ظالموں سے وظائف لینے حقوق لینے تھے نہ کہ
کیا اہل بیت کا بنو امیہ کے دور میں وظائف لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ اہل بیت اور ان کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے؟
بیت المال کسی کے باپ کا ذاتی مال نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص مال ہے، جب سیدنا ابو بکر صدیق رض خلیفہ بنے تو لوگوں نے آپ کو تجارت سے منع کیا اور بیت المال سے وظیفہ مقرر کردیا تاکہ آپ سارا وقت خلافت کے امور پر توجہ دے سکے۔ معلوم ہوا کہ بیت المال کسی خلیفہ کی اپنی ذاتی جاگیر نہیں، بلکہ یہ مسلمانوں کا ہی مال ہے جو حکومت ان پر خرچ کرتی ہے۔
امام ابو بکر الجصاص حنفی رحمہ اللہ (متوفی 370 ھ) کہتے ہیں :
وقد كان الحسن وسعيد بن جبير والشعبي وسائر التابعين يأخذون أرزاقهم من أيدي هؤلاء الظلمة، لا على أنهم كانوا يتولونهم ولا يرون إمامتهم، وإنما كانوا يأخذونها على أنها حقوق لهم في أيدي قوم فجرة، وكيف يكون ذلك على وجه موالاتهم وقد ضربوا وجه الحجاج بالسيف، وخرج عليه من القراء أربعة آلاف رجل هم خيار التابعين وفقهاؤهم فقاتلوه مع عبد الرحمن بن محمد بن الأشعث بالأهواز ثم بالبصرة ثم بدير الجماجم من ناحية الفرات بقرب الكوفة وهم خالعون لعبد الملك بن مروان لاعنون لهم متبرئون منهم! وكذلك كان سبيل من قبلهم مع معاوية حين تغلب على الأمر بعد قتل علي عليه السلام. وقد كان الحسن والحسين يأخذان العطاء وكذلك من كان في ذلك العصر من الصحابة، وهم غير متولين له بل متبرئون منه على السبيل التي كان عليها علي عليه السلام إلى أن توفاه الله تعالى إلى جنته ورضوانه. فليس إذا في ولاية القضاء من قبلهم ولا أخذ العطاء منهم دلالة على توليتهم واعتقاد إمامتهم.
(حسن بصری، سعید بن جبیر ، شعبی اور تمام تابعین ان ظالم حکمرانوں سے وظائف لیتے تھے لیکن اس بنا پر نہیں کہ وہ ان سے محبت رکھتے تھے اور ان کی حکومت کو جائز سمجھتے تھے بلکہ اس لیے لیتے تھے کہ یہ تو ان کے اپنے حقوق ہیں جو ظالم و فاجر لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ ان سے دوستی کی بنیاد پر یہ کام کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ انہوں نے حجاج سے تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا؛ چار ہزار قراء علماء نے جو تابعین میں سے بہترین اور فقہاء تھے عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کی قیادت میں حجاج سے اھواز کے مقام پر جنگ کی پھر بصرہ اور بعد ازاں کوفہ کے قریب فرات کے کنارے دیر جماجم کے مقامات پر حجاج سے جنگ کی ہے۔ انہوں نے عبد الملک بن مروان کی بیعت توڑ دی تھی ان اموی حکمرانوں پر لعنت کرتے اور ان سے براءت کرتے تھے۔ ان سے پہلے کے لوگوں کا معاویہ (رض) کے ساتھ بھی یہی طریقہ تھا جب وہ حضرت علی (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد زبردستی حکمران بن گیا۔ حسن اور حسین(رض) بھی معاویہ سے وظائف لیتے تھے اور معاویہ سے اسی طرح براءت کرتے تھے جس طرح حضرت علی معاویہ سے براءت کرتے تھے تا آں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی جنت اور رضوان کی طرف بلا لیا۔ چنانچہ ان ظالم حکمرانوں کی طرف سے عہدہ قضا قبول کرنے اور وظائف لینے میں یہ دلیل نہیں ہے کہ یہ حضرات ان ظالموں سے محبت رکھتے تھے اور ان کی حکومت کو جائز سمجھتے تھے)۔
[احکام القرآن للجصاص 1/86]
🖊️ محمد کاشف خان (2019)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں