اتوار، 4 جنوری، 2026

معاویہ کی معنوی تحریف حدیث و ابن کثیر

معاویہ کی معنوی تحریف حدیث و ابن کثیر
حافظ ابن کثیر رحمہ للہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو قتل کرنے پر جو عذر پیش کیا گیا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں امیر معاویہ نے شامیوں کو دھوکا دیا اس تاویل کے ساتھ :
جب عمار رض کو معاویہ رض کے گروہ نے شیہد کردیا تو معاویہ رض کو حدیث سنائی گئی کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔ جوابا معاویہ رض نے فرمایا یہ میری نہیں علی رض کی وجہ سے قتل ہوا ہے کیونکہ وہ اسے اس جنگ میں لایا تھا۔
اس پر ابن کثیر فرماتے ہیں:
إنما قتله من أخرجه، يخدع بذلك أهل الشام.
کہ معاویہ نے فرمایا کہ عمار کو اس نے قتل کیا ہے جو اس کو لے ساتھ لے کر آئے، اس بات کے ساتھ معاویہ شامیوں کو دھوکا دے رہھے تھے۔
مزید فرمایا :
وهذا التأويل الذي سلكه معاوية رضي الله عنه بعيد،
اور معاویہ رض نے جو یہ حدیث نبوی کی تاویل کی یہ بہت ہی بعید ہے۔

إذ لو كان كذلك لكان أمير الجيش هو القاتل للذين يقتلون في سبيل الله
کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر ہر شیہد فی سبیل اللہ کو اسی کے جیس کے امیر نے قتل کیا ہے کیونکہ وہی اپنی فوج کو دشمنوں کی تلواروں کے سامنے لے کر آئے۔
البداية والنهاية
اب یہاں نہ صرف ابن کثیر مشجارات صحابہ پر تفصیلی بحث کر رہے ہیں بلکہ سیدنا معاویہ رض کو حدیث نبوی دھوکے سے رد کرنے پر مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ کیونکہ اگر معاوہہ رض یہ بات تسلیم کر لیتے تو شامی ان کا ساتھ کیوں دیتے؟
🖊️ محمد کاشف خان (2019)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں