♦عمار رض کو باغی گروہ قتل کرے گا، صحیح بخاری کے نسخوں میں زیادت اور امام احمد بن حنبل کی اس مکمل حدیث کی تصحیح از شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ :
میں پہلے بھی اس بابت لکھ چکا ہوں یہ حدیث محدثین کے ہاں متواتر ہے اور بشمول زیادت ان کے نزدیک صحیح ثابت، نواصب دیگر اہل بدعت کی طرح ادھر اُدھر کے شاذ اقوال اٹھا کر اس حدیث کو بالعموم اور اس کے آخری فکرہ کو بالخصوص غیر ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کرتے ہیں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں :
وَالْحَدِيثُ ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدْ صَحَّحَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ ضَعَّفَهُ، فَآخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْهُ تَصْحِيحُهُ (٢) ..
قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ فِي مُسْنَدِهِ [فِي الْمَكِّيِّينَ] (٣) .
فِي مُسْنَدِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، لَمَّا ذَكَرَ أَخْبَارَ عَمَّارٍ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَمَّارٍ: " «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» " فَقَالَ أَحْمَدُ: قَتَلَتْهُ (٤) .
الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، كَمَا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اور یہ حدیث صحیحین میں ثابت شدہ ہے، اس کو امام احمد بن حنبل وغیرہ ائمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ اگر چہ ان سے اس کی تضعیف بھی مروی ہے لیکن امام احمد کا آخری موقف اس حدیث کی تصحیح ہی تھا (راجح تحقیق میں یہ تضعیف بھی غیر ثابت ہے جیسے کہ ابن رجب حنبلی نے کہا ہے) ۔
یعقوب بن شیبہ نے اپنی مسند میں مسند عمار بن یاسر میں جیسے ہی اخبار عمار ذکر کئے، امام احمد سے سنا کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا کی بابت سوال ہوا؟.
امام احمد نے جواب دیا :
"ان کو باغی گروہ نے ہی قتل کیا جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا".
مزید ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ محدثین کے ہاں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ حدیث کا آخری فکرہ کہ "عمار ان کو جنت کی طرف دعوت دیں گے اور وہ ان کو آگ کی طرف دعوت دیں گے۔" اسی حدیث کا ثابت شدہ حصہ ہے اور صحیح بخاری میں ثابت ہے :
لَكِنْ فِي كَثِيرٍ مِنَ النُّسَخِ لَا يُذْكَرُ الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ، بَلْ فِيهَا: " «وَيْحَ عَمَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» ". وَلَكِنْ لَا يَخْتَلِفُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ أَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ هِيَ فِي الْحَدِيثِ.
لیکن صحیح بخاری کے کئ نسخوں میں یہ حدیث پوری موجود نہیں، بلکہ ان میں یہ ہے "عمار رض ان کو جنت کی طرف دعوت دیں گے اور وہ عمار کو جہنم کی آگ کی طرف دعوت دیں گے." لیکن محدثین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ زیادت اسی حدیث کا حصہ ہے۔
(منهاج السنة 5-4/414)
معلوم ہوا اس حدیث کی تصحیح نہ صرف امام احمد سے ثابت ہے بلکہ بقول ابن تیمیہ محدثین کے ہاں بلا اختلاف یہ بات مسلم ہے کہ یہ الفاظ بھی اسی حدیث کا حصہ ہے۔
♦ائمہ علل امام یحییٰ بن معین اور امام علی بن مدینی کی حدیث عمار رض کی تصحیح :
امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ باحوالہ تاریخ نیسابور از امام حاکم سے بسند "حسن" نقل کیا ہے :
وقال الحاكم في ((تاريخ نيسابور)) : سمعت أبا عيسى محمد بن عيسى العارض - وأثنى عليه - يقول : سمعت صالح بن محمد الحافظ - يعني : جزرة - يقول : سمعت يحيى بن معين وعلي بن المديني يصححان حديث الحسن ، عن أمه ، عن أم سلمة : ((تقتل عمارا الفئة الباغية)) .
وقد فسر الحسن البصري الفئة الباغية بأهل الشام : معاوية وأصحابه .
صالح بن محمد فرماتے ہے، میں نے یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی کو حدیث ام سلمہ "عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا" بواسطہ حسن بصری کو صحیح کہتے ہوئے سنا۔
اور حسن بصری نے (حدیث میں موجود) باغی گروہ کا مصداق اہل شام معاویہ اور ان کے ساتھیوں کو ٹہرایا۔
(فتح الباری لابن رجب 3/241)
♦معاصر مشہور مکہ کے محدث شیخ حاتم العونی (حافظہ اللہ) فرماتے ہے :
میں نے علم حدیث ساتھ ایک کھلواڑ کرنے والے کا مقالہ پڑھا، جہالت بھرا مقالہ جس میں حدیث (عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا) کی تضعیف کی گئی ہے اور صحیح بخاری کی طرف اس کی نسبت کی نفی کی گئی ہے اور صحیح مسلم پر جسارت کی گئی ہے اور اس دوران اس نے سنت، اس کی کتب اور رجال کے بارے میں بہتان بازی کی = سب کچھ معاویہ کا دفاع کرنے کی خاطر۔
اور یہ حدیث کئی طرق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کا کوئی انکار نہیں کرے گا مگر جس کی بصیرت کو اللہ تعالیٰ نے تعصب اور جہالت کی بناء پر اندھا کردیا ہو۔
اور رہی بات صحیح بخاری کے بعض نسخوں کا اس سے خالی ہونا، تو دیگر نسخوں سے یہ خالی نہیں اور کئی ائمہ، حفاظ،شارحین نے اسے صحیح بخاری کی طرف منسوب کیا ہے جیسے نووی، ابن تیمیہ وغیرھم۔
اگر (بالفرض) امام بخاری نے ان الفاظ کو شامل نہیں کیا تو انہوں نے اس حدیث کو مختصر کردیا، لیکن آپ اس کو صحیح سمجھنے والوں میں سے تھے اور اسی لیے اس حدیث پر کوئی شک نہیں کرے گا سوائے جاہل یا نا-ص-بی کے۔
اور جو امام احمد سے منقول ہے کہ آپ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے تو ابن تیمیہ اور ابن رجب حنبلی نے فتح الباری وغیرہما نے ان سے اس نقل کی خطأ ںیان کردی ہے اور امام احمد سے اس حدیث کی تصحیح ثابت ہے۔
اس حدیث کو امام بخاری اور احمد کے ساتھ، ابن معین، علی بن مدینی، مسلم، ترمذی، ابن حبان، حاکم وغیرھم نے صحیح کہا ہے۔
حتیٰ کے ایک عدد علماء نے اسے متواتر کہا ہے جیسے کہ ابن عبد البر وغیرہ اور اس کے بارے میں کہا : یہ سب سے صحیح احادیث میں سے ہے !! اور ابن تیمیہ نے اسے صحیح کہا اور بخاری کی طرف کئی جگاہوں پر اسے منسوب کیا ہے .
🔴حاصل بحث:-
سو کاش یہ دست دراز اپنی جہالت کے ساتھ، اگر معاویہ کا دفاع کرنے سے قاصر تھا تو خاموش رہتا، بجائے اس کے بدلے کتب سنت پر طعن کرنے اور ان کے حفظ اور نقل پر ایسے کلام کی تحقیق کے ساتھ شک پیدا کرنے سے۔
© ابو عمر الشوكاني
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں