بدھ، 7 جنوری، 2026

نبی کریم صلی ۔۔۔سے‌ ابو سفیان کی التجائیں

 

عکرمہ نے کہا : ہمیں ابوزمیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی ، کہا : مسلمان نہ حضرت ابوسفیان سے بات کرتے تھے ، نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے ، اس پر انھوں نے نبی ﷺ سے عرض کی : اللہ کے نبی ! آپ مجھے تین چیزیں عطا فرما دیجیے ( تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔ ) آپ نے جواب دیا :’’ ہاں ۔‘‘ کہا : میری بیٹی ام حبیبہ عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے ، میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ کہا : اور معاویہ ( میرا بیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کاتب بنا دیجیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر کہا : آپ مجھے کسی دستے کا امیر ( بھی ) مقرر فرمائیں تاکہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا ، اسی طرح کافروں کے خلاف بھی جنگ کروں ۔ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ 
 ابوزمیل نے کہا : اگر انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہوتا تو آپ ( ازخود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فرماتے کیونکہ آپ سے کبھی کوئی چیز نہیں مانگی جاتی تھی مگر آپ ( اس کے جواب میں ) ’’ ہاں ‘‘ کہتے تھے ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب

مولا علیؑ کا صفین میں لشکر سے خطاب وَتَحَرَّوْا لِحَرْبِ عَدُوِّکُمْ، فَانْتَبِهُوا إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ الطلقاء وَأَبْنَاءَ الطلقاء وَ أَ...