مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب
وَتَحَرَّوْا لِحَرْبِ عَدُوِّکُمْ، فَانْتَبِهُوا إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ الطلقاء وَأَبْنَاءَ الطلقاء وَ أَهْلَ الْجَفَاءِ، وَ مَنْ أَسْلَمَ کَرْهاً... وَلِلْإِسْلَامِ کُلِّهِ حَرْباً، أَعْدَاءَ السُّنَّةِ وَالْقُرْآنِ، وَ أَهْلَ الْبِدَعِ وَالْأَحْدَاثِ، وَ أَکَلَةَ الرِّشَا، وَ عَبِیدَ الدُّنْیا:
دشمنوں سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اور جان لو کہ تم طلقاء اور ان کے اہل جفا بیٹوں سے نبرد آزما ہو، جو دباؤ کے تحت ڈر کے مارے اسلام لائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اسلام سے جنگ کرتے رہے۔ یہ لوگ قرآن و سنت کے دشمن ہیں۔ یہی لوگ اہل بدعت ہیں۔ یہی لوگ راشی اور دنیا کے رسیا بندے ہیں۔
(دینوری، ابنقتیبه؛ الامامه والسیاسه، بیروت، دارالاضواء، 1410 ق، طبع اول، ص178.)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں