ہاشمی صاحب کا بیان ، اس کو جاننے سمجھنے کے لئے گھر میں کم از کم ایک عدد صوفی (مولوی صوفی یا صوفی مولوی نہیں۔ ہاں صوفی مولوی ،مولوی صوفی سے ذرا مرا سا بہتر ہو سکتا ہے،خالص مولوی تو ہرگز نہیں) ہو یا کسی خانقاہ میں خود کو کسی بزرگ کے سپرد کرنا لازم ہے۔ یا پھر یہ کہ اجداد اسی طرح کرتے آئے ہیں پہ قائم رہے؛ عوام کے لئے یہ سب سے محفوظ راستہ ہے۔ ورنہ بیشتر خود تحقیق و تلاش کرنے والے خصوصا مولویانہ ادب کے ذریعے ، پرانی راہ چھوڑ دیتے ہیں،نئی تلاش کر نہیں پاتے اور عمر بھر بھٹکتے بھٹکاتے پھرتے ہیں۔خود سر و متکبر بن جاتے ہیں سو الک۔
یاد رکھنا چاہئے کہ تصوف تب سے ہے جب قرآن بھی تیس پاروں کی صورت میں مرتب ہوا تھا نہ کوئی اور کتاب تھی۔
اہل تصوف کے یہاں محدثین اور ان کے روات کی وہی راویتیں معتبر مانی جاتی ہیں جو آپ ص سے بواسطہ مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم سینۂ بسینہ پہنچی روایتوں سے مطابقت رکھتی ہوں۔ محدثین کی روایتوں کے مقابلے حضرات حسنین کریمین، حضرت امام زین العابدین و دیگر ائمہ اہلبیت علیہ السلام ،حضرت حسن بصری،حضرت جنید بغدادی،حضرت بایزید بسطامی،حضرت غوث عظم رح وغیرہ وغیرہ اور آگے اسی طرح کے بزرگان دین کے فرمودات و ارشادات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ وجہ ؟ موٹی موٹی دو ہیں۔ ایک کتب احادیث کا دو تین سو سال اور اس کےبعد تالیف ہونا اور اس سے بھی اہم یہ کہ ایک ایک محدث نے زندگی صرف کر کے پانچ پانچ سات سات لاکھ احادیث ازبر و جمع کیں اور لکھیں صرف پانچ سات دس ہزار۔ باقی !!!؟
۔
____________________
https://www.facebook.com/100063796866548/posts/513383904131501/
اس لنک کو اوپن کرئے۔ یہ ایک ہندو لڑکے کا فیسبک پیج ہے۔ اس کے بینر پہ لکھا ہے: Allah Walo ka page. . اللہ والے یعنی بزرگان دین یعنی صوفی یعنی مزاروں میں مدفون بزرگ یعنی خانقاہوں کے مکیں۔ لائکس بھی چیک کیجئے گا ! چالیس میں سے دس ہندو ہیں۔
یہ اس لڑکے کو اللہ والوں کے وسیلے سے خدا کی دین ہے۔مولویوں کی روش کے مطابق دس مولوی مل کے بھی، دس سال میں بھی دس غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔ اور اس ہندو لڑکے کو دو چار سال ہی اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے ہوں گے!!!!!!!!!!!!!!!!
اس کی ہندی صحیح ہے نہ اردو क़ुबूल قبول Qubool کو कुबुल کبل Kubul لکھا اور دعا کو مونث و مذکر دونوں ! مگر اخلاص ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں