اتوار، 4 جنوری، 2026

منبر و محراب سے سب و ش۔۔تم

منبر و محراب سے سب و ش۔۔تم
عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں: مرو۔۔ان بن الحکم چھے سال تک ہم پر امیر تھے، اور وہ ہر جمعہ کو ممبر پر علی رضی اللہ عنہ کو گال۔۔یاں دیتے تھے، پھر ان کو ہٹا دیا گیا اور سعید بن العاص کو دو سال کے لئے امیر مقرر کردیا گیا لیکن وہ گلیاں نہیں دیتا تھا پھر اس کو ہٹا کر واپس مرو۔۔ان کو امیر لگادیا گیا اور وہ پھر سے گال۔۔یاں دینے لگا

(امام بوصیری کہتے ہیں اسکے تمام راوی ثقہ ہیں، إتحاف الخيرة المهرة: 8/82، شیخ وصی اللہ عباس اسکی سند کے بارے میں کہتے ہیں: *اسنادہ صحیح واللہ المستعان* العلل و معرفة الرجال: 4781، ج 3/176)

اسی طرح امام ذھبی رحمہ اللہ نے اپنی سیر میں ابن ابی خیثمہ کے حوالے سے قوی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے :

علی بن الحسین کہتے ہیں مروان نے کہا :

اس قوم میں کسی نے ہمارے ساتھی کا اتنا دفاع نہیں کیا جتنا تمہارے ساتھی نے کیا - یعنی سیدنا علی نے سیدنا عثمان کا - علی بن حسین نے پوچھا پھر تم کیوں منبروں پر علی بن ابی طالب کو گال۔۔یاں دیتے ہو؟

مرو۔۔ان نے جواب دیا : اسکے بغیر معاملہ (حکومت) نہیں چل سکتا۔

(تاریخ اسلام 3/640، و سير اعلام النبلاء امام ذھبی نے اسکی سند کو قوی کہا ہے

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آل امیہ کے نزدیک سیدنا علی شہا۔۔دت عثمان سے بالکل برئ تھے لیکن محض حکومت کے لیے مخالفت ِعلی مول لی۔
رضی اللہ عن عثمان و علی۔۔۔M Shahrukh Khan 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں