بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن !
ابوالکلام آزاد کے تجزیے کا عبدالملک بن مروان کے عمل سے ثبوت :
پہلے قول ابوالکلام آزاد:
بنی امیہ کا استبداد "امر بالمعروف" کے سد باب کا پہلا دن :
ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر قیامت کے دن دنیا کے ظالموں کی صفیں عام فساق و فجار سے الگ قرار دی جائیں تو ان میں سب سے پہلی صف یقینا (بنی امیہ) کی ہوگی۔ انہی ظالموں نے اسلام کی اس روح حریت کو غارت ظلم و استبداد کیا اور اس کے عین عروج اور نشوونما کے وقت اس کی قوت نمو کو اپنے اغراض شخصیہ کے لیے کچل ڈالا۔ ان کا اقتدار و تسلط فی الحقیقت "امر بالمعروف " کے سد باب کا پہلا دن تھا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اسلام کی جمہوریت کو غارت کرکے اس کی جگہ شخصی حکومت کی بنیاد ڈالی "جو یقینا اعتقاد قرآنی کی رو سے کفر جلی ہے" بلکہ سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اظہار حق اور امر بالمعروف کی قوت کو تلوار کے زور سے دبا دینا چاہا اور مسلمانوں کی حق گوئی کے ترقی کناں ولولے کو مضمحل کر دیا۔ تاہم چونکہ عہد نبوت کا فیضان روحانی اور تعلیم قرآنی کا اثر ابھی بالکل تازہ تھا اس لیے اگرچہ طرح طرح کی بدعات اور محدثات و معاصی کا بازار گرم ہو گیا تھا لیکن پھر بھی "امر بالمعروف " کی آواز کی گرج کوفہ و دمشق کے ایوان ومحل کو لرزا دیتی تھی ۔
اب قول عبدالملک بن مروان:
زبانیں بند کرانا حق کہنے سے :
حق کی آواز کو خاموش کرانا، کس کی ایجاد ہے ؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے عرب اور مروان کے سارے خاندان میں عبدالملک بن مروان (اموی خلیفہ) سے بڑھ کر کوئی شخص ظالم اور فاسق وکافر نہیں تھا اور عبدالملک کے مقرر کردہ تمام عمال (گورنروں) میں کوئی عامل حجاج سے بڑھ کر ظالم اور فاسق و کافر نہیں تھا۔ عبدالملک ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام سر انجام دینے والے لوگوں کی زبانیں کاٹ ڈالی تھیں۔ ایک دفعہ منبر پر چڑھ کر کہنے لگا۔” خدا کی قسم ! میں کوئی کمزور خلیفہ نہیں ہوں۔ (اشارہ حضرت عثمان کی طرف تھا) اور نہ ہی کوئی مصلحت کوش خلیفہ (اشارہ حضرت معاویہ کی طرف تھا) تم لوگ ہمیں بہت سی باتیں کرنے کا حکم دیتے ہو اور خود یہ باتیں اپنی ذات کے سلسلے میں بھول جاتے ہو۔ خدا کی قسم آج کے بعد جو شخص بھی مجھ سے تقویٰ اور اللہ سے ڈرنے کی بات کرے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔
قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِى الظّٰلِمِيۡنَ
خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کیلئے نہیں ہوا کرتا۔
احکام القرآن
مفسر: امام ابوبکر الجصاص
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 124
۔
۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں