمائی۔"
(کتاب الاذکار ،صفحہ ۱۴۰)
● حرف آخر
بحمدہ تعالی! مذکورہ بالا تحریر میں وسیلہ کے جواز پر قرآن کریم ، احادیث مبارکہ، معمولات صحابہ اور اقوال ائمہ سے، بہت سارے دلائل فراہم کئے گئے ہیں جو متلاشیان حق کے لئے کافی سے زائد ہیں۔ مگر اس کے باوجود کوئی انکار کرے ، اسے شرک و بدعت اور ناجائز و حرام کہے اور مسلمانوں کے درمیان بلا وجہ لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا کرے اور اپنی مخصوص ذہنیت لوگوں پر مسلط کرنا چاہے تو دنیا میں اس کا کوئی علاج نہیں ۔ ہاں! البتہ جب میدان محشر بپا ہوگا اور لوگ اس دن کے سخت مصائب و آلام سے گھبرا کر انبیائے کرام کو پریشانیوں سے نجات پانے کے لئے وسیلہ بنائیں گے اور ان کی بارگاہوں میں جا کر ان سے فریاد کریں گے ۔ سب دوسرے کے پاس جانے کا مشورہ دیں گے اور آخر میں حضور رحمۃ للعا لمین ﷺ ’’اَنَا لَهَا‘‘ کا مژدہ سنائیں گے، تب جا کے لوگوں کو سکون نصیب ہو گا۔ تو یقینا اس دن سب مان جائیں گے کہ: ہاں ہم بغیر وسیلہء مصطفی ﷺ کے بارگاہ خداوندی میں نہیں پہونچ سکتے۔-منقول
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں