اور حدیث میں ہے : عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَبْدِاللهِ بْنِ أَبِي أَوفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ، انْتَظَرَ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ: «يَا أيُّهَا النَّاسُ، لَا تَتَمَنَّوا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيوفِ».
ثمَّ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانصُرْنَا عَلَيْهمْ»[1]؛ متفق عليه.
ترجمہ: ابو ابراہیم عبد اللہ بن ابو اوفی کی روایت ہے کہ نبی کریم ص کسی غزوے میں تھے، جس میں دشمن سے جنگ ہوئی ۔توآپ نے انتظار کیا حتى کہ سورج ڈھل گیا۔ پھر آپ نے خطبہ دیا: اے لوگو ! دشمن سے جنگ و مٹبھیڑ کی تمنا نہ کرو۔اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔لیکن جب تمہاری ان سے جنگ ہوجائے تو صبر سے کام لو۔صبر کا دامن تھام لو۔اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔
پھر آپ ص نے دعا کی کہ اے کتاب کے نازل کرنے والے ! بادل کو چلانے والے! لشکروں کو شکست دینے والے ! ان کو شکست سے دوچار کر اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔ بخاری و مسلم
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں