جمعرات، 1 جنوری، 2026

معاویہ پر مولانا مودودی و تقی عثمانی

معاویہ پر مولانا مودودی و تقی عثمانی
مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب خلافت و ملوکیت (ایڈیشن 1966ء تا 1987ء)صفحہ 174 پر لکھا ہے کہ:
"مال غنیمت کی تقسیم کے معاملہ میں بھی حضرت معاویہ رض نے کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔۔۔۔۔"
مولانا تقی عثمانی صاحب نے اس پر اپنی کتاب "حضرت معاویہ رض اورتاریخی حقائق" میں بڑا واویلا مچایا ہے کہ حضرت معاویہ رض صحابی رسول تھے ، ان پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی خلاف ورزی کا "الزام" لگانا سراسر زیادتی اور اہل السنۃ کے عقیدے کے خلاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں تقی عثمانی صاحب کہنا چاہ رہے ہیں کہ کوئی صحابی رسول ، قرآن و سنت کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ مطلب یہ کہ وہ معصوم ہوتا ہے۔ حالانکہ اہل السنۃ و الجماعۃ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی اور رسول کے سوا کوئی انسان بشمول صحابہ کرام ، کبیرہ اور صغیرہ کسی قسم کے گناہ سے معصوم نہیں ہے۔
لیکن چلئے ہم اہل السنۃ و الجماعۃ کے عقیدے کو تقی عثمانی صاحب کے کہنے پر کچھ وقت کے لئے معطل کر دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر شیعوں کا یہ عقیدہ اپنا لیتے ہیں کہ نبی کے علاوہ بھی کوئی انسان معصوم ہو سکتا ہے ، شیعہ حضرات اپنے اس عقیدے کی رو سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سمیت اپنے بارہ اماموں کو معصوم عن الخطاء قرار دیتے ہیں (جس کی وجہ سے ہم انہیں گمراہ کہتے ہیں) ۔ فرض کریں ہم یہاں تقی عثمانی صاحب کی تقلید کر لیتے ہیں ، یعنی کسی بھی صحابی سے قرآن و سنت کی خلاف ورزی کے صدور کو ناممکن مان لیتے ہیں۔ اب نتیجہ یہ نکلے گا کہ شیعوں کے بارہ ائمہء معصومین کے مقابلے میں ہمیں پورے سوا لاکھ صحابہ کرام کو معصوم ماننا پڑے گا ( اب اخلاقی طور پر ، اس نئے عقیدے اور فرقے کے معرض وجود میں آنے کی عنداللہ ذمہ داری تقی عثمانی صاحب کو لازماً قبول کرنی ہوگی) البتہ دنیا میں اس نئے عقیدے اور فرقے کے وجود کا ایک "بڑا فائدہ" یہ ہوگا کہ ہم اس کی بنیاد پر مولانا مودودیؒ کے اس جملے کو گمراہ کن کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں گے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت معاویہ رض نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے صریح احکامات کی خلاف ورزی کی تھی!
بات یہیں ختم ہو جاتی تو شاید پھر بھی اچھا ہوتا ، لیکن تھوڑا اور آگے چلتے ہیں ، اور دیکھتے ہیں کہ تقی عثمانی صاحب جیسی نامی گرامی صاحب ِ علم شخصیت کیا واقعی مدافعتِ صحابہ  کے اپنے اس عقیدے میں سچی اور پکی ہے؟ کیا وہ واقعی تمام صحابہ کرام کو قرآن و سنت کی خلاف ورزی سے مبرا اور تنقید سے بالاتر سمجھتے ہیں یا پھر ان کی یہ "عنایات" صرف امیر معاویہ رض کے لئے خاص ہیں؟
اپنی کتاب "حضرت معاویہ رض اور تاریخی حقائق" کے صفحہ 166 پر مثالیں دیتے دیتے وہ یہ لکھ گئے ہیں:
"حضرت ابوذر غفاری رض کا یہ مسلک مشہور و معروف ہے کہ وہ ایک دن کی روزی سے زیادہ کی رقم اپنے پاس رکھنا حرام سمجھتے تھے ، ظاہر ہے ان کا یہ مسلک قرآن و سنت کے واضح دلائل کے خلاف ہے ۔۔۔۔الخ"

ہاں بھئی ، کنفیوژ یاد ہے؟
"حضرت معاویہ رض کا فلاں کام کتاب اللہ اور سنت رسول کے صریح احکامات کے خلاف تھا"
اور
"حضرت ابوذر غفاری رض کا فلاں مسلک قرآن و سنت کے واضح دلائل کے خلاف تھا۔"
ان دونوں جملوں میں فرق آخر کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ اول الذکر جملہ مولانا مودودیؒ کا ہے اور آخر الذکر جملہ مولانا تقی صاحب کا ہے؟ اور دونوں نے یہ الفاظ دو مختلف صحابہ کے متعلق ہی لکھے ہیں۔
یہاں تقی عثمانی صاحب نے حضرت معاویہ کے "دفاع" کی طرح حضرت ابوذر غفاری رض کے اوپر لگے اس "مشہور و معروف الزام" کی نفی نہیں کی ہے ، بلکہ اسے تسلیم کیا ہے اور نقل کیا ہے۔ (البتہ آگے چل کر انہوں نے قرآن و سنت کے اس "واضح مخالف مسلک" کو جس طرح "کارِثواب" بھی ثابت کرنے کی کوشش کرکے جس تضاد کا خود کو شکار کیا ہے وہ علمی لحاظ سے ایک مضحکہ خیز کہانی ہے جس پر ایک مستقل بحث کی جاسکتی ہے)
قارئین خود فیصلہ کریں ، تنقید اور کسے کہتے ہیں؟ کیا تنقید کے سینگ ہوتے ہیں؟ اگر تقی عثمانی صاحب کے نزدیک صحابہ پر تنقید کرنا واقعتاً حرام اور ناجائز ہوتا یا ان کی نظر میں صحابہ قرآن و سنت کے احکامات کی "خلاف ورزی" سے منزّہ و مبرّا ہوتے تو تقی عثمانی صاحب اس کتاب میں حضرت معاویہ رض کے "دفاع" کی طرز پر سیدھے سیدھے یہ بھی لکھ سکتے تھے کہ جن روایات میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے یہ خلاف ِ قرآن و سنت مسلک منسوب کیا گیا ہے وہ بطریق اولیٰ من گھڑت اور مردود ہیں اور گستاخانِ صحابہ کی اختراع کردہ  ہیں۔ (یعنی حضرت ابوذر غفاری رض کا شمار السابقون الاولون انصار صحابہ میں ہوتا ہے ، وہ  بدری صحابی بھی ہیں اور بیعت ِ رضوان کےمقدّس گروہ میں بھی شامل ہیں ۔ جبکہ حضرت معاویہ رض کا شمار تو طلقاء مکہ میں سے ایمان قبول کرنے والے اصحاب کے اندر ہوتا ہے ، حضرت ابوذر غفاری رض کی جلالت ِ شان سے امیر معاویہ رض کے مرتبے کا از روئے قرآن کوئی موازنہ و تقابل بنتا ہی نہیں ہے۔ تو اب جو فعل حضرت معاویہ رض سے صادر ہونا بعید از عقل و نقل ہے اس جیسے فعل یا رائے کا صدور حضرت ابوذر غفاری رض سے کیونکر ممکن مانا جائے؟)
لیکن یہاں تقی عثمانی صاحب نے حضرت معاویہ رض کے دفاع کی طرح حضرت ابوذر غفاری کے دفاع کے نام پر خواہ مخواہ کی تاویلات در تاویلات کا تکلّف بالکل نہیں کیا ہے کہ ان سے منسوب قرآن و سنت کے واضح مخالف مسلک رکھنے کی بات کو وہ یکسر مسترد کرتے!
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایک تو تقی عثمانی صاحب کے پیش نظر اصلاً "دفاعِ صحابہ" بطورِ مقصد سرے سے رہا ہی نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ رہا ہے کہ کیسے ملوکیت کا دفاع کرنے کے لئے خلافت اور شخصی ملوکیت کے درمیان  موجود بُعد المشرقین جتنے جوہری فرق کو اپنی مغالطہ انگیزی کے ذریعے پاٹ دیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ جس طرح نظام خلافت اسلام کا مطلوب و مقصود پولیٹیکل سسٹم ہے اسی طرح شخصی و خاندانی ملوکیت بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف چیز نہیں ہے کہ اس کی مخالفت کو بطور دینی ضرورت کے اپنی کوششوں کا حصہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے حضرت معاویہ رض کی صحابیت کو آلہء کار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور بطور حکمران ان کے کئے گئے کچھ خلافِ شرع اقدامات کا یا تو بالکلیہ انکار کیا ہے یا پھر اپنی الٹی سیدھی تاویلات کے ذریعے ان کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رض کے معاملے میں چونکہ ملوکیت کے دفاع کا کوئی مقصد براہ راست حاصل نہیں ہو سکتا تھا اس لئے اُن کے مسلک کو خلافِ قرآن و سنت قرار دینے میں مولانا تقی عثمانی صاحب کو کوئی تامّل نہیں ہوا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوذر غفاری رض کے متعلق ایسے الفاظ مولانا مودودیؒ نے نہیں لکھے ہیں ، اگر یہ الفاظ ان کے متعلق تقی عثمانی صاحب کی بجائے مولانا مودودیؒ کے ہوتے تو یہ مولانا مودودی پر دیوبندی حضرات کے عائد کردہ اعتراضات میں ایک اور کا اضافہ ہوتا۔ لیکن چونکہ یہاں ایک جلیل القدر صحابی پر معترض مولانا مودودیؒ نہیں بلکہ دیوبندی تقی عثمانی صاحب ہیں،  لہٰذا دیوبندی مفتیوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں، ان کے دارالافتاؤں میں تعطیلات کا اعلان ہوگیا اور ان کےفتویٰ نویسوں کے اقلام کی روشنائی ختم ہوگئی۔
واہ تقی عثمانی صاحب ! آپ صحابہ کے "السابقون الاولون" میں سے ایک صاحب پر تنقید کریں تو وہ درست ، اور مولانا مودودیؒ طلقاء مکہ میں سے ایک صاحب پر تنقید کریں تو وہ صحابہ کی گستاخی اور بے ادبی کے مجرم؟؟؟
اب ان دیوبندی علماء کے اصاغرین کی کم علمی اور کم فہمی اپنی جگہ ، لیکن کم علم و کم فہم ہونے کے باوجود اگر بندہ انصاف پسند ہو تو اس کی نظر میں مولانا مودودیؒ اور تقی عثمانی صاحب یا تو دونوں گستاخِ صحابہ قرار پانے چاہئیں ، یا پھر دونوں اس الزام سے بری! لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس"نبوی انصاف" کو خود ان "انبیاء کے وارثین" نے کہیں دفنا کر رکھ دیا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ تقی عثمانی صاحب نے حضرت ابوذر غفاری رض کے متعلق کچھ غلط لکھا ہے ۔ تقی عثمانی صاحب نے یقیناً حقیقت لکھی ہے ( کہ جناب ابوذر غفاری رض ، اللّٰہ کے حلال کردہ کو حرام قرار دینے کے مجاز نہیں تھے) لیکن جو مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے وہ بھی تو غلط نہیں ہے! پھر ان کے خلاف عوام الناس کے ذہنوں میں تشویش ڈالنے کا مقصد؟-,Pakistan .Dr. Mukhtar Ahmad

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟ --------------- کریم آقاﷺ کا فرمان فمر به النبي صلى...