⛔️ قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی حدیث تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کی شرح میں لکھتے ہیں:
قَالَ الْقَاضِي أَبُوْ بَكْرِ ابْنُ الْعَرَبِيِّ الْمَالِكِيُّ فِي شَرْحِ هَذَا الْحَدِيْثِ: وَقَدْ كَانَ عَمَّارٌ بَرِيْئًا عَنِ الْخُبْثِ مُبَرِّئًا غَيْرَهُ عَنْهُ، وَتَبْرِئَتُهُ لِلْغَيْرِ بِأَنَّ أُمَّةً كَانَ فِيْهَا لَاخُبْثَ عِنْدَهَا، لِأَنَّهُ طَيِّبُهَا، أَيْ شَهِدَ لَهَا بِالطَّيِّبِ بِكَوْنِهِ فِيْهَا، كَمَا شَهِدَ عَلَى الأُخْرَى بِالْبَغْيِ لِكَوْنِهِ عَلَيْهَا، بِقَوْلِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي عَمَّارٍ: تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ. أَيْ الطَّالِبَةُ لِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِنَّمَا كَانَتْ تَطْلُبُ الدُّنْيَا وَلَكِنْ بِاجْتِهَادٍ.
(ابن العربي المالكي في عارضة الأحوذي، 13/169-170).
قاضی ابوبکرابن العربی مالکی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے : حضرت عمار رضی اللہ عنہ خود خُبث یعنی پلیدی سے پاک تھے اور دوسروں کو پلیدی سے پاک کرنے والے تھے، دوسروں کو پاک اور مبراء کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جس لشکر میں تھے وہ لشکر نیت کی پلیدی سے دور تھا، اس لیے یہ اُن کے حق میں مطَیِّب (پاکیزہ کرنے والے) تھے، یعنی اِن کی اُس گروہ میں موجودگی اُس گروہ کے پاک ہونے کی عملی گواہی تھی، جیسا کہ ان کا دوسرے گروہ کے خلاف ہونا اس گروہ کے باغی ہونے کی گواہی تھی، اس لیے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : (تجھے باغی گروہ قتل کرے گا) اس کا مطلب ہے : ناحق کو طلب کرنے والا گروہ، اور وہ گروہ محض دنیا کا طالب تھا لیکن اجتہاد سے۔
وَفِي حَدِيْثٍ آخَرَ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ، كِتَابُ الإِيْمَانِ وَشَرَائِعِهِ، بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيْمَانِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: «مُلِئَ عَمَّارٌ إِيْمَانًا إِلَى مَشَاشِهِ».
امام نسائی نے اس موضوع پر اپنی ’’سنن‘‘ کی ’’كتاب الإیمان وشرائعه، باب تفاضل أهل الإیمان‘‘ میں ایک اور روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار کی ہڈیوں تک میں ایمان بھرا ہوا ہے۔
(أخرجه النسائي في السنن، كتاب الإيمان وشرائعه، باب تغافل أهل الإيمان، 8/111، الرقم/ 5007؛ وابن ماجه في السنن، باب في فضائل أصحاب رسول الله، فضل عمار بن ياسر، 1/52، الرقم/147، وذكره ابن الأثير في جامع الأصول، 9/46، الرقم/6585).
وَفِي حَدِيْثٍ آخَرَ بِسَنَدٍ مُتَّصِلٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رضی ا لله عنہا، قَالَتْ: مَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی ا لله علیہ وسلم أَشَاءُ أَنْ أَقُوْلَ فِيْهِ إِلَّا قُلْتُ: إِلَّا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی ا لله علیہ وسلم يَقُوْلُ: «إِنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ حُشِيَ مَا بَيْنَ أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ إِيْمَانًا».
اسی موضوع پر متصل سند کے ساتھ ایک اور حدیث بھی مروی ہے، مسروق نے اُم المومنین سیدۃ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایسا کوئی نہیں جس کے بارے میں اگر میں کچھ کہنا چاہوں تو نہ کہہ سکوں، سوائے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: عمار اپنے قدموں کے تلووں سے لے کر کانوں کی لَو تک ایمان سے بھرا ہوا ہے۔
(ذكره ابن عبد البر في الاستيعاب، 3/1138).
وَفِي حَدِيْثٍ آخَرَ: مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللهُ.
(أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ فِي الْمُسْنَدِ، وَالْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ).
(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4/89، الرقم/16860، والحاكم في المستدرك، 3/441، الرقم/5674).
ایک اور حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : جس شخص نے عمارسے دشمنی رکھی اللہ تعالیٰ اُس کو دشمن رکھتاہے اور جس نے عمارسے بغض رکھا اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھتاہے۔
اسے امام احمد بن حنبل نے ’’المسند‘‘ میں اور امام حاکم نے ’’المستدرك‘‘ میں روایت کیا ہے۔
وَنَقَلَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ فِي ‹‹الْإِصَابَةِ›› الإِجْمَاعُ عَلَى أَنّهُ قُتِلَ فِي جَيْشِ عَلِيٍّ رضی الله عنہ بِصِفِّيْنَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِيْنَ لِلْهِجْرَةِ. (ابن حجر العسقلاني في الإصابة، 4/575).
حافظ ابن حجر عسقلانی نے ’’الإصابة‘‘ میں نقل کیا ہے: اس پر اجماع ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے اور صفین میں 37 ہجری میں شہید کیے گئے۔- ابو محمد السلفی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں