پیر، 5 جنوری، 2026

معاویہ کا حضرت علی کرم۔۔۔ پر سب کا حکم

معاویہ کا حضرت علی کرم۔۔۔ پر سب کا حکم

وعن سعد بن أبي وقاص قال: أمر معاوية بن أبي سفيان سعـداً بالسب فأبى ، فقال : ما منعك أن تسب على بن أبي طالب؟ قال : ثلاث قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن۔
سعد بن ابی وقاص کا بیان کہ معاویہ نے انھیں حضرت علی کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا ،مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ معاویہ ﷺ نے وجہ پوچھی کہ تم علی بن ابو طالب کو گالی کیوں نہیں دیتے؟ تو بتایا کہ مجھے نبی کریم ﷺﷺ نے تین باتیں بتائی تھیں ،اس وجہ سے میں ہرگز آپ کو گالی نہیں دوں گا اور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہو جاۓ تو وہ سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے.
امام ابن تیمیہ منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 601
مسلم : ح 6220 سنن نسائی الکبریٰ : ح 8439 ،
سنن ابن ماجہ : ح 121 قال الشیخ البانی اسنادہ صحیح

اسی سے ملتی جلتی حدیث عشرہ مبشرہ والی ہے نیچے 👇 دئے گئے حوالہ جات دیکھیں
سنن ابی داؤد : ح 4648   سنن نسائی الکبریٰ : ح 8208 ، 8190 قال الشیخ البانی و الشیخ زبیر علی زئی اسنادہ صحیح
صحیح ابن حبان : ح 6996
السنه لا بن ابی عاصم : ح 1220  مسند احمد : ح 1644 (جلد 1 صفحہ 654) قال الشیخ شعیب الارنؤوط اسنادہ صحیح

شیعوں کا شیوہ ترابازی،امیر کی اتباع سے نکال کر ان کا قدم امیر معاویہ کی تقلید پر جمانا ہے۔ یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جب حضرت امیر رضی اللہ عنہ (مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں) نے یہ سنا کہ اصحاب امیر معاویہ ہم پر لعن طعن کرتے ہیں تو آپ نے اپنے لشکریوں کو ان کی لعن کرنے سے منع فرمایا، چنانچہ شیعوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہے ۔افسوس کہ شیعوں نے امیر معاویہ کی تقلید اختیار کر لی اور تیر ا اپنا شیوہ بنایا، حضرت امیر رضی اللہ عنہ کا اتباع نہ کیا کہ کسی کو برا نہ کہیں مگر ان کے کہاں نصیب جو حضرت امیر المومنین علی مرتضی رضی اللہ عنہ کا انتباع اختیار کریں ، اس نعمت کے لائق سنی ہی تھے۔
مولانا قاسم نانوتوی ہدیہ الشیعہ صفحہ 77
اس سے بالکل ملتی جلتی عبارت مولانا تھانوی کی حکایات اولیاء ارواح ثلاثہ صفحہ 86 میں ملتی ہے کہ علی کا دربار ہجوگویی سے پاک تھا اور معاویہ کے دربار میں علی پر تبرا ہوتا تھا
پھر لکھتے ہیں کہ روافض معاویہ کے مقلد ہیں ، اور الحمدللہ ہم سنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے
بنوامیہ ان کی تنقیص اوران کے بارہ میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے ، مگر اس سے علماء کے دل میں ان کی محبت بڑھ گئی اور قدر ومنزلت میں اضافہ ہوگیا۔ عمر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں، بنوامیہ ساٹھ سال تک ان کو گالیاں دیتے رہے، مگر وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ بلکہ ان کی شان پہلے سے بھی بلند ہوگئی ۔ دین نے ایک عمارت کھڑی کی ، جس کو دنیا نے گرا دیا ۔ دنیا کچھ نہ بناسکی، مگر جو کچھ بنایا، اس کو بھی منہدم کر دیا ۔
مختصر سیرت الرسول عبداللہ ابن شیخ محمد ابن عبد الوہاب صفحہ 797
علامہ جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں: ” بنوامیہ (اپنے) خطبات میں سیدنا علی بن ابی طالب ﷺ کو گالی دیا کرتے تھے، پھر جب سید نا عمر بن عبدالعزیز تابعی رحمہ اللہ خلیفہ ہے تو انہوں نے اس کو بند کروا دیا اور حکومتی کارندوں کے نام حکم نامہ جاری فرمایا کہ اس ( غلیظ رسم ) کو بند کر دیا جاۓ۔ پھر اسکی جگہ اس کو جاری فرمادیا: ’’بے شک اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ ہر معاملہ میں انصاف سے کام لو اور احسان کرو، اور اچھا سلوک کرو رشتہ داروں کے ساتھ، اور منع فرماتا ہے بے حیائی سے اور برے کاموں سے اور سرکشی سے ۔وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرسکو۔‘‘ [ النحل : 90 ]
چنانچہ اس وقت سے اب تک خطبات میں اس کی قرات مسلسل جاری ہے ۔
تاریخ الخلفاء للسيوطي " باب عمر بن عبد العزيز
دوستوں اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اس کو جمع کرنے اور لکھنے میں آدھا دن گزر گیا ! #معاویہ #سب copied 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟ --------------- کریم آقاﷺ کا فرمان فمر به النبي صلى...