صحابہ کرام کو گالیاں دینے کا تاریخی پس منظر :
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آج بھی بعض باطل فرقے گالیاں دیتے ہیں لیکن اس طریقہ کار کی ابتداء کہاں سے ہوئی؟ کہ باقاعدہ حکومتی سرپرستی اور منظم انداز میں صحابہ کرام کو گالیاں دلوائیں جاتی تھیں۔
بنو امیہ کے تمام خلفاء اہل بیت کو گالیاں دیتے تھے ماسوائے عمر بن عبد العزیز کہ انہوں نے آکر اس پر پابندی عائد کی اور سابقہ موقف سے رجوع اور توبہ کی۔
ائمہ اہل سنت کی درج ذیل گواہیاں اس پر پیش خدمت ہیں :
1. علامہ ابن حزم (456ھ) فرماتے ہیں :
إلا أنهم ( أي خلفاء بني العباس ) لم يعلنوا بسب أحد من الصحابة، رضوان الله عليهم ، بخلاف ما كان بنو أمية يستعملون من لعن عليّ بن أبي طالب رضوان الله عليه ، ولعن بنيه الطاهرين من بني الزهراء ؛ وكلهم كان على هذا حاشا عُمر بن عبد العزيز ويزيد بن الوليد رحمهما الله تعالى فإنهما لم يستجيزا ذلك۔
سوائے اس کے وہ ( خلفاء بنو عباس) علانیہ کسی بھی صحابی کو گالیاں نہیں دیتے تھے، بر خلاف بنو امیہ کے وہ صرف ان ہی لوگوں کو عامل (حاکم) بناتے تھے جو علی رض اللہ عنہ کو گالیاں دیتے تھے اور بنی زہراء کے پاک باز بچوں کو لعنت کرتے تھے۔ اور وہ سب کے سب اس میں ملوث تھے ماسوائے عمر بن عبد العزیز اور یزید بن ولید (رحمہما اللہ) کے کیونکہ ان چیزوں کی اجازت نہیں دی۔
(جوامع السيرة وخمس رسائل أخرى لابن حزم ١/٣٦٦)
2. حافظ ابن حجر عسقلانی(852ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ثم اشتد الخطب فتنقصوه واتخذوا لعنه على المنابر سنة
پھر معاملہ میں سختی آگئی اور وہ ان (علی رض) کی تنقیص کرتے اور منبروں پر لعنت کرنے کو باقاعدہ طریقہ کار بنا لیا تھا.
(فتح الباري ٧/٧١)
3. امام ابن رجب حنبلی(795ھ) فرماتے ہیں :
فأما أن تكلم بكلام محرم، كبدعةٍ أو كسب السلف، كما كان يفعله بنو أمية، سوى عمر بن عبد العزيز –رحمة الله عليه -
اور اگر خطیب دوران خطبہء کوئی ایسی بات کہے جو حرام ہے جیسے کہ بدعت یا سلف کو گالیاں دینا جیسے بنو امیہ کرتے تھے سوائے عمر بن عبد العزیز کے ۔
(فتح البارى لابن رجب 5/104).
4۔ امام ابن عبد البر (463ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وقد كان بنو أمية ينالون منه وينقصونه فما زاده الله بذلك إلا سموا وعلواً ومحبةً عند العلماء
اور بنو امیہ (علی رض) کو گالیاں دیتے اور ان کی تنقیص کرتے، لیکن اللہ تعالی نے اس سے صرف علی رض اللہ عنہ کے رتبے، بلندی اور محبت میں ہی علماء کے نزدیک اضافہ کیا۔
(الإستيعاب في معرفة الأصحاب 1/353)
5. ابن خلدون (808ھ) فرماتے ہیں :
وكان بنو أمية يسبون علياً فكتب عمر إلى الآفاق بترك ذلك
اور بنو امیہ علی رض کو گالیاں دیتے تھے (حتی کے) عمر بن عبد العزیز (کا زمانہ آیا) اور انہوں سب طرف لکھ بھیجا کہ اس کو اب بند کیا جائے۔(تاريخ ابن خلدون ٣/٧٤)
6. علامہ ابن اثیر (630ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان بنو أمية يسبون أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، إلى أن ولي عمر بن عبد العزيز الخلافة، فترك ذلك وكتب إلى العمال في الآفاق بتركه
اور بنوں امیہ امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی کو گالیاں دیتے تھے جب تک کہ عمر بن عبد العزیز خلیفہ نے خلیفہ کا عہدہ سنبھال لیا، پھر انہوں نے اس کو ترک کردیا اور سب جانب اپنے عاملوں کو لکھ بیجھا کہ اسے ترک کردیا جائے۔(الكامل في التاريخ 4/314)
7. ابن تیمیہ (728ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وأعظم ما نقمه الناس على بني أمية شيئان أحدهما تكلمهم في علي والثاني تأخير الصلاة عن وقتها
اور سب سے بڑی چیز جس وجہ سے لوگ بنو امیہ پر تنقید کرتے ہیں دو چیزوں ہیں، ایک علی رض کے بارے میں کلام کرنا (ان کو برا بھلا کہنا) اور دوسری نمازوں کو ان کے مقررہ وقت سے تاخیر کرنا۔
(منهاج السنة 8/180)
تحریر 🖌️ محمد کاشف خان (2020)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں