معاویہ کو مؤمنوں کا ماموں کہنا بدعت !
امام تقی الدین مقریزی رحمہ اللہ (845ھ) فرماتے ہیں :
اور علماء کی ایک جماعت نے معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ خال المومنین کہنے سے منع کیا ہے، کیونکہ ایسا کہنا بدعت ہے، ایسا صرف ان کی شان میں غلو کرنے والے کہتے ہیں، حتی کہ وہ (غلو کرنے والے) یہ تک گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی معاویہ کو خال المومنین کہا جاتا تھا اور وہ جھوٹ کہنے کی حدیں عبور کرگئے اور اس کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان تک شمار کردیا۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ جب کہ صحابہ اور تابعین کے زمانوں میں اس لقب کے اطلاق تک کا معلوم نہیں چلتا۔
معاویہ رض نے جب محمد بن ابی بکر رض کو شہید کیا، تو معاویہ کے مخالفین میں سے کسی نے یہ کہ کر اعتراض نہیں کیا کہ تم نے خال المومنین محمد بن ابی بکر کو قتل کردیا (اور محمد بن ابی بکر سیدہ عائشہ کے بھائی تھے، جو کہ اس اصول کے مطابق خال المومنین بنتے ہیں).
عبداللہ بن زبیر (رض) نے جب سوید بن معاویہ کے خلاف مکہ میں خروج کیا، تو لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ وہ مؤمنوں کی خالہ (اسماء بن ابی بکر رض) کے بیٹے ہیں، اور نہ کسی صحابی نے ان کو اس لقب سے پکارا۔
اور نہ ہی کبھی عبداللہ بن عمر رض اور عبدالرحمن بن ابی بکر رض کو کسی نے خال المومنین کہا۔
جب کہ اہل علم میں اس بات میں کوئی ادنٰی بھی اختلاف اور شک نہیں کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رتبے اور فضیلت میں رسول اللہ ﷺ کے نزدیک سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے افضل تھیں۔ پھر ان کے بھائیوں کو خال المومنین کیوں نہیں کہا گیا؟۔ پھر معاویہ بن ابی سفیان رض کے ساتھ خال المومنین کیسے کہا جاسکتا ہے؟.
جب کہ معاویہ اور ان کے والد ابو سفیان کا رتبہ نبی ﷺ کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر سے کم تھا۔ عبد اللہ بن عمر اپنے علم اور تقویٰ میں ان دونوں سے سبقت رکھتے تھے۔
یہی بات سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمائی کہ جب ایک عورت نے ان سے کہا "اے ماں"، تو انہوں نے جواب دیا "میں صرف تمہارے مردوں کی ماں ہوں". یعنی اس کے ذریعے انہوں نے امہات المومنین کے معنی سمجھائیے کہ اس مراد صرف مردوں سے نکاح کی حرمت ہے فقط۔ (وگرنہ حقیقی مائیں اپنے بیٹوں سے پردہ نہیں کرتیں، جب کہ نبی کی ازواج تمام صحابہ اور مردوں سے پردہ کرتی تھیں).
ومنع قوم من جواز تسمية معاوية خال المؤمنين : بأن هذا أمر مبتدع , لم يطلقه عليه إلا الغلاة في موالاته , حتى إنهم زعموا أنه دعي بذلك في عهد النبي صلى الله عليه وسلّم , وبالغوا في الإفك , حتى نسبوه إلى انه من قول الرسول صلى الله عليه وسلّم , وليس لذلك أصل ، ولا عرف إطلاق ذلك في عصر الصحابة ، والتابعين ، فقد قتل محمد بن أبى بكر , ولم يشنع أعداء معاوية إذ ذاك بأنه قتل خال المؤمنين ، وثار عبد الله بن الزبير بمكة على سويد بن معاوية ولم [يكترث] بأنه ابن خالة المؤمنين ، ولا دعاه به أحد من الصحابة ، ولم يدع عبد الله بن عمر بخال المؤمنين ، ولا قيل قط لعبد الرحمن بن أبى بكر خال المؤمنين . ولا يمترى عامة أهل العلم في أن منزلة عائشة وحفصة رضى الله تبارك وتعالى عنهما من رسول الله صلى الله عليه وسلّم كانت أعظم من منزلة أم حبيبة بنت أبى سفيان رضى الله تبارك وتعالى عنه , ومع ذلك فلم يدع أحد من إخوتها بخال المؤمنين ، فكيف يطلق على معاوية بن أبى سفيان رضى الله تبارك وتعالى عنه : خال المؤمنين ؟ ومنزلته ومنزلة أبيه من رسول الله صلى الله عليه وسلّم دون منزلة عبد الله بن عمر , ومكانة عبد الله من العلم والورع والسابقة مكانة ، وهذه عائشة رضى الله تبارك وتعالى عنها تقول وقد قالت لها امرأة يا أمه : لست لك بأم ، إنما أنا أم رجالكم , فعلمتنا بذلك معنى الأمومة تحريم نكاحهن
إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع
تحریر 🖌️ محمد کاشف خان
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں