معاویہ ثانی کا یزید و معاویہ بن صخر پر اعتراض
اسی طرح کتاب النجوم الزاهرة فی ملوک المصر و القاهرة میں عالم اہل سنت اتابکی نے «ذکر خلافۃ معاویۃ بن یزید بن معاویۃ» کے عنوان سے نقل کیا ہے کہ معاویہ ابن یزید ابن معاویہ کہ جو یزید کا بیٹا اور معاویہ کا پوتا ہے، اس نے یزید کے واصل جہنم ہونے کے بعد، بعنوان حاکم اموی منبر پر بیٹھ کر کہا:
أیها الناس، إن جدی معاویة نازع الأمر أهله ومن هو أحق به منه لقرابته من رسول الله صلی الله علیه وسلم وهو علی بن أبی طالب،
اے لوگو ! میرے جدّ معاویہ نے خلافت کے لیے علی ابن ابی طالب سے اختلاف کیا، حالانکہ رسول خدا سے قرابت کیوجہ سے علی، حق پر تھے۔
ورکب بکم ما تعلمون، «حتی أتته منیته، فصار فی قبره رهیناً بذنوبه وأسیراً بخطایاه» «ثم قلد أبی الأمر فکان غیر أهل لذلک، ورکب هواه وأخلفه الأمل، وقصر عنه الأجل. وصار فی قبره رهیناً بذنوبه، وأسیراً بجرمه» «ثم بکی حتی جرت دموعه علی خدیه» «ثم قال: إن من أعظم الأمور علینا علمنا بسوء مصرعه وبئس منقلبه» «وقد قتل عترة رسول الله صلی الله علیه وسلم وأباح الحرم وخرب الکعبة»
اس (معاویہ) نے خود کو کس طرح تم لوگوں کی گردنوں پر سوار (مسلط) کیا کہ تم سب بہتر جانتے ہو، یہاں تک کہ وہ موت پا کر قبر میں چلا گیا ہے، اس حالت میں کہ قبر اس کے گناہوں اور خطاؤوں کے ہاتھوں اسیر ہے،
اس (معاویہ) کے بعد میرا باپ یزید بھی خلافت کا اہل نہیں تھا، وہ بھی اپنی ہوا و ہوس پر سوار ہو کر قبر میں چلا گیا ہے اور وہ بھی اپنے گناہوں اور جرم کے ہاتھوں اسیر ہے۔
پھر اس (معاویہ ابن یزید) نے بہت گریہ کیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ میرا باپ بد ترین جگہ پر بد ترین عذاب میں مبتلا ہے اور وہ بد ترین ٹھکانے میں ہے، اسلیے کہ اس نے رسول خدا کی عترت کو شہید کیا ہے، اور اس نے خانہ کعبہ کی حرمت کو پامال کیا ہے اور خانہ کعبہ کو منہدم کیا تھا۔
النجوم الزاهرة فی ملوک مصر والقاهرة، المؤلف: یوسف بن تغری بردی بن عبد الله الظاهری الحنفی، ج1، ص 164
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں