آیت وصی رسول ص مولا علی کرم۔۔۔
اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا. سورہ 5،آیت 67--اعلی حضرت
اے پیغمبر ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا ۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو ﴿تمہارے مقابلہ میں﴾ کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا.--مودودی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾ (سورہ مائدہ،5:67)
شان نزول :-
فخر الدین رازی اس آیت مبارکہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :-
مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت علی ابن ابی طالب کرم۔۔۔ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اکرم ص نے مولا علی کرم۔۔۔ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ جس کا میں مولی علی اس کا مولی،اے اللہ دوستی کر اس سے جو علی سے دوستی کرتا ہے اور دشمنی کر اس سے جو علی سے دشمنی کرتا ہے .حضرت عمر نے مولا علی کرم۔۔۔ سے ملاقات کی اور کہا کہ مبارک ہو اے ابن اب طالب ! آپ میرے اور ہر مومن اور مئومنہ کے مولا قرار پائے ہیں۔
رازی کہتے ہیں، یہی ابن عباس ،براء بن عازب اور محمد بن علی کا قول ہے یعنی آیت کا مولا علی کرم۔۔۔ کی فضیلت میں نازل ہونا ، ابن عباس ،براء بن عازب اور محمد بن علی کی روایت سے بھیی ثابت ہے۔
(تفسیر کبیر،رازی،ج 12، ص 53)
علامہ واحدی اپنی کتاب اسباب نزول میں اس طرح بیان کرتے ہیں:-
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ یہ آیت بلغ ماانزل الیک من ربک ... غدیر خم کے دن علی ابن ابی طالب (کرم۔۔۔) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
(اسباب نزول ، واحدی ، ص 202)
علامہ سیوطی اس آیت کا شان نزول اس طرح بیان کرتے ہیں:-
امام ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت (سورہ مائدہ ،67) مولا علی کرم۔۔۔ کے متعلق غدیر خم کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔
ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رض سے روایت نقل کی ہے کہ ہم رسول اللہ ص کے زمانہ میں یوں پڑھتے (يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ان علیامولی المومنین ) کہ حضرت علی (کرم۔۔۔) مومنوں کے مولا ہیں۔
یعنی یہ جملہ بطور تفسیر پڑھا جاتا تھا ۔
(الدرالمنثور ، سیوطی ، ج 5 ، ص 383)
قاضی شوکانی اپنی تفسیر میں الدرالمنثور والے اقوال درج کئے ہیں،یعنی یہ آیت مبارکہ مولا علی کرم۔۔۔ کی شان میں نازل ہوئی مقام غدیر پر ۔
(فتح القدیر ، شوکانی ، ص 384)
شیخ محمد عبدہ مصری لکھتے ہیں کہ امام ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت (سورہ مائدہ ،67) مولا علی کرم۔۔۔ کے متعلق غدیر خم کے روز رسول اللہ ص پر نازل ہوئی
( تفسیر المنار ، عبدہ ، ج 6 ، ص 463)
ابو اسحاق ثعلبی اپنی تفسیر میں اس آیت مبارکہ کے شان نزول کے بارے میں دو اقوال لے کر آئیں ہیں:-
امام محمد باقر (رح) نے فرمایا کہ آیت تبلیغ مولا علی کرم۔۔۔ کی فضیلت میں نازل ہوئی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ص نے حضرت علی کرم۔۔۔ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: میں جس کا مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔
اسی طرح ابن عباس سے بھی اس آیت مبارکہ کا فضیلت علی (ع) میں نازل ہونے کا قول موجود ہے۔
(تفسیر ثعلبی ، ج 4، ص 92)
حافظ ابن عساکر اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں :-
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ یہ آیت (سورہ مائدہ ،67) مولا علی کرم۔۔۔کے متعلق غدیر خم کے روز رسول اللہ ص پر نازل ہوئی
(تاریخ دمشق ، ج 42، ص 237)
بدرالدین عینی حنفی اپنی شرح بخاری میں لکھتے ہیں :-
علامہ عینی نے آیت تبلیغ کے سلسلہ میں حافظ واحدی سے وہ قول نقل کیا ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے اور عینی لکھتے ہیں کہ اب امام باقر (رح) نے فرمایا :ا س آیت کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے علی بن ابی طالب (کرم۔۔۔) کی فضیلت میں جو حکم نازل ہو چکا ہے اس کو پہنچا دو،پس یہ آیت نازل ہو ئی تو حضور ص نے علی کرم۔۔۔ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا : جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، ج 18 ، ص 277)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باطنی تفسیر :-
اس آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے یا رسول اللہ(ص) جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کر دیں ۔وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ اور اگر آپ(ص) نے وہ بیان نہ کیا تو آپ(ص) نے رسالت کا حق ادا نہ کیا۔یہ کون سی چیز اس آیت میں بیان ہو رہی ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سورہ المائدہ آنے تک تبلیغ شروع نہیں کی تھی؟ کیا ایسا تھا کہ اللہ تعالیٰ تو قرآن بھیج رہا تھا اور (معاذ اللہ) حضور پاک ص اس کی تبلیغ نہیں فرما رہے تھے؟ ۔نہیں۔ پھر یہ کیا تھا؟اس کے بعد اور بھی معنی خیز ارشاد باری تعالیٰ ہے،اللہ آپ(ص) کی عصمت کی حفاظت انسانوں سے کرے گا۔ وہ بیان کی جانے والی بات کیا ہے کہ آپ(ص) کی عصمت کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا اور کوئی انسان اس پر ضرب نہیں لگا سکے گا۔رہ گئی بات کافروں کی تو اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ یہ کیا ہے؟ کیا سمجھانا چاہ رہا ہے اللہ؟ کیا معاذ اللہ حضور ص ایسا کر سکتے ہیں کہ جو اللہ تعالی نے آپ(ص) پر نازل کیا ہو ، اس کو آگے نہ پہنچائیں ، تو پھر یہ کونسی بات ہے جس کو پہنچانے کے لیے اللہ تعالٰی اتنی تاکید فرما رہا ہے؟ در منصور میں علامہ جلال الدین سیوطی رح نے فرمایاکہ اس آیت سے مراد ، کہ وہ بات جو ہم نے تم پر نازل کی ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر وہ بات نہیں پہنچائی تو رسالت کا حق ادا نہیں کیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بات کو پہنچانے میں رسالت کی بقا ہے۔اگر وہ بات نہ پہنچائی جائے تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ جب حضوؐر ص اس دنیا سے پردہ فرمائیں گے تو سارا معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا۔تو جب یہ آیت نازل ہو گئی اور اس کے بعد حجة الوداع کے موقع پر نبی پاکﷺ نے فرمایا
مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ
مشکوة شریف جلد پنجم ، حضرت ابی ابن طالب حدیث 719
یہ جو مولی علی کی تقرری ہے کہ جس کے محمد رسول اللہ ص مولی ہیں اس کے علی کرم۔۔۔ بھی مولی ہیں ! یہ اتنی اہم بات ہےکہ اس بات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے وہ پہنچا دیں اور ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے . تیری عزت کی حفاظت انسانوں سے ہم کریں گے۔یعنی اس دور میں ایسے لوگ تھے کہ جن سے خوف تھا کہ جو حضوؐر ص کے دامن کو داغدار کرنے کی کوشش کرتے۔
مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ اہل تشیعہ اس فرمان کی غرض و غایت سمجھے بغیر اس کی ادھوری تشریح کرتے ہیں کہ یہ مولی علی کرم۔۔۔کی حقیقت بتائے جانے کی بات ہے، یہ بات صحیح ہے لیکن وہ اس بات کو صرف مولی علی کرم۔۔۔ کی ذات تک ہی محدود رکھتے ہیں اور اس فرمان میں پوشیدہ معنی کی وسعت کو نہیں دیکھ پاتے۔ اگر اس فرمان کو مولی علی کرم۔۔۔ تک ہی رکھنا تھا تو پھر مولی علی کرم۔۔۔ کا نام لینے کی بھی کیا ضرورت،حضوؐر ص ہی کافی تھے وہی سب سے عظیم المرتبت ذات ہیں ۔
باطنی قرآن مکنون مولی علی سے آگے بڑھا ہے:
مولی علی کرم۔۔۔ سے دین کا اصل علم آگے بڑھے گا، باطنی قرآنِ مکنون مولی علی کرم۔۔۔ سے آگے سینہ بسینہ چلے گا اور وہاں سے ولائیت کی ، اللہ کی محبت کی شاخیں پھوٹیں گی اور تعلیمات فقر آگے بیان ہو گی، اس اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ آپ منصب مولی علی کرم۔۔۔ کو آگے بیان فرما دیں ورنہ رسالت کا حق ادا نہیں ہو گا کیونکہ رسالت کا سارا کام تو سینہ بسینہ جو قرآن مکنون کا علم چلے گا اس سے ہونا ہے۔ تو مولی علی کرم۔۔۔ کی شان بیان کرنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا۔
وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
سورة النحل آیت نمبر 107
یہ جو فرمان اللہ نے حضوؐر پر نازل کیا اور اگرحضوؐر آگے بیان نہ فرمائیں تو رسالت کا حق ادا نہیں ہوتا اور اگر بیان کر دیا اور امت محمدﷺ میں ہو کر بھی کچھ لوگ مولی علی کرم۔۔۔ کو نہ مانیں تو وہ کافر ہوجائیں گے اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔مولی علی کرم کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے، علی کا ذکر کرنا عبادت ہے اور کچھ احادیث میں تو یہاں تک لکھا ہےکہ نبی پاک نے فرمایا۔ علی تمہارا حاکم ہے۔
یہ بات کوئی بڑی نہیں کہ مولی علی کرم۔۔۔ کا ذکر کرنا عبادت ہے، یا مولی علی کرم۔۔۔کو دیکھنا عبادت ہے ۔یہ کمال مولی علی کرم۔۔۔تک ہی محدود نہیں رہا۔ اللہ رب العزت نے جو کمالات باطن مولی علی کرم۔۔۔کو عطا فرمائے وہ کمالات مولی علی کی ذات تک ہی محدود نہیں رہے ، آپ کرم۔۔۔کے سینے سے سینہ بسینہ چلتے رہے۔مولی علی کرم۔۔۔ کو دیکھنا عبادت ہے، جب مولی علی کرم۔۔۔کے سینے سے وہ علم آگے گیا تو پھر حسن بصری رح کو دیکھنا بھی عبادت بن گیا، اویس قرنی رح کو دیکھنا بھی عبادت ہو گیا، داتا علی ہجویری رح کو دیکھنا بھی عبادت بن گیا، خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی رح کو دیکھنا بھی عبادت ہو گیا اور پھر جس جس سینے میں اللہ کا نور اور اللہ آ کر بیٹھ گیا اور اس کو مرشد کامل کا مرتبہ ارشاد ہو گیا تو ہر ایسی ہستی کو دیکھنا عبادت ہو گیا ، اس کا نام لینا عبادت ہو گیا۔سلطان صاحب کہتے ہیں
مرشد دا دیدار وے باھو ۔۔۔۔مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو
باھو شاہ کی مکے جانا ۔۔۔۔۔ جد حج ہوئے وچ گھر دے ھو
اب مرشد کا دیدار لاکھ کروڑ حجوں جیسا ہے تب ہی تو وہ کہتے ہیں ۔اگر گھر بیٹھے حج ہو جائے تو مکہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یعنی مرشد کو دیکھ لینے سے ایک لاکھ حج ہو جاتے ہیں اور جو مرشد کو پیار سے دیکھنے پر منع کرے، مرتد ہے۔اب مولی علی کرم۔۔۔کے بارے میں یہ جو گفتگو ہے یہ کسی اور صحابی کے لیے نہیں ہے، مولی علی کرم کو حضور پاک ﷺنے باطنی علم عطا فرمایا کیونکہ آپ ص نے فرمایا
عَن الصَّنٰابجِی،عَن عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاٰم قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا، فَمَنْ اَرٰادَ الْعِلْمَ فَلْیَأتِ بٰابَ الْمَدِیْنَةِ۔
حاکم المستدرک جلد نمبر 3 صفحہ 126
ترجمہ : صنابجی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ۔ جو کوئی علم چاہتا ہے، وہ شہر علم کے دروازے سے آئے۔
اگر سارا کا سارا علم قرآن پاک میں ہوتا حضور اپنی طرف اشارہ کیوں کرتے کہاَ " انَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ ، میں ہوں علم کا شہر وَعَلِیٌّ بَابُھَا ، اور علی اس کا دروازہ ہیں" ۔ دروازے سے مراد یہاں یہ ہے کہ کسی چیز کو اس سینے سے نکل کر باہر جانا ہے، وہ کون سی چیز ہے جو علی کرم۔۔۔ کے سینے سے نکل کر باہر گئی؟ وہ باطنی علم ہے۔جہاں جہاں تک یہ باطنی علم گیا، وہاں وہاں ان چہروں کو دیکھنا عبادت قرار پایا ان کے اسماء کا ذکر عبادت قرار پایا۔ جیسا کہ حضور غوث پاک جیلانی رض نے فرمایا میرے اسم میں اسم اعظم کی تاثیر ہے ۔---منقول !
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں