دوزخ کی طرف بلانے والا گروہ
علامہ ابن تیمیہ اپنے فتاوی میں ارشادفرماتے ہیں
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کی امامت و قیادت برحق تھی ، اوران کی اطاعت واجب تھی.
اور ان کی اطاعت کی دعوت دینے والا ، جنت کی دعوت دیتا ہے، اور ان سے جنگ کی دعوت دینے والا ، دوزخ کی دعوت دے رہا تھا ، چاہے وہ تاویل کر رہا ہو۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی سے جنگ جائز نہیں تھی ، اور ان سے جنگ کرنے والا خطاکار تھا ، چاہے تاویل کر رہا ہو یا نہ کر رہا ہو۔یہی ہمارے علماء کا صحیح اور راجح قول ہے ۔l(دیکھئے مجموع الفتاوی ج 4 ص 268)
جمعرات، 1 جنوری، 2026
دوزخ کی طرف بلانے والا گروہ !
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب
مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب وَتَحَرَّوْا لِحَرْبِ عَدُوِّکُمْ، فَانْتَبِهُوا إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ الطلقاء وَأَبْنَاءَ الطلقاء وَ أَ...
-
میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں ...
-
مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت مولا حسین علیہ السلام مدینہ سے کیوں نکلے؟ کچھ پتہ نہیں راوی سویا ہوا تھا۔ مکہ میں کیا کیا؟ ابھ...
-
قرآن و حدیث ،قرآن و حدیث کے چرچے اور حقیقت ! -المہر خاں آج کل قرآن و حدیث ...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں