بدھ، 7 جنوری، 2026

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ
باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟
---------------
کریم آقاﷺ کا فرمان
فمر به النبي صلى الله عليه وسلم ، ومسح عن راسه الغبار ، وقال : " ويح عمار تقتله الفئة الباغية عمار يدعوهم إلى الله ، ويدعونه إلى النار
اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہونگے ۔
حدیث نمبر: 2812
صحیح بخاری
----------
( معاویہ بن ابوسفیان کے گروہ میں شامل)
ابوالغادیہ عمار بن یاسر کا قاتل تھا، اور جب کبھی معاویہ وغیرہ کے پاس جاتا تو کہتا: "دروازے پر عمار کا قاتل آیا ہے"۔ وہ پوچھنے پر لوگوں کو قتل کی تفصیل بتاتا اور اس میں کوئی شرم محسوس نہ کرتا۔

(الاستيعاب لِابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113، أسد الغابة لِابن الثیر: 5/ 237/ 6140، تعجيل المنفعة لابن حجر: 2/ 519/ 1364)منقول۔

میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو  ( خمس میں سے )  کچھ نہیں دیا تھا۔ابو داؤود+ مختصر تاریخ -ابن عبدالوہاب 

مروان دیوبند کی نظر میں،فتوی

سوال نمبر: 42656 

عنوان:مروان بن حکم کون ہے ؟

سوال:میرا آپ سے سوال یہی ہے کہ مروان بن حکم کون ہے ؟کیا وہ صحابی ہیں؟ان کا کردار کیسا ہے؟ان کی والدصحابی تھے ؟ تو انکو رسول ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک بدر کیوں کیا تھا؟اور کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا تھا اور ان کا حمل گروایا تھا، کیا یہ روایت صحیح یا نہیں؟

جواب نمبر: 42656

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 9-126/D=2/1434 (۱) مروان بن الحکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں، ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کسی نے وثوق کے ساتھ ان کو صحابی نہیں کہا ہے۔ (الاصابة: ۳/۴۷۷) (۲) ان کا کردار کیسا ہے؟ کردار سے کیا مراد ہے، واضح کریں۔ ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان صحابہ تابعین اور فقہاء المسلمین کے نزدیک عادل اور امت کے عظیم اشخاص میں ہیں، ان سے صحابہ میں حضرت سہل بن سعد نے روایتیں لی ہیں، تابعین میں حضرت علی زین العابدین سعید بن المسیب، عروہ بن الزبیر، ابوبکر بن عبدالرحمن الحارث، عبید اللہ بن عبد اللہ جیسے جلیل القدر علماء اور محدثین نے حدیثیں روایت کی ہیں، فقہاء میں سبھی نے ان کی عظمت اور خلافت کو تسلیم کیا ہے، ان کے فتاے کو قابل التفات سمجھا اور ان کی حدیثوں پر اعتماد کیا ہے، رہے بیوقوف قسم کے ادباء اور موٴرخین ان کا تذکرہ اپنی اپنی حیثیت سے کرتے ہیں۔ (العواصم من القواصم) (۳) علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم بن ابی العاص کی جلا وطنی کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں (منہاج السنہ) بعض تاریخی روایات میں اس کا ذکر ہے تو ممکن ہے کسی وقتی مصلحت کی بنیاد پر ایسا کیا ہو۔ (۴) یہ روایت من گھڑت اور موضوع ہے۔ دیکھئے منہاج السنہ لابن تیمیہ: ۳/۱۲۸)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت


مولبی مروان کا حلالی اور باپ کا ۔۔۔ کپوت 
مولا حسین علیہ السلام مدینہ سے کیوں نکلے؟ کچھ پتہ نہیں  راوی سویا ہوا تھا۔ مکہ میں کیا کیا؟ ابھی راوی کی نیند پوری نہیں ہوئی۔ تھوڑی دیر کیلئے راوی کی آنکھ کھلی تو قافلے والے مولا کو روک رہے تھے کوفہ نہیں جانا۔ تو کروٹ لے کے سو گیا۔ پھر خواب میں دیکھا کہ سپاہیوں نے روک لیا ہے۔ پھر راوی کا خواب ٹوٹ گیا۔ پھر امام ع کو تیر لگا سر کاٹا گیا۔ کس نے کیسے کاٹا باقی قافلے والے کہاں گئے۔ راوی تو سویا ہوا تھا۔ بس صحیح راوی نماز صبح پڑھ کر جونہی ابن زیاد سے ملنے گیا تو امام حسین علیہ السلام کا سر پڑا دیکھا۔ ابن زیاد نے صحیح راوی کو پریشانی کے عالم میں بتایا کہ ،،  یار صحیح راوی دیکھ بھلا صبح صبح نجانے کون کسی کا سر کاٹ کے میرے دربار میں چھوڑ گیا،،
تو صحیح راوی نے کہا پا جی فی الحال خاموشی بہتر ہے۔ اے گل کسے نو نی کرنی۔  1400 سال بعد اک مولبی نوں دساں گے او آپی سنبھال لے گا۔
تیری مہربانی مولبی تونے پیدا ہو کے احسان کیا ہے امت پہ۔ نہیں تو 60 ہجری سے لے کر آج تک سب خاموش تھے اور ڈرے ہوئے بھی تھے۔ اب تونے بات کھول دی واضح کر دی۔ اب صحیح راوی ابن زیاد،  تیرا روحانی یاشاید اصلی ابا یزید کی روح سکون محسوس کر رہی ہوگی۔
در فٹے منہ تیرا مردود۔
پاگل سمجھتا ہے سب کو؟ آج کل لوگ تیرے سے زیادہ عقلمند ہیں۔ تیرے فیس امپریشن بتا رہے ہیں تو کس کی نمک حلالی کر رہا ہے۔منقول

قرآن و حدیث ،قرآن و حدیث کے چرچے اور حقیقت !

قرآن و حدیث ،قرآن و حدیث کے چرچے اور حقیقت !
                                                                -المہر خاں
آج کل قرآن و حدیث پہ عمل کرنے پر بڑا زور دیا جا رہا ہے۔جدھر دیکھو یہی صدا سنائی دیتی ہے کہ قرآن پہ عمل کرو اور احادیث پہ۔ ان میں جو واقعی کسی قابل ہیں،ان کی بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخر وہ اس بات پہ اتنا زور کیوں دے رہے ہیں؟ در اصل ان کی کردان کا واحد مقصد آپ ص کے نبوت و رسالت کا اعلان فرمانے کے دن سے آج تک کی تاریخ سے مسلمانوں کا دھیان ہٹانا ہے، تاکہ بنو امیہ کے کارناموں کو چھپا لیا جائے۔ احادیث میں وارد کوئی کارنامہ سامنے آ ہی جائے تو اس کی آسانی سے ایسی تاویل و تشریح کر دی جائے کہ لوگ تاریخ سے نابلد ہونے اور بے وقعت ماننے کی بنا پر برضا و رغبت ہضم کر لیں۔ جو باز نہ آئیں اور پڑھ ہی لیں ان کی تعداد اتنی نہ ہوگی کہ معاشرے پہ اثرانداز ہو سکیں۔ پھر یہ بھی کہ تاریخ کو بھی مخدوش،احادیث کو توڑ مروڑ اور قرآن کی آیتوں کو کہیں سے کہیں منطبق کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی جنہیں اپنی مادری زبان بھی ٹھیک سے نہیں آتی اور گردان کرتے رہتے ہیں کلام اللہ و کلام رسول اللہ ص  پہ عمل کرنا ہی سنت اور اسلام پہ عمل کرنا ہے۔ورنہ بدعت ہی بدعت ہے اور بدعت شرک کا راستہ ہے۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راقم کو عربی نہیں آتی۔ جن کو آتی تھی اور خوب آتی تھی،وہی آتی تھی جس میں خدا نے کلام فرمایا،اہل زبان تھے۔ کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان ہی کے زبان و بیان،اسرار و رموز ،لہجے،طرز تخاطب،محاوروں اور امثال میں ا پنے محبوب ص کے ذریعے‌ خطاب فرمایا۔                    

خدا نے کتاب سے پہلے ان میں ان میں سے ہی ان کو علم و حکمت (prectically) سکھانے کے لئے نبی و رسول(ص) مبعوث فرمایا۔اسے(ص) تربیت کے مراحل سے گزارا۔ اس (ص) پر حالات کے مطابق ہر ضرورت کے وقت آیتیں نازل کر کے 23 سال میں قرآن مکمل کیا۔

آپ ص کے بعد کسی طرح ایک ڈیڑھ سال گزرآ؛ شدید ضرورت پیش آئی کہ قرآن جمع کر کے لکھوا دیا جائے۔ قلمبند ہوا تو بارہ چودہ سال بعد پھر مشکل پیش آئی‌۔ اب اس کی قرائتیں بھی معین کرنی پڑیں مگر ایک چیز منسلک، جسے حاشئے میں درج کیا جا سکتا تھا،نہیں کی گئی۔ بلکہ لانے والے کو کہا گیا ' اسے لے جاؤ ! ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔' چیز تھی آیتوں کے شان نزول کی کتاب۔ بھیجی تھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرات عثمان غنی رض کے پاس فرزند ارجمند حضرت محمد بن حنفیہ رح کے ہاتھ اور ہر نزول آیت کے موقع پہ بڑے اہتمام سے 23 سال کے طویل عرصے میں قلمبند کی گئی تھی۔

مصیبت پہلے ہی سر ابھار چکی تھی، اب ہمیشہ کے لئے گلے پڑ گئی۔حالانکہ بہت بعد میں سخت جاں فشانی سے چھان بین کی گئی مگر مرض پوری طرح لا علاج ہو چکا تھا۔ سو آج تک دانستہ یا نادانستہ قرآن کی آیتوں کو کہیں سے کہیں فٹ کیا جاتا ہے۔ایک کا حق دبا کے دوسرے کو دیا جاتا ہے۔اسے تحریف قرآن نہ بھی کہیں، ہیر پھیر کہنا، یقینا درست ہے۔ مثلأ، سورہ الحدید،آیت10،کو بعض علماء نے مؤلفۃ القلوب طلقاء سے منسوب کر دیا حالانکہ اس کے الفاظ و معانی کا صحیح ترین انطباق، شان نزول اور موقع و محل احادیث کے مطابق بھی صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکے سے قبل برضا و رغبت مسلمان ہوئے اصحاب رسول (ص) پہ ہی ہوتا ہے۔مثلا، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص رض وغیرہ وغیرہ وغیرہ،جو صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکے سے قبل از خود مکے سے مدینے جاکر مسلمان ہوئے تھے اور پچیس پچاس ہزار دیگر۔ سب سے اہم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ الفتح میں صلح حدیبیہ کو ہی " فتح مبین"  قرار دیا ہے اور فتح مکہ اسی کا زائدہ ہے جیسے فتح خیبر۔

گاڑی سو ڈیڑھ سو سال روز بروز زائد از زوال پزیری کے ساتھ گھسٹ گھسٹ کے جیسے تیسے چلتی رہی مگر بہت بری حالت کر دی گئی تھی۔ یہ جو کوئی ناف کے نیچے ہاتھ باندھتا ہے،کوئی ناف کے اپر ،کوئی سینے پہ اور کوئی ہاتھ چھوڑ کے نماز پڑھتا ہے،اسی دور میں دانستہ مخدوش کرنے کی کوششوں کے تحت کئے گئے تنزل دین مبین کی نشانیاں ہیں۔ خلفائے راشدین رض کے بعد سو برس کے اندر دین محمدی ص کا کیا حشر کیا گیا ! ! ! :- " اب دور  رسولؐ کی نماز بھی نہیں رہی ! :حضرت انس بن مالک رض، وصال،93ھ۔ " اب میں عہد نبوی ص کی نماز بھی نہیں پاتا ! : امام مالک رح،وقات،176ھ۔ بخاری کی وحشت-ناک #صحیح روایتوں کے ان الفاظ میں پنہاں معانی و مطالب سے ہر صاحب علم و نظر واقف ہے۔اس دور میں لکھنے لکھانے کا کچھ دینی کام ہوا مگر منظر عام پہ بعد میں ہی آ سکا۔ آہستہ آہستہ عوام الناس کے ساتھ علماء حق کو  بھی جنبش زبان و قلم کی آزادی نصیب ہوئی۔پہلے پہل اکا دکا کتابچے  جاری کئے گئے۔ بڑھتی ہوئی نعمت آزادی کے طفیل جزبہ خدمت دین پروان چڑھا اور فقہ جعفریہ ،فقہ حنفیہ،فقہ مالکیہ اور موطی امام مالک جیسی کتابیں منصہ شہود پہ آنی شروع ہوئیں۔ بعد از نصف تیسری صدی ہجری  بخاری،مسلم،نسائی،ابو داؤد، تفاسیر،شمائل، تاریخ وغیرہ وغیرہ۔ان سے استفادہ باکمال اہل علم ہی کرتے تھے۔

250/300 ہجری کے بعد کتب احادیث کا جمع ہوا ذخیرہ،کم و بیش ڈیڑھ سو سال سے ہی منظر عام پہ آیا ہے،خصوصا بر صغیر میں۔ اس سے قبل عوام تو عوام بہت سے ملا جی اور مسجدوں کے امام بھی ان کے ناموں سے واقف نہ ہوتے تھے۔ مگر مسلمان ہزار سال سے اسلام پہ عمل کرتے آ رہے تھے۔ پوری آن بان شان سے اور نہ صرف عمل کرتے آ رہے تھے بلکہ متواتر پھیلتے پھیلاتے بھی جا رہے تھے۔ آپس میں دشمنی و عناد ہونا دور کی بات،اعراض و کراہت کی حرکت بھی شاز و نادر ہی ہوتی تھی۔سب گھل مل کے رہتے تھے نہ صرف آپس میں بلکہ غیر مسلموں سے بھی حتی الامکان۔ اب ! جب سے عوام کے درمیان احادیث کا پٹارا کھولنے والے مولوی پیدا ہوئے، آپس میں ہی نبردآزما ہیں۔ سب سے پہلے دیوبندی فرقہ گھڑا گیا ،پھر اہل حدیث،بعد از ندوی،بریلوی،جماعتی،جماعت اسلامی،اب غامدی اور آئندہ جہلمی وغیرہ بھی رونق افروز ہونے ہیں۔

مسئلے کاحل صرف قرآن و حدیث پہ عمل کرنا نہیں ہے۔ یہ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی نہ ہو سکا، جو وہ زبان بھی خوب اچھی طرح جانتے تھے، جس میں قرآن نازل ہوا، آپ ص کی مصابحت میں 14-15 سال تربیت بھی حاصل کی تھی، فرامین و سنت رسول ص بھی اپنے کانوں سنے آنکھوں دیکھے وافر تعداد میں جانتے تھے اور انہیں ناز و گمان بھی تھا کہ " ہمارے لئے قرآن کافی" ہوگا یعنی ہمیں آپ (ص) کے بعد قرآن و ہمارے درمیان آپ (ص) کی  وصیت کی حاجت ہو گی نہ وصی (بابا) کی؛ لیکن ایسا ہرگز ہو سکتا تھا نہ ہوا اور آپ رض کو کہنا پڑا " ابو الحسن(حضرت علی کرم۔۔۔) ہیں تو مصیبت نہیں ! " واضح طور پہ جانا جا سکتا ہے کہ جو اہل زبان ہو،جسے 14-15 سال تربیت رسول ص بھی حاصل ہوئی ہو،جس کے قول کے مطابق  کئی آیت نازل ہوئی ہوں ،اسے بھی مصیبت کے وقت مشکل کشا و رہنما کی اشد ضرورت پیش آتی تھی، کسی اور کی اوقات ہی کیا ہے! ممکن ہے تمام باتوں کو رد کردیں۔ مگر اس سے پہلے مندرجہ ذیل قرآنی الفاظ اور ان کے ترجموں پہ اچھی طرح غور کرلیں کہ خدا کی منشا کے مواقف کون سا ترجمہ (ہو سکتا) ہے؟ : -

"۔۔۔۔ و ما انا من المشرکین۔" سورہ یوسف،جزو آیت 108.

1۔۔۔۔اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔

2۔۔۔۔اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

3۔۔۔۔اور میں شرک کرنے والا نہیں۔

4۔۔۔۔اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو     
       اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

5۔۔۔۔اور میں مشرکوں میں نہیں۔

اسلام 360 میں 16 ترجمے دستیاب ہیں، امید ہے آسانی سے فیصلہ کرنے کے لئے پانچ مناسب ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔....؟            

بنو ہاشم و مطلب ایک،عبد شمس و نوفل الگ،4229 بخاری

میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو  ( خمس میں سے )  کچھ نہیں دیا تھا۔ 

दलीले नबूवत स.अज़मते हसन अ. व ह़श्रे मख़्फ़ी शख़्स !

दलीले नबूवत स.अज़मते हसन अ.व ह़श्र ए मख़्फ़ी शख़्स !

दो सौ,ख़ास तौर से सत्तर अस्सी 70-80 साल से ऐसे काम किए जा रहे हैं जो बारह तेरह 12-13 सौ साल में उम्मत मॊहम्मदिया ने कभी नहीं किए।मिल्लत ए इस्लामिया ने इस पूरे दौर में कभी भी बच्चों के नाम सुफयान ओ हिंदा,मुआविया ओ यज़ीद,मर्वान ओ सफ़्वान, हज्जाज ओ ज़ियाद वग़ैरह नहीं रखे।कम अज़ कम बर्र ए स़ग़ीर की हज़ार 1000/1200 बारह सो साला तारीख़ में तो क़त़्अन नहीं।अब पेट्रो-डॉलर कै नर्ग़े में फंसके सुफयान ओ मुआविया,हिंदा ओ यज़ीद, मर्वान ओ सफ़्वान आम किए जा रहे हैं और ह़जाज के लिए दलों में नर्मी पैदा की जा रही है।कहीं सियासत ए मुआविया ज़िंदाबाद के नारे लगाए,उर्स मनाए तो कहीं से '' यज़ीद  मुआविया का बेटा था, इस लिए 'ताबेई' था, इसके लिए उसे 'रहमहुल्लाह' कहना चाहिए '' के फत्वे जारी किए जा रहे हैं।इसी तरह और भी बिल्कुल नए नए काम किए जा रहे हैं,जो इस्लाम और उसकी त़ाहिर ओ मुत़्त़हर हस्तियों की शबीह बिगाड़ने के साथ साथ मुसलमानों के ज़ाविया ए निगाह तब्दील कर रहे हैं,बल्कि ज़ेहनियत,ईमान ओ अक़ाइद,ऐमाल ओ अक़्वाल ओ ख़स़्लतों में भी ख़तरनाक बदलाव ला रहे हैं, उधर क़ाबिल ए कराहत लोगों को क़ाबिल मदह़ बना रहे हैं।उम्मत में ऐसे लोग पैदा कर दिए गए हैं जो ह़क़ के नाम पे सना ए बात़िल और बनाम ए एह़तराम ए कुल, मुस़ाबहत ए आप स., शान ए अहल ए  बैत ए अत़्हार अ., स़ह़ाबियत ए साबिकून अव्वलून मुहाजिर ओ अंसार रज़ि., इत्तिबा ए ताबेईन ओ तबे ताबेईन और तक़्वा ए औलिया अल्लाह व स़ुलह़ा रहो., की तज़्ह़ीक ओ तज़्लील करने पे कमर बांध चुके है। फ़िर्क़ा हाए जदीद में से बाज़ मस्लकों ने अपने क़दीम अक़ाइद ओ नज़रयात को इस ताल्लुक़ से पस ए पुश्त डाल दिया है और बिल्कुल नए अक़ीदे व नज़रिए अपना लिए हैं।बेश्तर मुक़र्रिर,वाइज़, ख़त़ीब, मुसन्निफ़ ओ मुबल्लिग़ अहल ए बैत ए अत़्हार अ. से  बरा ए नाम ताल्लुक़ के ख़ूगर हो गए या उनके अस्मा ए मुबारिका का इस्तेमाल अवाम की अक्सिरयत के दरम्यान अपनी साख बचाए रखने के लिए कर रहे हैं।साबिक़ून अव्वलून मुहाजिर ओ अंसार सहाबा रज़ि. के हम पल्ला मुआविया को बाव़र कराया जा रहा है,बल्कि बाज़ औक़ात उनसे भी बढ़के,जैसे यज़ीद को मुआविया का बेटा होने की बिना पे " ताबेई " और "रहमहुल्ला" डिक्लेयर किया गया, हालांकि आप स. के फ़र्मान के तहत मुआविया ख़ुद #त़ुलक़ा में है.....! जिसका मतलब बशुमूल हज़रत इमाम हुसैन अ., अस़्ह़ाब ए रसूल स. और ह़ुक़म ए क़ुरआन के मुताबिक़ उनकी एह़सान के साथ पैरवी करने वालों का दानिस्ता ना-दानिस्ता मज़ाक उड़ाया जाए,और मुआविया ओ यज़ीद को उनके सरों पे बिठा दिया जाए, ज़मीर, शराफ़त ओ अक़्दार ओ अख़्लाक़ की बात ही क्या!अदालत, क़वानीन ए शरीयत,इंसाफ़,उ़स़ूल ओ ज़वाबित़ समेत इस्लाम को दफन कर दिया जाए और इस्लाम के नाम पे ही मुसलमानों को दीन ए खुदा ओ रसूल स۔से निकाल के बेराह रवी पे डाल दिया जाए,रोज़ मर्रा की पूरी ज़िंदगी बा-उस़ूल से बेउस़ूल, इंसाफ़ पर्वरी से ना-इंस़ाफ़ी और ह़क़ से हटा के बातिल पे मुर्तकिज़ कर दी जाए,यहां तक कि उनकी आख़िरत बिलख़ैर पे भी स़वालिया निशान लगा दिया जाए।मिल्लत में एक बिल्कुल मुंफ़रिद त़़बक़ा उभर आया है जो 50-100 साल पहले तक कहीं नहीं था और बनू उमय्या के लिए ख़ुदा ओ रसूल स.,इस्लाम ओ ईमान, उस़ूल ओ मबादी,निज़ाम ए अद्ल और उम्मत ए मॊहम्मदिया को दाऊ पे लगा चुका है।त़़वील गुफ़्त्गू का मौक़ा नहीं। दुनिया व आख़िरत से वाबस्ता मुस्लिमीन ए दौर हाज़िर के अक़ीदे,नज़रिए,रिवय्ये और ख़स़्लतें तबाह कर रहे इस अहम तरीन दीनी व मॊआश्रती बिगाड़ का पुख़्ता ह़ल #मुतवातिर दलील ए नुबूवत फ़र्मान ए रसूल स.है। क़वी उम्मीद है,उसकी ज़ेर ए नज़र तह़लील मुह़िब्बीन ए ख़ुदा ओ रसूल स۔,दीन ओ ईमान और ह़क़ ओ इंस़ाफ़ को इस रिवय्ये पे ग़ौर ओ फ़िक्र करने के लिए मुफ़ीद स़ाबित होगी।..... 

        रसूलुल्लाह हसनैन करीमैन रज़ि. के नाना जान स۔ने फ़र्माया:-

       ‌‌      मेरा यह बेटा सरदार है-उम्मीद है-अल्लाह ताला   
           इसके ज़रिए-दो मुसलमान गिरोह-मैं-स़ुलह़-कराएगा

                                       
ह़जरत इमाम ह़सन अ.नबी ए करीम स. की गोद में थे,ख़ास़ जुमे के दिन, जुमे की नमाज़ से ऄन क़ब्ल,ख़ुत्बे के दौरान या फ़ौरन बाद, तमाम स़ह़ाबा किराम रज़ि. खुत्बा पूरी तवज्जो और इन्हेमाक से समाअत कर रहे हैं,आप स. ऄन इस मौके पे पेश्गोई फ़र्माते हैं ताकि हर शख़्स ध्यान से सुन ले और ज़ेहन नशीं हो जाए;आवाज,अल्फ़ाज़ व रू ए मुबारक से बेटे की त़रफ़ मज़ीद मुतवज्जा करने की ख़ात़िर, कभी स़हाबा रज़ि. और कभी उनकी जानिब देखते हुए, इंतेहाई अहम बशारत का फ़र्मान ए एलान ए आम जारी करते हैं: - "#मेरा यह बेटा सरदार है۔۔۔"  किन का सरदार है? तमाम उम्मत ए मॊह़म्मदिया स. का ; हर मुसलमान का! जो भी आप स. को ब-रज़ा ओ रग़्बत ख़ातिमउन्नबिय्यीन मानता हो,जो भी अल्लाह,फ़रिश्तों, किताबों, अंबिया ओ रसल अ. व रोज़ ए हिसाब पे  ईमान रखता हो,जो भी मॊह़म्मद स. बिन अब्दुल्लाह बिन अब्दुल मुत्तलिब बिन हाशिम का दावेदार ए उम्मती हो। उन सब के सरदार सिब्त ए रसूल स. हज़रत इमाम हसन बिन अली अ. हैं। जिसने भी मॊह़म्मद स. बिन अब्दुल्ला... का दावा ए उम्मती करने के बावजूद,इस फ़र्मान को न माना,हज़रत इमाम हसन बिन अली अ. को अपना सरदार तस्लीम न किया,वह मॊह़म्मद स. बिन अब्दुल्ला... के ज़रिए ख़ुदा तआला के ह़ुक्म पर मुक़र्रर कर्दा सरदार बेटे को सरदार न मानने का ही मुर्तकिब नहीं हुआ,बल्कि अल्लाह ओ रसूल अ. के हुक्म से सरताबी करने का भी मुस्तौजिब क़रार पाया।पस,अज़ ख़ुद उसने रब्बुल आलमीन व रह़मतुल्लिआलमीन स. का दामन झिटक के छोड़ दिया। फ़र्मान ए रसूल स. में मख़्फ़ी शख़्स दलील ए नुबूवत स. के #पहले जुज़्व से ही #फ़ारिग़।.....

लेकिन ख़बर ए नबी ए करीम स. अभी काफ़ी है।आगे फ़र्माया:- "...#उम्मीद है....." आप स.ने उम्मीद लफ़्ज़ लुग़वी नहीं,यक़ीनी ख़बर के इस़्तेलाह़ी व मुरादी मानी में इस्तेमाल फ़र्माया है कि अंबिया ओ रसल अ. ह़ुक्म ए ख़ुदा से मुताल्लिक़ कभी ग़ैर यक़ीनी कलाम नहीं फ़र्माते।आप स. ने पेश्गोई ए स़ुलह़ इस लिए फ़र्माई कि आप स. को ख़ुदा तआला की त़रफ़ से मालुम था कि जिस शख़्स़ के मुस्तक़बिल में बात़िल स़ाबित होने के बावुजूद भी,बिना किसी ह़क़ और क़वानीन ए अद्ल ओ इंस़ाफ़ की ख़िलाफ़ वर्ज़ी कर के,जंग ओ जिदाल का त़ूफ़ान बर्पा करने की बिना पर, उसका ख़ब्स़ ए बात़िन दोबारा ज़ाहिर करने और एक मर्तबा फिर इम्तेहान से गुज़ारने की ख़ुदाई मंशा के पेश ए नज़र ((( इस से क़ब्ल जंग ए स़िफ़्फ़ीन में ह़ज़़रत अम्मार बिन यासिर रज़ि. के क़त्ल से मुताल्लिक़ दलील ए नुबूवत स.:- अफ़्सोस ! अम्मार! तुझे एक #बाग़ी गिरोह क़त्ल करेगा; तू उसे #जन्नत की त़रफ़ और वह तुझे #जहन्नम की त़रफ़ बुलाता होगा ))) स़ुलह़ की शर्तों पे मॊआहिदा होना है,वह रसूल ए ख़ुदा स. के उम्मत पे मुक़र्रर कर्दा सरदार बेटे को ख़ुदा व रसूल स. की ह़ुक्म उदूली कर के ना स़िर्फ़ अपना सरदार तस्लीम नहीं करेगा बल्कि तीर ओ तलवार ओ तफ़ंग, मक्र ओ फ़रेब और मक़्बूज़ा ह़ुकूमत के तमाम वसाइल के साथ मार्का ए क़त्ल ओ क़ताल पे उतर आएगा।((( जैसे,ख़लीफ़ा ए राशिद ह़ज़़रत अली के फ़रमान ए माज़ूली,आप करम अल्लाहु वुजुहल करीम को अमीर उल मौमिनीन मानने से इंकार और स़िफ़्फीन में मक्र ओ ख़ूं के दर्या बहाए,वग़ैरह ))) साथ ही क़ुर्आन की आयत-मौमिन स़ुलह़ की पेश्कश क़ुबूल करे,को मद्द ए नज़र रखके अपनी दानिस्त में बड़ी होशियारी भरी चाल चलेगा कि मेरा यह बेटा ह़ुक़्म ए ख़ुदा पे अमल करते हुए एक मुसलमान गिरोह की दूसरे से लाज़्मन स़ुलह़ कराएगा। दलील ए नुबूवत स. में मख़्फ़ी शख़्स ने नबी ए अकरम स. के कम ओ बेश 34 साल क़ब्ल (फ़तह़ मक्का से ढाई तीन साल पहले) हर मुसलमान का सरदार मुकर्रर किए गए आप स.के बेटे को अपना सरदार तो तस्लीम किया ही किया नहीं बल्कि फ़र्मान ए रसूल स. की ढिटाई से मज़ीद तौहीन करते हुए,(बज़ाहिर सिर्फ़) पूरी हुकूमत हथियाने की ख़त़िर मक्र ओ जंग का जाल बिछा दिया।मुआविया मै नास़्बीन #दूसरी मर्तबा फ़ारिग़।मज़ीद वज़ाह़़त ज़ेर ए " दो मुसलमान गिरोह ".....

एक बार फिर,ज़रूरत नहीं रह जाती कि फ़र्मान ए नबी ए करीम स. से मज़ीद गुफ़्त्गू की जाए,लेकिन कम अज़ कम इस पेश्गोई ए दलील नुबूवत स. से मुकम्मल त़ौर पे इस्तेफ़ादा करना लाज़िम है। आप स. ने दौरान या फ़ौरन बाद ख़ुत्बा ए जुमा,बरसर ए मिंबर,हज़रत इमाम ह़सन अ. के लिए एक और अज़ीमउश्शान बशारत का एलान फ़र्माया:- "۔۔۔#अल्लाह तआला इसके ज़रिए۔۔۔" किसके ज़रिए??? कौन???; नवासा ए रसूल स.ह़जरत इमाम ह़सन बिन अली अ., के ज़रिए रब्बुल आलमीन ! एक बार फिर ध्यान दिजिए! रब्बुल आलमीन !ह़जरत इमाम ह़सन बिन अली अ. के ज़रिए, ना कि ह़़जरत इमाम ह़सन अ. अज़ ख़ुद!!! आप स. के यह अल्फ़ाज़ ए इर्शाद ए गिरामी ह़ज़रत इमाम ह़सन अलैहिस्सलाम को रब्बुल आलमीन व आप स. का #नुमाइंदा मुक़र्रर करने का स़रीह़ एलान ए आम हैं!!!आप स. ने दलील ए नुबूवत के पहले जुज़्व से,ह़ज़रत इमाम ह़सन अ. को अपनी उम्मत का सरदार और इस तीसरे फ़र्मान ए गिरामी से अज़ीम फ़र्ज़ अदा करने के लिए #ख़ुदा व #अपना #नुमाइंदा मुक़र्रर फ़र्माया। ह़ज़़रत इमाम ह़सन अलैहिस्सलाम तमाम मुसलमानों समेत दोनों मुसलमान गिरोह के सरदार ए सरबुलंद और बजुज़ मर्तबा ए मक़ाम ए नुबूवत व रिसालत #आप स. के #जां नशीं #मिन जानिब रब्बुल आलमीन ठहरे।दलील ए नुबूवत फ़र्मान ए नबी ए करीम स. में मख़्फ़ी शख़्स मै नास़्बीन #तीसरी दफा फ़ारिग़ कि रब्बुल आलमीन व रह़मतुल्लिआलमीन स. के नुमाइंदे को उनका नुमाइंदा मानने से भी मुन्ह़रिफ़ हुआ।इधर,आप अलैहिस्कोसलाम को तीन त़रह़ से उम्मत ए मॊहम्मदिया स. पे एह़काम नाफ़िज़ करने के अख़्तियारात ह़ास़िल हुए।एक,बतौर नुमाइंदा ए अल्लाह ओ रसूल स.। दूसरे, मिल्लत ए इस्लामिया के सरदार ए सरबुलंद होने के नाते। तीसरे, उस वक्त जब 34/35 साल बाद,राह ए रास्त पे गामज़न मुसलमाननों की जमाअत ने आप अ.के दस्त ए मुबारक पे ख़लीफ़ा ए मुस्लिमीन होने पर बेअत की।..... 

नबी ए करीम स. आगे फ़र्माते हैं:-" ۔۔۔#दो मुसलमान गिरोह۔۔۔".एक वह जो अपनी मर्ज़ी और ख़ुशदिली से इस्लाम,उम्मत ए मोहम्मदिया, अद्ल ओ इंस़ाफ़,हिफ़ाज़त ए ख़िलाफ़त ए अला मिन्हाज ए नुबूवत, ह़क़ व ख़ुशनूदी ए ह़क़ तआला की ख़ात़िर,ह़ज़़रत इमाम ह़सन अ. को तमाम अख़्तियारात सुपुर्द कर के मिल्लत ए इस्लामिया का ख़लीफ़ा ए मुस्लिमीन बना कर मैदान में लाया।यह अज़ीम वाक़ेआ मशीयत ए क़ादिर ए मुत़्लक़ और उसके महबूब स.की पेश्गोई ज़ुहूर में आने की तम्हीद के त़ौर पे रू-नुमा हुआ।मुताल्लिक़ा दलील ए नुबूवत फ़र्मान ए रसूल स.:- ((( मेरे बाद ख़िलाफ़त तीस साल रहेगी; उस के बाद #कटखना-शाह आ जाएगा)))। दूसरा वह जिसे एक शख़्स़ ने बुग़्ज़ ए मौला करम. के पर्वर्दा नास़्बीन,मुनाफ़िक़ीन,तामे दौलत ओ हुकूमत, ऐश ओ इश्रत परस्त,मत़्लबी,ख़ौफ़ज़दा,ह़ब्ब ए बनू उमय्या के जाल में फंसाए गए,तमीज़ ए ह़क़ ओ बात़िल से क़ास़िर, मजबूर,कम समझ, ना-समझ और सादा लोह़ मुसलमानों को मुख़्तलिफ़ ह़र्बों, हथकंडों से वर्ग़ला कर एक गिरोह बनाया हुआ था।वह उसे नवासा ए नबी स. नुमाइंदा ए रब्बुल आलमीन व रह़मतुल्लिआलमीन ख़लिफ़ा ए मुस्लिमीन ह़ज़़रत इमाम ह़सन अलैहिस्सलाम को साथियों समेत क़त्ल करने के लिए हज़ारों ख़ूं आशाम नेज़े,तीर ओ तलवार ओ त़़बल,ज़र्हें, ख़ोद और घोड़े वग़ैरह दे कर मैदान में लाया।..... इल्ला नास्बीन= मुनाफ़क़ीन,(((फ़र्मान ए दलील ए नुबूवत स.:-ऐ अली तुझ से मोहब्बत नहीं करेगा मगर मौमिन और बुग़्ज़ नहीं रखेगा मगर मुनाफ़िक़!...मुनाफ़िक़ों...का ठिकाना जहन्नम है...अल्तौबा,73 ))) इस गिरोह के तमाम मुसलमान ख़व्हा किसी भी वजह से मुआविया के साथ हों,ब-हर त़ौर मुस्लमान थे,गुमराह किए गए, बद-गुमां किए गए,ललचाए या डराए गए ((( उन सब को ह़ज़़रत अली करम. ने मुआफ़ कर के उम्मीद ज़ाहिर की थी के रब्ब ए करीम उन्हें मुआफ़ फ़र्मा देगा ))) गिरोह में उनकी बड़ी भारी आक्सिर्यत थी। इतनी बड़ी कि सारे दुश्मन ए ख़ुदा ओ रसूल स., दीन ओ उम्मत और इंसानियत उन्हीं के पीछे छुपने को लाचार थे।बिल्कुल ऐसे ही जैसे आज मजबूर हैं और ख़ुद को " सुन्नी " बावर कराने की कोशिश करते हैं।.....

दलील ए नुबूवत स. का अगला लफ़्ज़ ए गिरामी है:- "۔۔۔#में۔۔۔", ध्यान दिजिए ! " #मैं " ;  " से " नहींं ! ह़ज़रत इमाम ह़सन अ. नुमाइंदा ए अल्लाह ओ रसूल स. के साथ पूरी उम्मत ए मोह़म्मदिया स. के सरदार ए सरबुलंद भी हैं। जिस के अफ़्र्राद दो गिरोह में तक़्सीम हों,तीन,चार या ज़्यादा। एक गिरोह के ख़ुद साख़्ता सरगिरोह ने सालों से मसला पैदा किया हुआ था जिसे राह ए रास्त पे गामज़न दूसरा गिरोह ह़ल करना चाहता था, इसलिए आप अ. ने दोनों #में #स़ुलह़  #कराई, न कि ख़ुद किसी " से की " ।मुआविया मै नास़्बीन चौथी मर्तबा फ़ारिग़। बिलफ़र्ज़ अगर,मुदाफ़े मख़्फ़ी शख़्स़ कहे कि नुमाइंदा ए रब्बुल आलमीन व रह़मतुल्लिआलमीन स. ने " स़ुल़ह़ की " तो मख़्फ़ी शख़्स़ पांचवीं दफ़ा फ़ारिग़ ((( मगर जैसे कि दलील ए नुबूवत स.से इयां है,आप रज़ि. ने किसी से भी स़ुलह़ नहीं की ))) कि आप स. का एक और फ़र्मान ए आलीशान है:-((( मेरी,मेरे अहल ए बैत से जंग करने वाले से जंग है और स़ुलह़ करने वाले से स़ुलह़ ))) यानी आप अ. से जंग करने वाला भी काफ़िर और स़ुलह़ करने वाला भी। जैसे मक्के के मुश्रिकों व काफ़िरों ने आप स. से जंग की तब भी काफ़िर और स़ुलह़ की तब भी काफ़िर।यमन,नजरान के ईसाई वफ़द ने ईमान न लाकर जज़िया देने की शर्त पे मॊआहिदा करके स़ुलह़ की तब भी।.....

बशारत ए दलील ए नुबूवत स. का अगला लफ़्ज़ ए गिरामी है:-''.....#स़ुलह़.."।यह लफ़्ज़ नबी ए करीम स. की इस पेश्गोई की अहमियत के एतबार से अपनी जगह इतना अहम है कि इसके जलू में किताब की मुताद्दिद जिलदें समा जाएं।लिखने वाले को अब्द मुनाफ़ के बेटों से शुरू करके अल्लाह तआला के स़ुलह़ से मुताल्लिक़ मन्शा ओ मक़ासिद और आख़री फ़ैसले तक के मुम्किना व गुज़िश्ता वाक़ेआत, अस़्रात, अमल,रद्द ए अमल, नताइज,किरदारों की जिबल्लतें,रिवायतें,मन्स़ूबे,इहद्दाफ़ ओ मक़ास़िद का तमाम पहलूओं से बिला रू रिआयत जाइज़ा व तज्ज़िया करते हुए जिल्दों पे जिल्दें क़लमबंद करनी होंगी।सो,फ़क़्त़ चंद बातें।यह आलम ए इंसानियत की ऐसी फ़क़ीदुल-मिस़ाल ((( इस लिए कि नुमाइंदा ए अल्लाह ओ रसूल स.;  मुख़ालिफ़ गिरोह के ख़ुद साख़्ता सरगिरोह को चंद शराइत़ के काग़ज़ी वादे पे सब कुछ सपुर्द करदे और मुसलमानों की रियासत में से मुत़्लक़ कोई अद्ना सी शै भी अपने पास न रखे ! मिस़्ल ए ख़र्क़ ए आदत ह़ैरत ओ इस्तेजाब का मक़ाम है !!!!! ))) स़ुलह़ थी कि मा-क़ब्ल ओ बाद कभी कहीं हुई न होगी। बिल्कुल मक़्तल ए कर्बल की तरह़ बेमिस़्ल मगर साथ ही क़त्अन बर-अक्स! नताइज दोनों के यक्सां ! स़ुलह़ की शराइत़ के ख़िलाफ़ अमल करने वाले की नियत ओ ज़ेहनियत के अक्कास एमाल ओ अक़्वाल ओ अस़्रात ओ नताइज फ़ैसला स़ादिर करते हैं:- फ़ित्ना वक़्ती त़ौर पे ख़त्म हुआ और दीन ओ उम्मत में दाइमी तिफ़र्क़ा डाल दिया गया ((( जैसे,सिफ़्फ़ीन में क़ुरआन नेज़ों की नौक पे चढ़ा के डाला और नबी ए करीम स. की ख़वारिज से मुताल्लिक़ पैश्गोई के ज़ुहूर का सबब हआ )) .....!  ऐसे तनाज़ात में स़ुलह़,अमूमन तीन त़रह़ की होती हैं। एक,ग़ालिब फ़रीक़ मग़्लूब फ़रीक़ पे शर्तें थोपता है। यहां ऐसा हर्गिज़ नहीं।दो,फ़र्रिक़ैन कुछ ले दे कर स़ुलह़ करते हैं। यह भी क़त़्अन नहीं हुआ।तीन,मक्कार फ़रीक़ जो चाहता है लेने के लिए फ़रीक़ मुख़ालिफ़ की हर शर्त़ क़ुबूल कर लेता है। बिल्कुल यही किया गया،लेकिन ह़ज़रत इमाम ह़सन अ. की निस्बत से ब-वजह अदीमुल- मिस़ाल स़ुलह़ होने के मुक़ाबिल इसकी अहमियत कम कम है; और दलील ए नुबूवत स. में मख़्फ़ी शख़्स़ के ताल्लुक़ से इंतेहाई शदीद एताब आमेज़.....! चुंकि ह़ज़रत इमाम ह़सन आ. रसूल अल्लाह स. के नवासे,जां नशीं मिन जानिब अल्लाह तआला इल्ला नुबूवत ओ रिसालत, तालीम तर्बियत, दुआओं वह फ़ैज़ान याफ़्ता ( दूसरी त़रफ़ !!!) सो आप अ. को ब-वास्ता नबी ए करीम स. मौस़ूल हुक्म ए ख़ुदा पे अमल करना ही करना था। इसी लिए आप अ. ने राह ए रास्त पे गामज़न जमाअत की त़रफ़ से ऐसी ((( ख़व्हा अल्लाह तआला ने आप अ.पे इल्क़ा की हों या मौला अली करम.ने नबी ए करीम स. से मौस़ूला अमानत का मज्मुआ आप अ. को पुहंंचाया हो ))) शर्तें मनवाईं जिन्हें आप अ. ख़ूब अच्छी त़रह़ जानते थे कि वह सारी तस्लीम कर लेगा,मगर अमल बर-अक्स करेगा। यूं उसके सारे बोहतान, सारे बहाने,सारे मुत़ाल्बे,सारे वादे,सारे इरादे त़श्त अज़ बाम हो जाएंगे.....! एक अहम बात यह कि स़ुलह़ बिना मॊआहिदा लिखे और मॊआहिदे में बिना शर्त़ दर्ज किए,हर्गिज़ स़ुलह़ नहीं होती !!!.....

फ़र्मान ए पेश्गोई ए दलील ए नुबूवत स. का आख़री जुज़्व ए गिरामी है:-".....#कराए-गा "। स़ुलह़ कराए-गा। #कराए पे ख़ुस़ूस़ी तव्वजो मर्कूज़ किजिए ! #कराए-गा ; #करे-गा नहीं। #स़ुलह़ #कौन #कराए-गा ???  #रब्बुल आलमीन। #किस #के #ज़रिए #कराए-गा ???  #नवासा ए रसूल स. #ह़सन बिन अली अ. #के #ज़रिए #कराए-गा। #कौन? #किस? #के #ज़रिए #किन?#की #स़ुलह़ #कराए-गा ? #रब्बुल आलमीन #अपने व #अपने #मह़बूब स.#के #नुमाइंदे ह़ज़रत इमाम #ह़सन अ.#के #ज़रिए #दो मुसलमान गिरोह #में #स़ुलह़ #कराए-गा जो बह़ुक्म ए ख़ुदा नबी ए करीम स. के मुक़र्रर कर्दा हर उम्मती के सरदार ए सरबुलंद भी हैं।मुआविया मै नास़्बीन पांचवीं मर्तबा फ़ारिग़। ह़ज़रत इमाम ह़सन अ.श. ने #रब्बुल आलमीन के #क़ुर्आन व आप स. से मौस़ूल ह़ुक्म पर #बत़ौर #उनके #नुमाइंदे #दो मुसलमान गिरोह #में #स़ुलह़ #कराई #ना कि #ख़ुद #किसी #से #की।۔۔۔۔۔

नबी ए अकरम स. ने बह़ुक्म ए ख़ुदा अव्वलीन अल्फ़ाज़ ए पेश्गोई ए दलील ए नुबूवत से ह़ज़रत इमाम ह़सन अ. को अपने हर उम्मती का सरदार मुक़र्रर फ़र्माया। फिर उन्हें अपने बाद 30 साल पूरे होने से पहले ही एक शख़्स़ के 6 बरस से ख़ुदा की ज़मीन पे फैलाए जा रहे फ़ित्ना ओ फ़साद को मज़ीद फैलाने से रुकवाने,बर्पा की जा रही ख़ाना जंगी और बद-अम्नी ख़त्म कराने, ब-शुमूल बंदगान ए ख़ुदा उम्मत के जान ओ माल ओ इज़्ज़त ओ ह़ुर्मत मह़फ़ूज़ रखवाने और दोबारह ((( पहले, क़त्ल ए ह़ज़रत अम्मार बिन यासिर रज़ि. व बाग़ी गिरोह की पेश्गोई ए दलील ए नुबूवत स. के ज़रिए))) इम्तेहान में पड़े उसी शख़्स़ का एक बार फिर ख़ब्स़ ए बात़िन ज़ाहिर कराने के लिए अल्लाह तआला व अपना #नुमाइंदा मुक़र्रर फ़र्माया।यह इस क़दर अज़ीमुलमर्तबत ज़िम्मेदारी थी कि नवासा ए रसूल स. ह़ज़रत इमाम ह़सन बिन अली अ. ही सर अंजाम दे सकते थे। जैसे उनके वालिद मौला अली करम.को मक्के के मुश्रिकों व काफ़िरों की,अपने पास रखी हुई अमानतें, सपुर्द कराने के लिए,रवानगी ए शब ए हिजरत, बिस्तर ए नुबूवत पे सुलाया। महीनों बाद अज़ फ़तह़ मक्का,ह़ज के मौक़े पे,मुश्रिकीन ओ कुफ़्फ़ार के लिए नाज़िल ह़त्तमी हुक्म ऐ ख़ुदा सुनाने मक्के भेजा;और बद्र ओ उह़द ओ ख़ंदक़ ओ ख़ैबर वग़ैरह में अज़ीम ज़िम्मेदारियांं अत़ा की थीं।۔۔۔۔۔

रोज़ ए रोशन की त़रह़ वाज़ेह़ है कि ह़ज़रत इमाम ह़सन अ. ने किसी से भी क़त़्अन स़ुलह़ नहीं की। रब्बुल आलमीन ने अपने व अपने रसूल स. के नुमाइंदे(के ज़रिए),मै सारी उम्मत ए मॊह़म्मदिया स. दोनों मुसलमान गिरोह के सरदार ए सरबुलंद और राह ए रास्त पे गामज़न जमाअत के उन को सपुर्द कर्दा अख़्तियारात के तह़त मिन जानिब कुल,शामिल ए तनाज़ा " दो मुसलमान गिरोह  में  स़ुलह़ कराई।" गुमराह कर्दा शामी गिरोह को सब कुछ तहस नहस करने व क़त्ल ओ ग़ारत-गरी पे कमर बस्ता कर दिया गया था।उसे बाईस बरस से जमा करने वाले सरगिरोह ने मक्र ओ फ़रेब ओ लालच के नर्ग़े में फंसाकर अपने पीछे पूरी त़रह़ लामबंद किया हुआ था। सो,आप अ. ने ख़ुदा ओ रसूल स. और राह ए रास्त पे गामज़न मुसलमान गिरोह की त़रफ़ से,गुमराह कर्दा मुसलमान गिरोह के ख़ुद साख़्ता सरगिरोह बने शख़्स़ को,चंद साल के लिए मुसलमानों की रियासत के इंतेज़ामी उमूर सपुर्द कर दिए।उस पे मज़ीद शरई ह़ुज्जत तमाम करने के लिए मॊआहिदा ए स़ुलह़ में शर्तें मनवा के लिखवा दीं।इस आख़री व तीसरे इम्तेहान में भी #नुमाइंदा ए ख़ुदा ओ रसूल स. के मुक़ाबले पे आया शख़्स़ पूरी त़रह़ नाकाम हो गया। ((( इस से क़ब्ल सिफ़्फ़ीन में ह़ज़रत अम्मार  रज़ि. के क़त्ल की ख़बर मौस़ूल होने पर फ़र्मान ए दलील ए नुबूवत स. के मानी उलट के आप स. को ह़ज़़रत हम्ज़ा रज़ि. और ह़ज़रत अली करम.को ह़ज़रत अम्मार रज़ि. के क़ातिल व ۔۔۔(नऊज़ुबिल्लाह) क़रार दिया और छ 6 माह बाद बमक़ाम अज़्रज (اذرج) मै  कलाम-उल्लाह, ख़लीफ़ा ए राशिद,1000 बद्री व अस़ह़ाब ए रिज़वान रज़ि.और तमाम उम्मत ए मोह़म्मदिया स. के साथ ऐसा ही किया )))। मुआविया मै नास़्बीन #छटी दफ़ा फ़ारिग़। मॊआहिदे की शराइत़ के बर-अक्स अमल करने से उसका अस़्ल मक़सद व चेहरा एक बार फिर अलीम ओ ख़बीर ओ बस़ीर रब्ब समेत करोड़ों मुस्लिमीन और पूरी नौ ए इंसानी के सामने आ गया,ताकि रोज़ ए ह़िसाब करोड़ हा करोड़ अल्लाह के बंदे उसके ख़िलाफ़ गवाही दे सकें। इस एक ही दलील ए नुबूवत फ़र्मान ए रसूल स., में मख़्फ़ी शख़्स़ छ 6 मर्तबा फ़ारिग़ है। दोनों फ़रीक़ में स़ुलह़ का मॊआहिदा कराना और राह रास्त पे गामज़न जमाअत की जानिब से मॊआहिदे की शराइत़ त़ै करना भी दलील ए नुबूवत फ़र्मान ए नबी ए करीम स,. व इस जमाअत के आप अ. को सुपुर्द कर्दा अख़्तियारात के तह़त आप अ. की ज़िम्मेदारी में दाख़िल था। ख़ुदा व मह़बूब ए ख़ुदा स. के नुमाइंदे नवासा ए रह़मतुल्लिआलमीन स. बिन अली अ. के मुक़ाबले पे सरगिरोह ए नास़्बीन आया,यह उसकी तालीम ओ तर्बियत व हविस ए इक़्तेदार पे तुर्रा मै आप स. अहल ए बैत ए अत़्हार अ. से बुग़्ज़ की मार,कोई और आता,तब भी ह़ज़रत इमाम ह़सन अलैहिस्सलाम की #सरदारी, #ज़िम्मेदारी व #नुमाइंदगी ए ख़ुदा ओ रसूल स۔की क़द्र ओ मन्ज़िलत यही होती।۔۔۔۔۔

     .....
     ..... 
     ..... 
     ..... 
     ..... 

नोट: तह़रीर में पांच पेश्गोई ए दलील ए नुबूवत फ़र्मान रसूल स. पेश किए गए हैं।एक जानिब सब का ताल्लुक़़ रास्त बिर्रास्त मुश्तर्का त़ौर पे अहल ए बैत ए अत़्हार अ. व तीन अलग अलग बर्गज़ीदा हस्तियों और दो-त़र्फ़ा जुदा जुदा मवाक़े से है; यानी आप स. ने दस साला दौर ए हिज्रत के मुख़्तलिफ़ औक़ात में मौक़े बमौक़े,कम ओ बेश 34 ता 40 बरस बाद,मुतफ़र्रिक़ मौकों पर,सानेह़ात ओ वाक़ेआत ग़ैर मुश्तबा रूनुमा होने के बारे में,यह पेश्गोईयां इर्शाद फ़र्माईं; दूसरी त़रफ़ तमाम मतून में फ़र्द ए वाह़िद अख़्ख़स़-उल-ख़ास़ निशाना मख़्फ़ी शख़्स़ " मुआविया " है। इंतेहाई तवज्जो त़लब,ह़ैरत ओ फ़िक्र अंगेज बात यह कि आप स. ने किसी एक पेश्गोई में भी उसका नाम लेना भी गवारा नहीं फ़र्माया!!!!! यहां तक कि एक में उसकी ख़स़्लत को पूरी त़रह़ उभार के नुमायां किया और साथ ही नाम लेने से भी सख़्त एराज़ फ़र्माया। इसी सीरत ओ सुन्नत ए रसूल स. पे अमल करते हुए,मज़मून में कोशिश की गई है कि आप स. और ह़ज़रत इमाम ह़सन अ. के अस्मा ए मुबारिका के साथ एक ही जुम्ले में उसका नाम न आए।अगर कहीं भूल चुक से आ गया हो,बहुत बहुत माज़रत ! मुत्तले फ़र्माएं ! ताकि तस्ह़ीह़ कर दी जाए।۔۔۔۔۔

बहुत शुक्रिया-अलमिहर ख़ां

तह़रीर उर्दू में भी मुलाह़िज़ा फ़र्मा सकते है:-
.
Al-Miher Khan:-
(((   https://www.facebook.com/almiher.khan? mibextid=ZbWKwL.   )))
.
the Danka:- (((   https://www.facebook.com/profile.php? id=100065451491487   )))
.
YouTube channel:-@(((  Al-Miher Khan   )))
In Community feature
.
Twitter handle:-@(((  @miher_al  )))
.
Al-Miher Khan: Blog-
(((   https://www.blogger.com/blog/posts/4710096665747278849   )))

Baabeilm Blog:-
(((  https://www.blogger.com/blog/posts/439969061418575314   )))

#اکابرین_دیوبند_کے_مرشد_میلاد_مناتے_تھے

 #اکابرین_دیوبند_کے_مرشد_میلاد_مناتے_تھے

جمیع اکابرینِ دیوبند کے پیرو مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

”مشرب(طریقہ) فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مولود میں شریک ہوتا ہوں ، بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں ، اور قیام میں لُطف و لذت پاتا ہوں۔“

[کلیاتِ امدایہ، رسالہ فیصلہ ہفت مسئلہ ، 80، مطبوعہ دار الاشاعت کراچی]

#گنگوھی_کی_چالاکی

کیونکہ "فیصلہ ہفت مسئلہ" میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اھلسنت کے عقائد لکھے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدد کر سکتے ہیں، یارسول اللہ مدد پکار سکتے ہیں ، "یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئا للہ" پڑھ سکتے ہیں، عرس مناجائز ہے، "الصلوة والسلام علیك یارسول اللہ" پڑھنا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ جہاں چاہیں ایک آن میں متعدد جگہ جا سکتے ہیں" ، "محفلِ میلاد میں خود منعقد کرتا" ، "ہوں قیام میں لُطف سرور ملتا ہے"۔

جب یہ ساری چیزیں اکابرین دیوبند کے پیرو مرشد نے لکھی تو علماء دیوبند کیلئے جان چھڑانا مشکل ہو گیا کیونکہ انہی سب چیزوں کو یہ لوگ شرک و بدعت کہتے ہیں۔ 
گنگوھی نے چالاکی اپناتے ہوئے انکار کر دیا کہ رسالہ "فیصلہ ہفت مسئلہ"حاجی امداد اللہ مہاجرمکی" صاحب کا لکھا ہوا نہیں ہے۔

چنانچہ مولوی رشید احمد گنگوھی لکھتا ہے کہ:

”یہ رسالہ انکا لکھا ہوا نہیں ہے کسی نے لکھا انکو سُنا دیا انہوں نے اصل مطلب کو دیکھ کر اباحب (جواز) کی تصحیح کر دی۔“

[فتاویٰ رشیدیہ، کتاب العلم، صفحہ 159، عالمی مجلس تحفظِ اسلام کراچی]

گنگوھی نے جان چھڑانے کی کوشش تو بہت کی لیکن اسکے جھوٹ پر "حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب" نے خود پانی پھیر دیا۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب فرماتے ہیں:

”سُنا ہے کہ "فیصلہ ہفت مسئلہ" کے اوپر بھی اکثر لوگ اشتباہ کرتے ہیں کہ وہ فقیر کا لکھا ہوا نہیں ہے ، مگر افسوس ہے کہ یہ نہیں دیکھتے کہ خواہ کسی کا لکھا ہوا ہو ، حق بات کو سمجھیں ، اور وہ رسالہ فقیر ہی نے لکھا ہے“

[امداد المشتاق، صفحہ174، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاھور]

گنگوھی نے جان چھڑانے کیلئے جو محل تعمیر کیا تھا حاجی صاحب نے دھڑم سے اسے گرا کر دیوبندیت کے منہ پر تمانچہ رسید کر دیا۔
حاجی صاحب فرماتے ہیں کہ افسوس ہے کہ حق بات کو نہیں سمجھتے جیسا کہ گنگوھی نے حق بات کو نہیں سمجھا، اسی لئے ایسے لوگوں پر انہی کے مانے ہوئے پیر و مرشد افسوس کر رہے ہیں-منقول

آثار ابو الدرداء،انس رض و شرعیت/نماز

آثار ابو الدرداء،انس رض و شرعیت/نماز
شریعت ص نہیں بچی الا باجماعت نماز:ابو الدراء رض
اب عہد ص کی نماز بھی بدل گئی: حضرت انس رض
میں اب عہد ص کی نماز بھی نہیں پاتا: امام مالک رح _____________________________
شریعت ص نہیں بچی الا باجماعت نماز:ابو درداء رض
(ام الدرداء (الصغرٰی) بتاتی ہیں:-( ایک مرتبہ )  ابودرداء آئے، بڑے غصے میں تھے۔ میں نے پوچھا،کیا بات ہوئی،جس نے آپ کو غضبناک کیا؟ فرمایا: اللہ کی قسم! اب میں شریعت محمدی ص کی کوئی بات نہیں پاتا۔سوا اس کے کہ لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں۔بخاری،650،صحیح۔
Wikipedia
کے مطابق حضرت ابو الدرداء رض کی وفات 31 تا 39 ہجری کے کسی سال میں ہوئی۔ 35ھ فرض کریں تو حضرت عثمان غنی رض کا دور گزرتے گزرتے  عمومی حالات یکثر عہد نبوی کے برعکس ہو کئے تھے۔حضرت عثمان غنی رض کی شہادت 35ھ/656ء میں ہوئی۔
_______________________________

اب دور ص کی نماز بھی نہیں رہی: حضرت انس رض
(حضرات انس بن مالک رض،عمر 103,دور اموی میں 56سال ؛ وفات 93ھ/713 ء) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا۔ لوگوں نے کہا، نماز تو ہے۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے!!!؟؟؟ بخاری،529,صحیح۔
_____________________________________

میں اب عہد ص کی نماز بھی نہیں پاتا:امام مالک رح
آپ رح کا وصال 176ھ/ 795ء میں ہوا. عمر 87 برس۔بنو امیہ کی  " کٹکھنی بادشاہت" 661 سے شروع ہو کر 744  عیسوی میں ختم ہوئی۔یہ قول بنو امیہ کے دارالحکومت (رہے)دمشق میں ارشاد فرمایا۔بخاری،530،صحیح۔

جسے بھی بدعت پہ احادیث،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،شرعیت اور طرح طرح کی دلیلیں دینے کا شوق ہو،آئے ! اور فقط سرخیوں کے الفاظ تحلیل فرمائے !

( میں دمشق میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی۔ 

حکمراں رحم،عدل ،وعدے(پورے) نہ کریں تو ان پر اللہ, فرشتوں و لوگو کی لعنت،مسند احمد،12023

حکمراں رحم،عدل ،وعدے(پورے) نہ کریں تو ان پر
اللہ, فرشتوں و لوگو کی لعنت،مسند احمد،12023
بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  اس گھر کے  دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:   حکمران  قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب  وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان میں سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔
۔ (۱۲۰۲۳)۔ عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ وَہْبٍ الْجَزَرِیُّ، قَالَ: قَالَ لِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا مَا أُحَدِّثُہُ کُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  قَامَ عَلَی بَابِ الْبَیْتِ وَنَحْنُ فِیہِ، فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، وَلَکُمْ عَلَیْہِمْ حَقًّا مِثْلَ ذٰلِکَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوْا فَرَحِمُوْا، وَإِنْ عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِنْ حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۳۲

Surat No. 66 Ayat NO. 4


 اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو ﴿تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے﴾ کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں7  ،  اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے باہم جتھہ بندی کی8 تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولی ہے اور اس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مدد گار ہیں9 ۔  

اے اللہ! بے شک تو نے اپنے درود اور اپنی رضوان کو مجھ پر اور ان پر خاص کر دیا ہے

اے اللہ! بے شک تو نے اپنے درود اور اپنی رضوان کو مجھ پر اور ان پر خاص کر دیا ہے
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلاش میں باہر نکلا تو مجھے کسی نے کہا کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس ہیں پس میں نے (وہاں) ان (کے پاس جانے) کا ارادہ کیا (اور جب میں وہاں پہنچا) تو میں نے انہیں حضور نبی اکرم ﷺ کی چادر کے اندر پایا اور حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنھم ان سب کو حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک کپڑے کے نیچے جمع کر رکھا تھا پس آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! بے شک تو نے اپنے درود اور اپنی رضوان کو مجھ پر اور ان پر خاص کر دیا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 27 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 95، الرقم : 230، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 167.
________________________________
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ درآں حالیکہ آپ ﷺ نے چادر بچھائی ہوئی تھی۔ پس اس پر حضور نبی اکرم ﷺ (بنفسِ نفیس) حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیھم السلام بیٹھ گئے پھر آپ ﷺ نے اس چادر کے کنارے پکڑے اور ان پر ڈال کر اس میں گرہ لگا دی۔ پھر فرمایا : اے اللہ! تو بھی ان سے راضی ہو جا، جس طرح میں ان سے راضی ہوں۔‘‘ اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 58 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 348، الرقم : 5514، و الهيثي في مجمع الزوائد، 9 / 169.

__________________________________
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آخری چیز جو حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ مجھے میرے اہل بیت میں تلاش کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 59 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 157، الرقم : 3860، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 163.

____________________________________
حضور نبی اکرم ﷺ کے پروردہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر حضور نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت ’’اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح) کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے‘‘ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اللہ علیہم کو بلایا اور انہیں اپنی کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے تھے، آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں (بھی) ان کے ساتھ ہوں، فرمایا : تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 53 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن عن رسول اللہ ﷺ، باب : و من سورة الأحزاب، 5 / 351، الرقم : 3205، و في کتاب : المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب : فضل فاطمة بنت محمد ﷺ، 5 / 699، الرقم : 3871، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 134، الرقم : 3799.
______________________________

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر میرے بعد تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میری عترت یعنی اھلِ بیت اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گی پس دیکھو کہ تم میرے بعد ان سے کیا سلوک کرتے ہو؟‘‘ اسے امام ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

"سب و شتم" کی تحقیق، حقیقی معانی و مطالب اور متبادل مرکب-المہر خاں

"سب و شتم"  کی تحقیق، حقیقی معانی و مطالب اور متبادل مرکب-المہر خاں 

گزشتہ ڈیڑھ صدی سے بر صغیر کے مسلمانوں کا واسطہ ایک مرکب " سب و شتم " سے پڑ رہا ہے۔اس سے قبل ایسا بالکل نہیں تھا۔ مسلمانوں کو اس مرکب کے معانی و مطالب جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔ بر صغیر میں دین محمدی ص کی تبلیغ و ترویج کرنے والے صوفیاء کرام  ہرکز نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ہونے والوں کے دل و دماغ میں اسلام وحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے تئیں کسی قسم کا شک و شبہ اور دشمنان علی کے لئے نفرت و کدورت پروان چڑھیں۔انہوں نے اسی طرح کی وجوہات کے پیش نظر دشمنان علی کا انتہائی ضرورت کے علاوہ کبھی بھی مجالس عامہ میں تذکرہ نہیں کیا۔ لیکن جیسے کے اوپر ذکر کیا گیا،ڈیڑھ صدی سے  خصوصاً فی الوقت اس مرکب کے حقیقی صحیح معانی و مطالب جاننے و عام کرنے کی اشد ضرورت آن پڑی ہے۔ اس تعلق سے مختصر سی تحقیق پیش خدمت ہے:- 
                              ' سب وشتم ' کا صحیح ترین ترجمہ اور معانی ' بہت زیادہ یا بہت سخت گالی گلوچ کرنا ' ہی ہو سکتا ہے۔ بہت زیادہ یا بہت سخت اور گالی گلوچ کے علاوہ الفاظ کے کسی بھی مرکب سے ' سب و شتم ' کے معانی و مطالب ادا نہیں ہوتے نہ بر صغیر کے اردو داں عوام اس کے صحیح پس منظر،اثرات اور پسر ہندہ جگر خور کی پالیسی ، حضرت علی رض سے نفرت و کدورت و ذہنیت اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی مظلومیت،حق حقوق و قدر و منزلت سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔

" سب و شتم " اصطلاح کے پیچھے بغض و کینے کا ایک پورا نظام و نظریہ،داستان و تاریخ پوشیدہ ہے۔ دانستہ طور پر ان (بہت زیادہ یا بہت سخت گالی گلوج کرنا) سے ہلکے الفاظ میں 'سب و شتم ' کا مفہوم ادا کرنے کی کوشش کرنے والے،کوشش میں ناکام،بددیانتی و حق سے کھلواڑ کے مرتکب، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے باغی اور پسر ہندہ جگر خور کے طرفدار قرار پاتے ہیں۔

حق تبھی تک حق ہے جبتک خالص ہے،پورا ہے۔مثلا، یہ کہنا پورا حق نہیں کہ آپ ص نے فرمایا " اے ! عمار تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔" یہ حق اور آپ ص کے ساتھ کھلواڑ،ان کی توہین و تذلیل۔۔۔ہے۔پورا حق ، پورا فرمان رسول ص پیش کرنے سے ہی ہوگا ، کتر بیونت کرنے سے نہیں۔ فرمان رسول ص آگے ہے،" تو اسے جنت کی طرف بلاتا ہوگا اور وہ تجھے جہنم کی۔"

مصباح اللغات میں 'سبہ' (سین پہ زبر،ب پہ تشدید و زبر اور ہ پہ الٹا پیش)  کے معانی 'سخت گالی دینا' درج ہیں۔'شتمہ' ( شین بہ زبر،ت پہ تشدید و زبر،میم پہ زبر اور ہ پہ الٹا پیش) کے معنی 'بہت گالی دینا' رقم ہیں۔  الشتام(شین بہ زبر،ت پہ تشدید و زبر) بہت گالی دینے والا۔ شتم و سب و شاتم غالباً موارد ہیں،مصباح اللغات میں نہیں ملے اور المنجد کے احقر کے پاس نسخے میں ' سبہ 'کے معنی وہی درج ہیں جو مصباح اللغات میں۔ 'شتمہ' ملا نہیں کہ 499 سے 514 تک کے صفحے غائب ہیں یا کہیں دوسری جگہ منسلک۔

                       ایک حیران کن بات اور، اردو کی معتبر ترین لغت فرہنگ آصفیہ میں 'سب و شتم ' لفظ ہی نہیں ، نہ ایس ڈبلیو فیلن صاحب کی "اے نیو ہندستانی- انگلش" لغت میں۔ فرہنگ عامرہ میں 'سب' اور 'شتم ' الگ الگ اپنے مقام پہ درج ہیں۔ اس میں 'سب ' کے معنی گالی اور 'شتم ' کے معانی 'گالی گلوچ' درج ہیں۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ' سب و شتم ' کے حقیقی اور صحیح معانی و مفاہیم کو ادا کرنے اور عوام الناس تک پہنچانے کے لئے ' بہت زیادہ گالی گلوچ کرنا، ہی لکھنا بولنا لازم و ملزوم ہے۔
 آخر آصفیہ و فیلن صاحب کی لغت میں یہ مرکب یا دونوں لفظ کیوں درج نہیں؟ یہی حیران کن بات ہے! 
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک جب یہ دونوں لغات تالیف کی گئیں، بر صغیر کے مسلمان پسر ہندہ جگر خور کو جانتے ہی نہیں تھے۔ اس دور تک کے لوگوں کے لئے یہ ضروری الفاظ نہیں تھے کہ درج کئے جاتے۔اسی وجہ سے مسلم معاشرے میں رائج تھے نہ کسی کو ان کے معانی جاننے کی ضرورت تھی،سو درج بھی نہیں کئے گئے ۔ فرہنگ عامرہ ان دونوں سے بعد کی تالیف ہے،ناصبی پیدا ہو گئے ہیں۔پسر ہندہ جگر خور کو کھوج کھوج کے زندہ کیا جانے لگا ہے، مگر اتنا نہیں ہوا کہ لغت میں ' سب و شتم ' کو مرکب کے طور پہ اور اس کے حقیقی صحیح معانی و مطالب و مفاہیم کے ساتھ درج کرنے کی ضرورت ہو۔
فیروز اللغات آتے آتے وہ دور آ گیا کہ ناصبی زور مارنے لگے اور مسلمان خدا مست ہی رہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ مؤلف نے'سب و شتم' کے معانی فقط "گالی گلوج " درج کئے۔ حالانکہ بہت زیادہ یا بہت سخت گالی گلوج رقم کرنے چاہئیں تھے۔ بے شک اس میں اولا ' لعن طعن کرنا' درج ہیں مگر یہ اس مرکب کے حقیقی صحیح معانی کو عوام الناس کے ذہنوں میں نہیں اتار سکتے۔ تیسرے معانی 'برا بھلا کہنا ' درج ہیں۔ یہ مرکب ' سب و شتم ' کے حقیقی صحیح معانی و مطالب کی قطعاً ترجمانی نہیں کرتا جیسے کہ مصباح اللغات و المنجد میں درج ہیں۔

"سب و شتم " یعنی بہت زیادہ گالی گلوچ کرنا۔

خدا سے دعا و امید ہے کہ حق تعالیٰ حق کے متلاشیوں کی ضرورت اس ادنی سی تحقیق سے پوری فرمائے گا۔

حضرات فاطمہ،حسنین کریمین ع جنت کے سردار ؟-بقلم المہر خاں برائے Ayaz Anjum

حضرات فاطمہ،حسنین کریمین ع جنت کے سردار ؟
-بقلم المہر خاں برائے Ayaz Anjum

دو روایتوں سے متعلق دو سوالوں کے علاوہ باقی سب روایتیں خود اہل تسنن خواہ کسی مذہب ،مسلک، مشرب، طائفے ،فرقے کے علماء ہوں،کے نزدیک متنازع ہیں۔ ایک عالم دین کسی روایت کو صحیح یا حسن قرار دیتا ہے تو اسی فرقے کا دوسرا عالم اسی روایت کو ضعیف یا موضوعہ، وغیرہ وغیرہ۔

دو روایتوں میں بھی تطبیق کا اختلاف ہے۔ بہر کیف، مختصرا، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرات حسنین کریمین علیہ السلام اس لئے جنت کے سردار ہیں کہ دین رب العالمین و رحمت اللعالمین ص اسلام کے ہر دور میں حقیقی دعوات انہیں کی آل و اولاد رہیں،ہیں،رہیں گی،جب تک خدا اسلام لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھنا چاہے گا۔ دلیل،فرمان رسول ص " میں تم(فرمان کے وقت سے قیامت تک کے مسلمان) میں دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت (حضرات علی ،فاطمہ اور حسنین ع و ان کی آل اولاد)۔ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کے مجھ سے حوض  کوثر پہ آ ن ملیں گے۔ "  یہ پیشینگویانہ دلیل نبوت فرمان رسول آپ ص کا فرمان سجا ہونے ۔ (جیسے کہ آگے ملاحظہ فرمائیں گے  اور زمین پر ہمیشہ صورت حال  رہی ہے). آپ ص کے سجا نبی اور خدا کے ہونے کی دلیل بھی ہے۔رہے جنگباز اور ان کی جنگبازیاں(و دیگر)،ان کا اسلام سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا محافظ کا مالک سے ہوتا ہے۔باوجود اس کے اسلام ان کے جنگباز بننے اور جنگبازیوں کو جائز نہیں قرار دیتا کہ سب ناجائز طریقوں سے امت مسلمہ پہ مسلط ہوئے تھے الا چھ۔

اسی لئے  ناصبیوں کے علاوہ خواہ سنیوں کے مذاہب و مسلک ۔۔۔۔ہوں یا شیعوں کے، ہر دور میں سب سے اعلی مقام پہ سید ہی رہے،اب بھی ہیں اور آگے بھی رہیں گے،استثنی ہر جگہ ہوتا ہے،لیکن مثال نہیں بنتا۔ بر صغیر کی مثالیں سامنے ہیں۔ دیوبند سیدوں کے پاس ہے۔ندوہ ،جماعت اسلامی ،،صوفیاء کے تمام سلاسل،بریلوی - اعلی حضرت اور خانوادہ اعلی حضرت سے کتنی بھی عقیدت و محبت رکھتے ہوں مگر غیر سید عالم  بھی کسی سید زادے کے سامنے آنے پر خندہ پیشانی اور محبت و مودت و احترام سے گفتگو کرتا ہوا ملے گا۔عام بریلوی عالم ہی نہیں خود اعلی حضرت کے خانوادے کا بڑے سے بڑا عالم بھی۔شیعوں کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بچا کون ؟ ناصبی۔ عرض کرنا ضروری نہیں کہ ناصبیوں کے ہیروز جیسے اسلام میں داخلے کے زبانی اقرار سے قبل بنو ہاشم کے دشمن تھے،آج یہ بھی ہیں۔ دشمنی نکالنے کے طریقوں میں فرق لائے ہیں، دشمنی نکال اب رہے ہیں۔

دو مثالیں ، کانگریس وقتی طور پر کوئی جانبداری کا کام کر جائے یا کئے ،الگ بات ، مگر اپنے بنیادی اصولوں کے برعکس کبھی گئی نہ جا سکتی ہے۔ ادھر واجپائی + آڈوانی اور مودی + امت کی بی جے پی میں کیا فرق ہے، ہر سیاسی بصیرت کا حامل شخص جانتا ہے۔ کانگریس جب تک گاندھی خاندان کے کنٹرول میں رہے گی،آئین ہند ، گاندھی، نہرو،اندرا،راجیو کے اصولوں سے انحراف نہیں کر سکتی۔مجموعی اعتبار سے اس نے ملک آزاد کرایا،اس کی بنیادیں رکھیں،مضبوط کیں،آگے بڑھایا ۔ 2014 سے قبل ملک کی معیشت، کاربار ، روزگار، ملازمتیں،عدلیہ،سماجی ہم آہنگی وغیرہ  وغیرہ سے اب کے حالات کا موازنہ کیجئے‌! وجہ ؟ جس نے قربانیاں دیں، محنت کی ،زمین خریدی،مضبوط بنیادیں رکھیں،دیواریں،کھڑکی دروازے چھتیں اور دیگر تمام لوازمات کے ساتھ کھر بنایا، وہی اس کو بہترین طریقے سے جانتا سمجھتا ہے یا گھر والے ۔باہر والوں میں سے جنہوں نے توڑا بہت ہاتھ بٹایا اگرچہ کچھ مخلص بھی ہوں ، باقی بعد کے دیگر ایک نہ ایک دن گھر  تباہ و برباد کر ہی دیتے ہیں۔جیسے AyazAnjum@ آپ کررہے ہیں۔

حضرت حسن ع کی حکومت سے دستبرداری ،زہر دلوا کے قتل کیا جانا،حضرت حسین ع کی قربانیاں ! کوئی تاریخ عالم کے کسی دور سے کسی قوم سے،کسی خانوادے سے پیش کرے !؟ اور خاتم رسل ص کی دختر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جن کے والد رحمت اللعالمین ص نے اس قوم کی ایسی تربیت کی ، ایسے عقائد و کتاب دی کہ جو ہزاروں سال سے دنیا کی مہذب ترین قوموں کے درمیان رہ کر بھی دنیا کی جاہل ترین،بدترین اور وحشی ترین قوم تھی، اقوام عالم کے لئے زندگی جینے کا نمونہ بن گئی۔ان کے شوہر حیدر کرار و باب علم و حکمت کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک ہی وقت میں، وہ کارنامے انجام دیئے کہ عرب ہی نہیں دنیا کی کوئی قوم مثال پیش نہیں کر سکتی۔ بدر و احد و خندق و خیبر کے جنگی میدانوں میں ہی نہیں، نبی نہ ہوتے ہوئے بھی نبوت کا فریضہ اس انداز سے انجام دیا کہ از خود انبیاء کرام علیہم السلام اش اش کرتے ہوں گے!!! ایک صحابی رض کے چھ ماہ گزار کے بھی بالکل بے نیل مرام  واپس آنے کے بعد اسی قبیلے کے پاس یمن بھیجے گئے۔قبیلے کے قریب جاکر وضو کیا،مصلا بچھایا،اذان دی،نماز پڑھی۔لوگ آئے ، تقریر کی، آپ ص کا خط پڑھ کے سنایا ؛ قبیلے کا قبیلہ مسلمان ہو گیا ! آہ بنت رسول ص آہ آہ !! کربلا میں صرف حضرت حسین و علی اکبر و علی اصغر ع ہی نہیں، ان سمیت  دختر رحمت اللعالمین ص کے 17  جگر پاروں کا خوں خوں خواروں نے پیا۔ وہ جگر پارے جن پر از خود اپنے نور عین حسین ع کو وار دیتیں کہ بیٹے بیٹی سے ناتی پوتے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔ ڈرا عدل و انصاف کا میزان قائم کیجئے !  خواتین جنت کی سردار کون اور کیوں ہو؟ ٹھہرئے ٹھہرئے! جلدی نہ کیجئے! ابھی تو آپ کو ایک دکھیا ماں کی دل جوئی بھی کرنی ہے کہ اس کے قلب و روح کو کچھ تو قرار آئے!!!
کیا کسی کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جس کے والد نے دنیا کی ہمیشہ کے لئے صورت بدل دی،جس کے شوہر اور آل اولاد کی مثالیں دنیا آج تک پیش کرنے سے قاصر ہے،وہ اگر خدائی حکم کے مطابق خواتین جنت کی سردار قرار نہ دی جاتی تو اور کوئی کون اور کیوں ؟

چودہ سو سال کے حالات گواہ ہیں کہ پیغمبر اسلام ص کے بعد دنیا ، نہ صرف مسلم دنیا بلکہ غیر مسلم دنیا کی اقوام کے کروڑ ہا کروڑ افراد جن کی عظمت و رفعت کے معترف ہیں،عقیدت و محبت رکھتے ہیں،عزت و احترام کرتے ہیں ان کے جنت کا سردار ہونے میں شک کا شائبہ لانا بھی مسلمان کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے اور دیگر کے فکر و فلسفے  کے ناقص ہونے کی دلیل و علامت ہے۔ کیوں؟ کہ مندرجہ بالا فرمان رسول ص جیسے کہ ماقبل عرض کیا گیا اب تک سجا ثابت ہوتا رہا،آ گے بھی ہوتا رہے گا بعد از روز حساب بھی۔

ملحدوں کے لئے ایک مرتبہ پھر عرض ہے کہ مندرجہ بالا  پیشینگویانہ دلیل نبوت فرمان رسول ص جیسے حضرات فاطمہ زہرا،حسنین کریمین ع اور ان کی آل اولاد کے تعلق سے اب تک سجا ثابت ہوتا رہا ہے،آخرت تک ہوتا رہے کا,آپ ص کو اللہ کا نبی و رسول ثابت کرتا رہا ہے، رہتی دنیا تک کرتا رہے گا ، ایسے ہی خدا ،اشور ،گوڈ،اللہ کے ہونے، خالق کائنات ہونے، رب العالمین ہونے، روز حشر کا محتسب ہونے،رحمان و رحیم ہونے۔۔۔۔کو بھی ثابت کرتا رہا ہے جنت میں انسان کے ہونے تک کرتا رہے گا۔

معاویہ کے مدافعین غور کریں!

معاویہ کے مدافعین غور کریں!
مسلمانوں کے لئے فرمان رسول ص ہے: حق علی کے ساتھ اور علی حق کے ساتھ ہے۔
یعنی کسی بھی مسلمان پر جب بھی جس معاملے میں بھی حق مشتبہ ہو جائے،جس پہلو پہ حضرت علی کرم ۔‌‌۔۔کو کھڑے دیکھے،مان لے کہ حق یہی ہے۔ جو قول حضرت علی کرم ۔۔۔کی زبان مبارک سے سنے، مانے کہ حق یہی ہے۔ اور جو بھی حضرت علی کرم ۔۔۔کے موقف کے برعکس مؤقف دیکھے،سنے، پڑھے مانے کہ باطل ہے۔۔۔۔۔پیمانہ حق علی۔

2) دلیل نبوت فرمان رسول ص: اے عمار تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا،تو اسے جنت کی طرف بلاتا ہوگا اور وہ تجھے جہنم کی طرف۔

3) دلیل نبوت فرمان رسول ص: میرا یہ بیٹا سردار ہے،امید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے دو مسلمان گروہ میں صلح کرائے گا۔

4) دلیل نبوت فرمان رسول ص: میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی , بعد از #کٹکھنا #بادشاہ آ جائے گا۔

بڑا نام اللہ کا ! ضروت پیش آئی تو تینوں فرامین رسول ص کی تشریح کر دی جائے گئی ،ان شاء اللہ۔

معاویہ کے ہر مدافع کو حق تعالیٰ سے اپنے دل پہ حق منکشف کرنے کی نیت اور دعا کر کے مذکورہ بالا چاروں فرامین رسول ص کے ہر ہر لفظ پہ ترتیبوار غور کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی آیت تطہیر و اس پر آپ ص کا عمل اور آیت مباہلہ و اس پر آپ ص کا عمل ذہن نشیں رکھے۔-المہر خاں 

مأمون عباسی کی، مدح معاویہ پر سزا

مأمون عباسی کی، مدح معاویہ پر سزا

بنی عباس میں سے ساتواں خلیفہ مأمون سن 211 ہجری میں ہر اس شخص سے برات کا اعلان کرتا تھا جو معاویہ کی مدح کرتا اور ایسا کرنے والے شخص کیلئے ایک سزا بھی مقرر کی تھی۔سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 364

معاویہ نے اسلام قبول ہی نہیں کیا !

معاویہ نے اسلام قبول ہی نہیں کیا !
 ڈاکٹر علی سامی النشار نے اپنی کتاب نشأة الفکر الفلسفی فی الإسلام، میں معاویہ کے بارے میں روایت ذکر کی ہے، شافعی عالم نے اپنی کتاب میں لکھا:

فان الرجل لم یؤمن ابداً بالاسلام،

معاویہ نے بالکل اسلام قبول نہیں کیا تھا۔

نشأة الفكر الفلسفي في الإسلام؛ ج 2، ص 18 ط السابعة، دار المعارف سنة 1977 م

کتاب مسائل امام احمد بن حنبل میں اسحاق ابن ابراہیم نیشاپوری سے روایت نقل ہوئی ہے:
سمعت علی بن جعد یقول مات والله معاویة علی غیر الاسلام،

میں نے علی ابن جعد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: خدا کی قسم ! معاویہ کی موت دین اسلام پر واقع نہیں ہوئی، یعنی وہ مسلمان دنیا سے رخصت نہیں ہوا۔

اسی طرح کتاب انساب الاشراف بلاذری میں روایت ہے اور اس کو 50 سے زائد اہل سنت علماء نے نقل کیا ہے:
کنْتُ عِنْدَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یطْلُعُ عَلَیکمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ یمُوتُ عَلَی غَیرِ مِلَّتِی،
صحابہ کرام رض کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ص کے پاس تھے کہ آپ ص نے فرمایا: ابھی اس دروازے سے ایک آدمی داخل ہو گا جو میرے مذہب پر نہیں مرے گا۔

قَالَ: وَکنْتُ تَرَکتُ أَبِی قَدْ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَکنْتُ کحَابِسِ الْبَوْلِ مَخَافَةَ أَنْ یجِیءَ،
راوی کہتا ہے: میرے والد وضو کرنے کے لیے چلے گئے، مجھے خود بھی بیت الخلاء جانے کی اشد ضرورت تھی، لیکن پھر بھی اس شخص کو دیکھنے کے لیے میں نے خود کو قابو کئے رکھا۔
قَالَ: فَطَلَعَ مُعَاوِیةُ فَقَالَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: هُوَ هَذَا،
راوی کہتا ہے کہ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ اس دروازے سے معاویہ داخل ہوا، اسکو دیکھتے ہی رسول خدا ص نے فرمایا: جس آدمی کے بارے میں، میں نے کہا تھا کہ وہ مسلمان دنیا سے نہیں مرے گا، وہ یہی آدمی ہے۔ (یعنی معاویہ مسلمان نہیں بلکہ کافر دنیا سے جائے گا)

جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری، تحقیق: سهیل زکار وریاض الزرکلی، ج 5، ص 126، ح 362 ،منقول

معاویہ ثانی کا یزید و معاویہ بن صخر پر اعتراض

معاویہ ثانی کا یزید و معاویہ بن صخر پر اعتراض

اسی طرح کتاب النجوم الزاهرة فی ملوک المصر و القاهرة میں عالم اہل سنت اتابکی نے «ذکر خلافۃ معاویۃ بن یزید بن معاویۃ» کے عنوان سے نقل کیا ہے کہ معاویہ ابن یزید ابن معاویہ کہ جو یزید کا بیٹا اور معاویہ کا پوتا ہے، اس نے یزید کے واصل جہنم ہونے کے بعد، بعنوان حاکم اموی منبر پر بیٹھ کر کہا:

أیها الناس، إن جدی معاویة نازع الأمر أهله ومن هو أحق به منه لقرابته من رسول الله صلی الله علیه وسلم وهو علی بن أبی طالب،

اے لوگو ! میرے جدّ معاویہ نے خلافت کے لیے علی ابن ابی طالب سے اختلاف کیا، حالانکہ رسول خدا سے قرابت کیوجہ سے علی، حق پر تھے۔

ورکب بکم ما تعلمون، «حتی أتته منیته، فصار فی قبره رهیناً بذنوبه وأسیراً بخطایاه» «ثم قلد أبی الأمر فکان غیر أهل لذلک، ورکب هواه وأخلفه الأمل، وقصر عنه الأجل. وصار فی قبره رهیناً بذنوبه، وأسیراً بجرمه» «ثم بکی حتی جرت دموعه علی خدیه» «ثم قال: إن من أعظم الأمور علینا علمنا بسوء مصرعه وبئس منقلبه» «وقد قتل عترة رسول الله صلی الله علیه وسلم وأباح الحرم وخرب الکعبة»

اس (معاویہ) نے خود کو کس طرح تم لوگوں کی گردنوں پر سوار (مسلط) کیا کہ تم سب بہتر جانتے ہو، یہاں تک کہ وہ موت پا کر قبر میں چلا گیا ہے، اس حالت میں کہ قبر اس کے گناہوں اور خطاؤوں کے ہاتھوں اسیر ہے،

اس (معاویہ) کے بعد میرا باپ یزید بھی خلافت کا اہل نہیں تھا، وہ بھی اپنی ہوا و ہوس پر سوار ہو کر قبر میں چلا گیا ہے اور وہ بھی اپنے گناہوں اور جرم کے ہاتھوں اسیر ہے۔

پھر اس (معاویہ ابن یزید) نے بہت گریہ کیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ میرا باپ بد ترین جگہ پر بد ترین عذاب میں مبتلا ہے اور وہ بد ترین ٹھکانے میں ہے، اسلیے کہ اس نے رسول خدا کی عترت کو شہید کیا ہے، اور اس نے خانہ کعبہ کی حرمت کو پامال کیا ہے اور خانہ کعبہ کو منہدم کیا تھا۔
النجوم الزاهرة فی ملوک مصر والقاهرة، المؤلف: یوسف بن تغری بردی بن عبد الله الظاهری الحنفی، ج1، ص 164  

علی ! تم ہارون کی طرح ہو،حدیث وصی رسول


ابراہیم بن سعد نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون علیہ السلام تھے ؟‘‘ مسلم، 6221

قرآن و عترت سے تمسک ہی وحدت کی واحد راہ

شیعہ و سنی کتب کی ورق گردانی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ رسالت مآب ۖنے امت مسلمہ کو اختلاف سے بچنے اور وحدت ایجاد کرنے کی راہ دکھا کر ہر شخص کی ذمہ داری معین فرمادی۔

آنحضرتۖ نے قرآن و اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے تمسک ہی کو وحدت کا تنہا سبب بیان فرمایا ہے۔

یہ کہا جاتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان وحدت اور تقریب مذاہب کا منحصر ترین راستہ پیغمبر ۖ کی وصیت پر عمل پیرا ہونا ہے اور وہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے تمسک ہے جو ہدایت اور ہر طرح کی ضلالت و گمراہی سے بچانے کا ضامن ہے۔

رسول گرامی اسلام ۖنے بارہا لوگوں کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے متمسک رہنے کا حکم فرمایا:

انی تارک فیکم ماان تمسّکتم بہ لن تضلوا بعدی ، احدھما اعظم من الآخر ، کتاب اللہ حبل ممدودمن السماء الی الارض وعترتی اھل بیتی ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض ، فانظرواکیف تخلفونی فیھما،(١)

(١)صحیح ترمذی٥:٣٢٩، درالمنثور٧٦و٣٠٦الصواعق المحرقہ١٤٧و٢٢٦،اسدالغابہ ٢:١٢وتفسیرابن کثیر٤ : ١١٣.

میں تمہارے درمیان دو گرانبہا چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر ان دونوں کا دامن تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہونے پاؤگے ان میں سے ایک دوسری سے عظیم ہے کتاب خدا آسمان سے زمین کی طرف معلق رسی ہے اور میرے اہل بیت. یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھے سے جا ملیں۔

بعض علمائے اہل سنت نے اس روایت کو صحیح شمار کیا ہے۔(١)

(١) ابن کثیر دمشقی کہتا ہے: '' و قد ثبت فی الصحیح ان رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم قال فی خطبتہ بغدیر خم: انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی و انھما لم یفترقا حتیٰ یردا علی الحوض۔

صحیح روایت میں آیا ہے کہ رسول خدا ۖ نے خطبۂ غدیر میں فرمایا: میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور میرے اہل بیت یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملحق ہوں۔تفسیر ابن کثیر٤:١٢٢. اور اسی طرح کہا ہے: ''قال شیخنا ابو عبد اللہ الذہبی: ہذا حدیث صحیح میرے استاد ذہبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ بدایة و نہایة٥: ٢٢٨۔

وہابی عالم ناصر الدین البانی نے بھی حدیث ثقلین کے صحیح ہونے کی وضاحت کی ہے۔ صحیح الجامع الصغیر٢:٢١٧ ٢٤٥٤ اور ١:٢٤٥٧٤٨٢۔

حاکم نیشاپوری کہتے ہیں:''ہٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین و لم یخرجاہ بطولہ''

یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن طولانی ہونے کی وجہ سے اسے ذکر نہیں کیاحاکم مستدرک ٣:٢٩٠۔

نیز ہیثمی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔مجمع الزوائد١:١٧٠۔

ابن حجر مکی شیعوںکے خلاف لکھی جانے والی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

'' روی ھذا الحدیث ثلاثون صحابیاً و انّ کثیراً من طرقہ صحیح و حسن''

یہ حدیث تیس صحابیوں نے نقل کی ہے ان میں اکثر احادیث کی سند صحیح اور حسن ہے۔الصواعق المحرقہ :١٢٢۔

اور بعض روایات میں ثقلین کی جگہ دو جانشین سے تعبیر کیا گیا ہے:

انی تارک فیکم خلیفتین: کتاب اللّٰہ ... و عترتی أہل بیتی، و انھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض.(١)

میں تمہارے درمیان دو جانشین چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک کتاب خدا ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے جا ملیںگے۔

اور بعض روایات میں ذکر ہوا ہے:

فلا تقدموہما فتہلکوا، و لا تقصروا عنہما فتہلکوا، و لا تعلّموہم فانہم اعلم منکم.(٢)

ان پر سبقت مت لیں اور نہ ہی ان سے پیچھے رہیں ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور نہ ہی ان کو سکھانے کی کوشش کریں اس لئے کہ وہ تم سے دانا تر ہیں۔

ج: اہلبیت علیہم السلام حبل اللہ ہیں:

بعض اہل سنت مفسرین جیسے فخر رازی نے یہ حدیث اس آیت مجیدہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا،(٣)و(٤)

(١) مسند احمد٥: ١٨٢ اور ١٨٩ دو صحیح واسطوں سے نقل ہوئی. مجمع الزوائد ٩:١٦٢؛ الجامع الصغیر١:٤٠٢؛ تفسیر در المنثور٢ :٦٠۔

(٢) معجم الکبیر طبرانی ٥:٤٩٧١١٦٦؛ مجمع الزوائد٩:١٦٣؛ تفسیر در المنثور٢:٦٠۔

(٣) آل عمران:١٠٣۔

(٤)فخر رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: '' روی عن ابی سعید الخدری عن النبی ۖ انہ قال: انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اللہ تعالیٰ حبل ممدود من السماء الی الارض و عترتی اھل بیتی(تفسیر فخر رازی ٨:١٧٣)۔

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو کے ذیل میں ذکر کی ہے۔

اسی طرح آلوسی اس آیت مجیدہ کی تفسیر میں یہی حدیث زید بن ثابت سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: '' و ورد بمعنی ذلک اخبار کثیرة''

اس معنی میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔(١)

ثعلبی (متوفی ٤٢٧ ھ) مفسر اہل سنت نے اسی آیت مجیدہ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: نحن حبل اللہ الذی قال اللہ :''واعتصموابحبل اللہ جمیعا ولاتفرقوا''

ہم خدا کی وہ رسی ہیں جس کے بارے میں خداوند متعال نے فرمایا: خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو۔(٢)

حاکم حسکانی (متوفی ٤٧٠ھ تقریباً )اہل سنت عالم دین نے بھی رسول گرامیۖ سے نقل کیا ہے کہ آپۖ نے فرمایا:من احبّ أ ن یرکب سفینة النجاة و یتمسکبالعروة الوثقیٰ ویعتصم بحبل اللّٰہ المتین فلیوال علیّاولیأتمّ بالہداة من ولدہ.(٣)

(١) تفسیر آلوسی ٤:١٨. و اخرج احمد عن زید بن ثابت قال: قال رسول اللہ ۖ : انی تارک فیکم خلیفتین کتاب اللہ عزو جل ممدود مابین السماء و الارض و عترتی اہل بیتی و انہما لن یفترقاحتی یردا علی الحوض و ورد بمعنی ذٰلک اخبار کثیرہ۔

(٢) تفسیر ثعلبی٣:١٦٣، شواہد التنزیل ١:١٧٧١٦٨؛ ینابیع المودة١:٣٥٦ اور ٢:٣٦٨ اور ٣٤٠؛الصواعق المحرقہ: ١٥١، باب ١١ فصل ١۔

(٣)شواہد التنزیل١: ١٧٧١٦٨۔

سجدہ تعظیمی،مسلمان،توحید اور الحاد


دیکھو ! بر صغیر میں کیا ہوا، ہو رہا ہے، ہو گا۔ 
صوفیاء کرام کے ہاتھ پہ لوگ مسلمان ہوئے،خصوصا چشتی صوفیاء کے اور  ان کے ہاتھ پر اب ابھی ہوتے ہیں۔ قادری اور سہروردی سلسلے  آئے انہوں نے بھی کچھ دیگر مذاہب والے مسلمان کئے اور کچھ چشتی مسلمانوں کو قادری و سہروردی بنایا۔سب سے بعد میں نقشبندی سلسلہ آیا اور فقط چشتی،قادری و سہروردی مسلمانوں کو نقشبندیہ مجددیہ بنایا۔ ڈھائی تین سو سال تک نقشبندیوں کا اثر و رسوخ بڑھتا رہا،مگر صرف مسلمانوں میں۔انگریزوں سے ہارنے (ہار جو کہ طے تھی)کے بعد نقشبندیوں نے ایک مدرسہ کھولا۔ یعنی امت محمدیہ ہندیہ کو اب پوری طرح دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ عرصے بعد تیسرا دھڑا اہلحدیث کا بھی وجود میں آگیا‌۔ یعنی مسلمانوں کو تین حصوں میں منقسم کر دیا گیا۔ پھر امام احمد رضا خاں منظر عام پہ آئے اور اہل تصوف امت محمدیہ ہندیہ کو تقسیم کرنے والے پہلے دونوں دھڑوں خصوصاً دیوبندیوں سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک اور دھڑا وجود میں آیا اور چار دھڑے بن گئے۔ شروع میں تینوں دھڑوں کا تصوف اور اہل تصوف سے کچھ کم زیادہ تعلق رہا۔ آہستہ آہستہ اہلحدیث اور دیوبندی تصوف سے دور اور اہل تصوف کو کھاتے رہے اور اب فرداً فرداً چھوڑ کے پوری طرح تصوف و اہل تصوف سے نفرت کرتے ہیں۔ بریلوی بھی بہت سست رفتار سے  ہی سہی اسی طرف جا رہے ہیں اگرچہ قبول نہ کریں کہ ابھی ان میں بڑی بھاری اکثریت تصوف و صوفیاء کرام سے عقیدت و محبت رکھتی ہے۔ 
پھر مودودی آتے اور انہوں نے بھی چشتی،قادری،سہروردی،نقشبندی مسلمانوں کو مسلمان بنایا اور پانچواں دڑھا تشکیل دیا۔ انہوں نے تصوف کو افیم سے تشبیہ دی مگر صوفیاء کرام پہ خاموش رہے۔ اب غامدی اور انجینئر کا دور ہے۔ غامدی مودودی سے دو قدم آگے بڑھ کے کہتے ہیں کہ "تصوف اسلام کے متوازی دین ہے" یعنی آپ ص،حضرت علی کرم۔۔۔حضرت حسن بصری و جنید بغدادی سے ہوتے ہوتے جو دین داتا گنج بخش،عثمان ہارونی،خواجہ اجمیری کے ذریعے بر صغیر پہنچا ،اسلام نہیں تھا۔ نہ اس کو لاکر پھیلانے والے مسلمان تھے اور غامدی سے پہلے و علاوہ جتنے بھی مسلمان ہوئے اور ہیں ،مسلمان ہوئے تھے نہ ہیں۔ انجینئر غامدی سے دو قدم آگے جا رہا ہے۔ یعنی وہ بند الفاظ میں تصوف کو ہی ڈھکوسلا قرار نہیں دے رہا ہے،تمام صوفیاء کرام کو بھی جھوٹے بتا رہا ہے۔ ان دونوں اور معاویائیوں (اہلحدیث و دیوبندیوں کی بڑی تعداد اور بریلویوں کی کم کم) کے ذریعے مسلمانوں میں سے مسلمان بنائے گئے لوگوں کی دس بیس پشت بعد کی اولادوں کا آخری ٹھکانا الحاد ہی نظر آ رہا ہے۔ کہاں سے نکلے ،کہاں ہیں اور کہاں ہوں گے،آشکار ہے۔
خیر،مندرجہ بالا ہر لفظ یہ چھوٹا سا سچ بتانے کے لئے لکھا کہ ،چشتی صوفی آج بھی مریدوں سے سجدہ تعظیمی کرواتے ہیں اور فرض نماز پڑھتے وقت بھی پیر کے بلانے پر نماز پڑھنا چھوڑ کے آنے کا درس دیتے ہیں۔
جسے کم سے کم یہ دونوں باتیں ہضم نہ ہوں توحید کے نام پہ الحاد کے طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

وسیلہ: قرآن اور حدیث کی روشنی میں○سوال: ’وسیلہ‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

وسیلہ: قرآن اور حدیث کی روشنی میں
○سوال: ’وسیلہ‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
●جواب: وسیلہ، وہ واسطہ ہے جس کے ذریعے سے کسی چیز تک پہونچا جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے، اور شریعت کی زبان میں بارگاہ الہی میں قرب حاصل کرنے کے لئے یا حصول مراد کے لئے بوقت دعا کسی مقبول عمل، صالح بزرگ یا با برکت چیز وغیرہ کا واسطہ پیش کرنے کو وسیلہ کہتے ہیں۔

○سوال: کیا وسیلہ جائز ہے؟
●جواب: الحمد للہ! وسیلہ کے جواز پہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت سے دلائل موجود ہیں، ان میں سے کچھ مند رجہ ذیل ہیں۔

دلیل نمبر: ۱۔ ارشاد ربانی ہے۔ "یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ و ابتغو الیه الوسیلة۔ (سورہ مائدہ،آیت:۳۵) "ائے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور (اس کی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے) وسیلہ تلاش کرو۔
اس آیت کر یمہ میں اللہ تعالی نے خود ہی اپنے بندوں کو اپنی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ وسیلہ بلا شبہ جائز ہے۔

دلیل نمبر :۲۔ جب مدینہ طیبہ میں قحط پڑ جاتا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ، حضور نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے ہوئے کہتے’’اللھم انا کنا نتوسل إليك بنبینا فتسقینا و إنا نتوسل إليك بعم نبینا فاسقنا‘‘ "اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی مکرم ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتے تھے تو، تو ہم پر بارش نازل فرماتا تھا ۔ اور اب ہم تیری بارگا میں اپنے نبی (ﷺ) کے چچا جان کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر بارش نازل فرما۔" راوی کہتے ہیں تو پھر ان پر (اس دعا کی بدولت) بارش برسائی جاتی۔ (صحیح بخاری ،کتاب الاستسقاء ،باب سوال الناسِ الامام َ الاستسقاء اذا قحطوا، حدیث :۱۰۱۰
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صحابہء کرام کی جماعت کے ساتھ سرکار علیہ السلام کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے۔ مگر کسی صحابی رسول ﷺ نے اعتراض نہ کیا ۔ گویا وسیلہ کے جواز پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم کا اجماع ہو گیا۔ اس لئے اس کے جواز میں کسی مسلمان کو ذرّہ برابر بھی شبہ نہیں ہونی چاہئے۔

○سوال: اللہ تعالی کی بارگاہ میں نیک عمل اور بزرگان دین، دونوں کو وسیلہ بنانا جائز ہے یا صرف ایک کو؟
●جواب: اللہ تعالی نے بغیر کسی چیز کو خاص کئے ہوئے مطلق ارشاد فرمایا کہ’’ائے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کی بارگاہ تک پہونچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو‘‘ تو اب ہر اس چیز کو وسیلہ بنانا جائز ہوگا جو اس کی بارگاہ میں مقبول و محبوب ہو اور جس کے ذریعے اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہو ۔ چاہے وہ نیک اور مقبول عمل ہو یا نیک اور مقبول ذات۔ چا ہے وہ زندہ ہو یا وفات فرما چکے ہوں۔ ہاں ہمیں اپنے کسی عمل کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں معلوم کہ وہ بارگاہ الہی میں مقبول ہے یا مردود؟ مگر کچھ مقدس ہستیوں کے بارے میں ہمیں صرف معلوم ہی نہیں بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مقبول اور محبوب ہیں جیسے کہ انبیائے کرام، صحابہ کرام اور اولیائے کرام وغیرہ ۔ اس لئے ان کے وسیلے سے دعا کرنے میں قبولیت کی امید زیادہ ہے۔

○سوال: کیا حضور ﷺ نے کسی کو وسیلہ بنا کر دعا کرنے کی تعلیم دی ہے؟
●جواب: جی ہاں! حضور ﷺ نے خود اپنے صحابی کو اپنی ذات اقدس کا وسیلہ بنا کر دعا کرنے کی تعلیم دی ۔ چنانچہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا : میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے عافیت بخشے ۔ تو حضور ﷺ نے کہا : اگر تم چاہو تو میں موخر کردوں اور وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر چاہو تو دعا کر دوں۔ تو انہوں نے کہا : دعا کر دیجئے، تو اس کو حضور ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اس طر ح سے دعا کرے: `ائے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی محمد ﷺ کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد ﷺ ! بےشک میں نے آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف لَو لگائی اپنی اس ضرورت میں تاکہ میری یہ ضرورت پوری ہو جائے، ائے اللہ! تو میری اس ضرورت کو پوری فرما۔`

(ابن ماجہ،رقم الحدیث:۱۳۸۵،ترمذی ،رقم الحدیث: الحدیث:۳۵۷۸)

○سوال: کیا کسی ایسے بزرگ کو جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئے مگر حضور ﷺ نے ان کے آنے کی بشارت دی ہے ۔ جیسے امام مہدی اور ہر سو سال کے بعد ظاہر ہونے والے مجددین وغیرہ کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے؟
●جواب: جی ہاں! ان بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم اور احادیث طیبہ سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے حضور اکرم ﷺ کے وسیلے سے دعا فرمائی ۔ تو اللہ تعالی نے ان کی دعاء قبول فرمائی۔
چنانچہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺنے کہا : "جب حضرت آدم سے خطائے اجتہادی سرزد ہوئی ، تو انہوں نے دعا کی: ائے میرے رب! میں تجھ سے محمد ﷺ کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔ اس پر اللہ رب العزت نے فر مایا: ائے آدم ! تو نے محمد (ﷺ) کو کس طرح پہچان لیا حالانکہ ابھی میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا: مولا! جب تونے اپنے دست قدرت سے مجھے پیدا کیا اور اپنی روح میرے اندر پھونکی میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر `لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ` لکھا ہوا دیکھا ، میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہو سکتا ہے جو تمام مخلوق میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ اس پر اللہ تعالی نے فر مایا: ائے آدم! تو نے سچ کہا: مجھے ساری مخلوق میں سب سے زیادہ وہی محبوب ہیں ۔ اب جبکہ تم نے ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف کر دیا اور اگر محمد (ﷺ) نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہیں کرتا"-
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔( المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب تواریخ المتقدمین من الانبیاء والمرسلین ،باب ومن کتاب آیات رسول اللہ ﷺ التی ھی دلائل النبوۃ ،حدیث:۴۲۲۸)

اسی طرح بنی اسرائیل کے لوگ اپنے دشمنوں کے خلاف حضور ﷺ کی پیدائش سے پہلے حضور علیہ السلام کے وسیلے سے دعا کرتے تھے تو اللہ تعالی انہیں کامیابی عطا فرماتا تھا۔ چنانچہ جب حضور ﷺکے اعلان نبوت کے بعد ان لوگوں نے سرکشی اختیار کی تو اللہ تعالی نے ان لوگوں کے اس رویہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح (کی دعا) مانگتے تھے۔ پھر جب تشریف لایا وہ ان کے پاس جانا پہچانا ہوا (یعنی اس حال میں کہ وہ لوگ اس نبی کی صفات کو خوب جانتے اور پہچانتے تھے) تو ان لوگوں نے انکار کر دیا تو اللہ کی لعنت ہے منکروں پر۔
(سورہ بقرہ،آیت:۸۹)

مذکورہ آیت کریمہ اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی ایسے بزرگ کے وسیلے سے بھی دعا کرنا جائز ہے جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئے۔ در اصل وسیلہ میں خاص نکتہ یہی ہے کہ جس کو ہم وسیلہ بنا رہے ہیں وہ اللہ کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول ہو- چاہے وہ ابھی دنیا میں موجود ہو یا دنیا سے جاچکا ہو یا ابھی آیا ہی نہ ہو۔ان سب کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔اور جو اللہ کی بارگاہ میں مردود ہو، اس کو وسیلہ بنانا ہرگز جائز نہیں چاہے وہ دنیا میں موجود ہو یا جا چکا ہو یا ابھی آیا ہی نہ ہو۔ چنانچہ ہم ایک فاسق و فاجر یا کافر، مشرک کی ذات کو کسی صورت میں وسیلہ نہیں بنا سکتے ۔ چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ ۔ اور اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہستیوں جیسے انبیائے کرام ، صحابہ عظام اور اولیائے کرام وغیرہ کو ہر حال میں وسیلہ بنا سکتے ہیں۔ کیو نکہ وہ ہر حال میں اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیں۔ بہت سارے سادہ لوح قسم کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ۔ اس لئے اس نکتہ کو خوب سمجھ لیں کہ وسیلہ بنانے کے لئے اُس ذات کا زندہ یا موجود ہونا شرط نہیں بلکہ اس کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونا شرط ہے۔

○سوال: کیا بعد وصال بھی حضور ﷺ اور دیگر بزرگانِ دین کے وسیلے سے دعا کرنا جائز ہے؟
●جواب: وصال کر جانے سے آپ ﷺ کی مقبولیت اور محبوبیت ختم نہیں ہوئی بلکہ اب بھی ہی ہے جیسے حیات مبارکہ میں تھی، بلکہ اب تو اور زیادہ بڑھ گئی کہ قرآن حکیم میں آپ ﷺ کے تعلق سے ارشاد ہوا ’’وللاٰخرۃخیر لك من الاولی‘‘ کہ آپ کی ہر آنے والی گھڑی پچھلی گھڑی سے بہتر ہے۔ اس لئے جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کے وسیلے سے دعا کرنا جائز تھا ویسے ہی اب بھی جائز ہے بلکہ قبولیت دعا کا سب سے عظیم ذریعہ ہے۔
چنانچہ امام دارمی اپنی سنن میں اوس بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کر تے ہیں کہ: ایک مرتبہ مد ینہ شر یف کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنے حالات کی شکایت کی، تو آپ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : حضور نبی اکرم ﷺ کی قبر انور کے پاس جائو اور اس کی ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھول دو کہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ : انہوں نے ایسا ہی کیا، تو خوب بارش ہوئی۔ اور اُس سال خوب سبزہ اُگا جس کی وجہ سے اونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ محسوس ہوتا کہ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے ۔ اس لئے اُس سال کا نام ہی’’عام الفتق‘ پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔

(سنن دارمی،باب ما اکرم اللہ تعالیٰ نبیہ ﷺ بعد موتہ، حدیث:۹۲)

اب آپ خود ہی سوچیں کہ مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدھے اللہ پاک سے کیوں نہ دعا کی؟ پھر اس وقت صحابہ کرام اور جلیل القدر تابعین بھی تو زندہ تھے۔ انہوں نے شرک کا فتوی کیوں نہ لگایا؟کیا آج کے اہل حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بڑھ کے توحید پرست ہیں؟اگر اِن سوالوں میں سے ہر ایک کا جواب ’’ نہیں ‘‘ ہے تو بلاشبہ جس طرح باحیات بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے ۔اسی طرح وفات یافتہ بزرگوں کے وسیلہ سے بھی دعا کرنا جائز ہے۔

○سوال : کیا وسیلہ کے جائز ہونے کا فتوی علمائے کرام نے بھی دیا ہے؟
●جواب: وسیلہ، کے جواز اور اس کے استحسان پر تمام علمائے اہل سنت و جماعت متفق ہیں ۔چنانچہ ائمہ اربعہ، امام طبرانی، امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، امام فخر الدین رازی، امام قرطبی، علامہ ابن حجر عسقلانی، امام احمد بن محمد شہاب الدین قسطلانی، ملا علی قاری ، علامہ جلال الدین سیوطی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے علاوہ بے شمار علمائے امت علیھم الرحمۃ و الرضوان نے اس کے جواز کا فتوی صادر فرمایا ۔ ہم یہاں پر بنظر اختصار صرف امام ابو زکریا محی الدین بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اکتفا کر تے ہیں ۔
• امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ’کتاب الاذکار‘ کے باب ’الاذکار فی الاستسقائ‘ میں کسی بزرگ کے وسیلے سے دعا کرنے کے جواز پر اس طرح سے اظہار خیال فرماتے ہیں۔’’جب تم میں کوئی ایسا آدمی ہو جس کا زہد و تقوی مشہور ہو تو اس کی ذات کے وسیلے سے بارش طلب کیا کرو ، اور یوں دعا مانگا کرو ’’ائے اللہ! ہم تیرے فلاں بندے کے وسیلے سے بارش اور شفاعت طلب کرتے ہیں ۔ جس طرح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے بارش طلب فرمائی۔"

(کتاب الاذکار ،صفحہ ۱۴۰)

● حرف آخر

بحمدہ تعالی! مذکورہ بالا تحریر میں وسیلہ کے جواز پر قرآن کریم ، احادیث مبارکہ، معمولات صحابہ اور اقوال ائمہ سے، بہت سارے دلائل فراہم کئے گئے ہیں جو متلاشیان حق کے لئے کافی سے زائد ہیں۔ مگر اس کے باوجود کوئی انکار کرے ، اسے شرک و بدعت اور ناجائز و حرام کہے اور مسلمانوں کے درمیان بلا وجہ لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا کرے اور اپنی مخصوص ذہنیت لوگوں پر مسلط کرنا چاہے تو دنیا میں اس کا کوئی علاج نہیں ۔ ہاں! البتہ جب میدان محشر بپا ہوگا اور لوگ اس دن کے سخت مصائب و آلام سے گھبرا کر انبیائے کرام کو پریشانیوں سے نجات پانے کے لئے وسیلہ بنائیں گے اور ان کی بارگاہوں میں جا کر ان سے فریاد کریں گے ۔ سب دوسرے کے پاس جانے کا مشورہ دیں گے اور آخر میں حضور رحمۃ للعا لمین ﷺ ’’اَنَا لَهَا‘‘ کا مژدہ سنائیں گے، تب جا کے لوگوں کو سکون نصیب ہو گا۔ تو یقینا اس دن سب مان جائیں گے کہ: ہاں ہم بغیر وسیلہء مصطفی ﷺ کے بارگاہ خداوندی میں نہیں پہونچ سکتے۔-منقول

ہدیبیہ سے قبل و بعدوالوں سے بھلائی کا وعدہ !

۱۰۔اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے، حالاں کہ سب آسمان اور زمین آخر میں اللہ ہی کارہ جائے گا۔تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ کریں اور لڑیں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنھوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑے،اوراللہ نے سب سے بھلائی کاوعدہ کیا ہے،اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔الحدید10,57
وَ مَا  لَکُمۡ   اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ  مِنۡکُمۡ مَّنۡ  اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ  اَعۡظَمُ  دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ  بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ  الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ  بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾        

سورہ آل عمران 3, آیت مباہلہ 61

سورہ آل عمران 3, آیت مباہلہ 61
پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آ چکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں ، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں

حضرت سلمان،حضرت صہیب،حضرت بلال رض ابو سفیان کو مسلمان نہیں مانتے تھے- مسلم،6421

حضرت سلمان،حضرت صہیب،حضرت بلال رض
  ابو سفیان کو مسلمان نہیں مانتے تھے- مسلم،6421
معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں ۔ کہا : اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے ، اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے ۔‘‘
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا : میرے بھائیو ! کیا میں نے تم کو ناراض کر دیا ؟ انھوں نے کہا : نہیں بھائی ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ۔ 

آپ ص نے کن تین پہ لعنت کی؟

آپ ص نے کن تین  پہ لعنت کی؟
‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نےتین لوگوں کو دیکھا ایک اونٹ پہ سوار تھا دوسرا آگے سے کھینچ رہا تھا اور تیسرا ہانک رہا تھا تو تینوں پہ لعنت کی دو بھائی ایک باپ تھا۔
منبع الفوائد جز۱ ص113
الطبري جزء ۸ ص185
ایک معاویہ تھا دوسرا اس کا بھائی تیسرا ابوسفیان

امام أحمد بن يحيى، البلاذري (المتوفى 279)نے کہا:
حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن جمهان عن سفينة مولى أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى عليه وسلم: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق

سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اونٹ پر ابوسفیان کا گذر ہوا از کے ساتھ معاویہ اوراس کا ایک بھائی تھا۔ان میں سے ایک اونٹ کو چلا رہا تھا اور دوسرا ہانک رہا تھا۔تواللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہو سواری اور سوار پر نیز چلانے والے اور ہانکنے والے پر۔

[أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 5/ 136 رجالہ ثقات ومتنہ منکر و اخرجہ البزار فی مسندہ (9/ 286) من طریق سعیدبن جمھان بہ نحوہ ، وقال الھیثمی فی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (1/ 113) : رواه البزار، ورجاله ثقات ]

حقیقی"امیرالمومنین" مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم

حقیقی"امیرالمومنین" مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
فضیلت امیر المومنین مولا علی علیہ السلام
حضرت حذیفہ یمانی رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کے علی (علیہ السلام) کو امیر المومنین کا منصب کب عطا گیا تو ہرگز علی (علیہ السلام) کی فضیلت کا انکار نہ کرتے.
*علی (علیہ السلام) کو اس وقت امیر المومنین کا منصب عطا کیا گیا جب آدم (علیہ السلام) روح اورجسم کے درمیاں تھے۔
اس وقت اللہ تعالیٰ نے ارواح کو مخاطب کرکے فرمایا:
میں تمہارا خدا ہوں اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے نبی اور علی (علیہ السلام) تمہارے امیر ہیں۔
حوالہ: مسند الفردوس، جلد: 2، صفحہ: 197،حدیث: 5104، باب: اللام، مصنف: امام دیلمی۔

8 (نام نہاد)صحابہ جو لشکر یزید میں تھے : امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شامل

 8 (نام نہاد)صحابہ جو لشکر یزید میں تھے :
امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شامل ۔
ایسے ہے چند مصداق سورہ المنافقون جو کربلاء میں لشکر یزید میں تھے - سبط رسول (ص) کے قتل میں ملوث (ان میں سے 8 صحابہ کے نام  معتبر حوالہ جات کے ساتھ - ملاحظہ فرمائی !
انصاف ہر صاحب انصاف سے انصاف کا طالب !
1 . كثير بن شهاب الحارثي :
اس کے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔
قال أبو نعيم الأصبهاني المتوفی : 430 -
كثير بن شهاب البجلي رأى النبي (ص)
کثیر بن شہاب نے آپ (ص) کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
تاریخ  أصبہان جلد 2 صفحہ 136 دار النشر : دار الكتب العلمية ۔
بيروت 1410 هـ 1990م الطبعة : الأولى تحقيق :
2 . حجار بن أبجر العجلي :
ابن حجر عسقلانی رح نے اسے صحابی کہا ہے ۔۔۔۔۔۔
اور بلاذری نے اس کا خط جو اس نے امام حسین (ع) کو لکھا، نقل کیا ہے ۔
حجار بن أبجر بن جابر العجلي له إدراك .
اس نے آپ (ع) کے زمانے کو درک کیا ہے ۔
الإصابة في تمييز الصحابة جلد 2 صفحہ 167 رقم 1957 دار النشر : دار الجيل بيروت : قالوا : وكتب إليه أشراف أهل الكوفة ... وحجار بن أبجر العجلي... :  امام حسین (ع) کو جن اہل کوفہ نے خط لکھے، ان میں ایک حجار ابن ابجر تھا۔ (أنساب الأشراف جلد1 صفحہ 411)
وہ ایک ہزار سپاہ کے لشکر کی سالاری کرتا ہوا کربلاء پہنچا ۔

3. عبد الله بن حصن الأزدی :
اسکے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔
قال ابن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي المتوفي : 852 : عبد الله بن حصن بن سهل ذكره الطبراني في الصحابة ۔ طبرانی نے اسے صحابہ میں ذکر کیا ہے ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة جلد 4 صفحہ61 رقم 4630 دار النشر : دار الجيل بيروت)
کربلاء میں اس کا امام حسین (ع) کی توہین کرنا ۔۔۔۔۔
وناداه عبد الله بن حصن الأزدي : يا حسين ألا تنظر إلى الماء كأنه كبد السماء، والله لا تذوق منه قطرة حتى تموت عطشاً : عبد اللہ ازدی نے کہا ۔ اے حسین (ع) کیا تم پانی کی طرف نہیں دیکھ رہے ۔۔لیکن خدا کی قسم اس میں سے ایک قطرہ بھی تمہں نہیں ملے گا - حتی کہ تم پیاسے ہی مرو گے !(نعوذباللہ) (أنساب الأشراف جلد1 صفحہ 417)
4. عبدالرحمن بن أبي سبرة الجعفی :
کے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔
قال ابن عبد البر المتوفي 463 : عبد الرحمن بن أبى سبرة الجعفى واسم أبى سبرة زيد بن مالك معدود فى الكوفيين وكان اسمه عزيرا فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن ...
اسکا نام عزیز تھا۔ رسول اللہ (ص) نے بدل کر عبد الرحمن رکھا ۔
الاستيعاب جلد 2 صفحہ 834 رقم 1419 نشر دار الجيل بيروت ۔
اسکا قبیلہ اسد کی سربراہی کرنا اور امام حسین (ع) کے قتل میں شامل ہونا۔
5. عزرة بن قيس الأحمسی :
اسکے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔
قال ابن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي المتوفي : 852 : عزرة بن قيس بن غزية الأحمسي البجلي ... وذكره بن سعد في الطبقة الأولى۔
اس کو ابن سعد نے پہلے طبقے میں ذکر کیا ہے ( یعنی صحابی )۔
الإصابة في تمييز الصحابة جلد 5 صفہہ 125 رقم 6431 نشر دار الجيل بيروت - : اس نے امام حسين (ع) کو خط لکھا تھا :
قالو ا : وكتب إليه أشراف أهل الكوفة ... وعزرة بن قيس الأحمسی ۔
(أنساب الأشراف جلد 1 صفحہ 411) ۔۔۔۔۔
گھڑ سواروں کا سالار :
وجعل عمر بن سعد ... وعلى الخيل عزرة بن قيس الأحمسی ۔

6 - عبـد الرحمن بن أَبْـزى :
له صحبة وقال أبو حاتم أدرك النبي صلى الله عليه وسلم وصلى خلفه ۔ یہ صحابی ہے ۔ ابو حاتم نے کہا ہے کہ اس نے آپ (ص) کے پیچھے نماز پڑھی ۔
الإصابة - ابن حجر - جلد 4 صفحہ 239 -
قال المزّي: «سكن الكوفة واستُعمل عليها»، وكان ممّن حضر قتال الإمام عليه السلام بكربلاء ۔ : مزّی کہتا ہے ۔ کہ وہ کوفے میں رہتا تھا ۔ امام حسین (ع) سے جنگ کرنے کے لئے کربلاء میں تھا۔
تہذيب الكمال 11 / 90 رقم 3731 -
7 - عمرو بن حريث :
يكنى أبا سعيد رأى النبي صلى الله عليه وسلم ۔
اس نے  آپ(ص) کو دیکھا تھا ۔
أسد الغابة - ابن الأثير - جلد 4 صحہ 97 -
سپہ سالاروں میں سے تھا :
ومن القادة : «عمرو بن حريث وهو الذي عقد له ابن زياد رايةً في الكوفة وأمّره على الناس : ابن زیاد نے اسے کوفہ میں علم جنگ دیا - اور لوگوں پر امیر بنایا  ۔ (بحار الأنوار 44 / 352)
وبقي على ولائه لبني أُميّة حتّى كان خليفة ابن زياد على الكوفة.
بنو امیّہ کیلیئے والی رہا یہاں تک کہ ابن زیاد کوفہ کا خلیفہ تھا ۔
(أنساب الأشراف 6 / 376)
8 - أسماء بن خارجة الفزاری :
اس کے صحابی ہونے کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وقد ذكروا أباه وعمه الحر في الصحابة وهو على شرط بن عبد البر۔
اسکو صحابہ میں شمار کیا گیا ہے ۔ : الإصابة في تمييز الصحابة جلد 1 صفحہ 195 دار النشر دار الجيل بيروت -
امام حسين (ع) کو قتل کرنے میں اس کا شامل ہونا :
دعا ابن زياد ... وأسماء بن خارجة ۔۔۔۔۔۔۔
و سیعلمو الزین ظلمو ای منقلبون ینقلبون ۔۔۔۔۔۔۔منقول

بشارت آپ ص: اللہ محب حسین(ع) سے محبت کرتا ہے !

فرمان نبی ص: ”حسین(ع) مجھ سے،میں حسین(ع) سے ہوں۔ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین(ع) سے محبت کرتا ہے، حسین(ع) قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں“ -ترمزی،3775

میں علم وحکمت کا شہر،علی دروازہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی(حسن) روایت:
’’أنا مدینة العلم وعلي بابها‘‘ ، ’’أنا دار الحکمة وعلي بابها‘‘
میں علم/ حکمت کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔

مولا علی کرم۔۔۔کے چہرے کو دیکھنا عبادتمولا علی کرم کا ذکر بھی عبادت

 ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھا کرتے ۔ میں نے آپ سے پوچھا، ابا جان ! کیا وجہ ہے کہ آپ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو تکتے رہتے ہیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اے میری بیٹی ! میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو تکنا بھی عبادت ہے ۔ (ابن عساکر في تاريخه، 42 / 355)(الزمخشري في مختصر کتاب الموافقة : 14)

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  روایت کرتی ہیں : کان ابوبکر يکثر النظر الي وجه علي فساله عائشة فقال سمعت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم النظر الي وجه علي عبادة ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑی کثرت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھتے رہتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ حضرت علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے ۔(الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر 177)

عن عبد الله عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال النظر الي وجه علي عبادة ۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔ (المستدرک للحاکم، 3 : 141 - 142)(المعجم الکبير للطبراني، 10 : 77، ح، 32895،چشتی)(فردوس الاخبار للديلمي، 5 : 42، ح : 1717)(کنز العمال، 11 : 60، ح : 32895)(مجمع الزوائد، 9 : 111، 119)

حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے ۔ (ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 42 / 353)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت معاذ بن جبل سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے ۔ (أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 42 / 353)

حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے ۔ (ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 42 / 353،)

حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔ (ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 42 / 351)

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  روایت کرتی ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کا ذکر بھی عبادت ہے ۔ (الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 244، الحديث رقم : 1351)

حضرت طلیق بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے ۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔ (الطبراني في المعجم الکبير، 18 / 109، الحديث رقم : 207، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 109)

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔ (الحاکم في المستدرک، 3 / 52، الحديث رقم : 4681، و الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 294، الحديث رقم : 6866)

حضرت عبد ﷲ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے ۔ (الحاکم في المستدرک، 3 / 152، الحديث رقم : 4682)(الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 76، الحديث رقم : 10006)(الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 119،قال الهيثمي وثقه ابن حبان و قال مستقيم الحديث)(الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 294،الحديث رقم 6865) (أبونعيم في حلية الأولياء، 5 / 58)۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مجھے اپنی امت كے بارے میں سب سے زیادہ خوف گمراہ كرنے والے ائمہ كا ہے۔ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ .السلسلۃ الصحیح 1723

معاویہ وغیرہ فاسق ہو گیے تھے: الحدیث عالم علامہ وحید الزماںhttps://www.facebook.com/100055966955578/posts/pfbid02PmUgimm2SDjDQfmy1Ho74PLDM1srMGSNnuU6YqzHc1RAnZRQvNrM26gui9DJrSwrl/

ادیان نو بنو کا مسلمانوں کے دلوں سے عشق رسول ص مٹانے کا قدیم طریقہ

واقعہ کافی طویل  ہے۔ بہت ممکن ہے روداد کبھی نظر سے گزری ہو۔ یاد دہانی کے لئے لب لباب عرض ہے۔ شاہی دور تھا۔ مو مبارک ص کا جلوس نکلنے کے دن و تاریخ کا اعلان کیا گیا۔ جلوس جہاں جہاں سے گزرنا تھا،اعلان کے دن سے مسلمانوں نے گھروں اور محلوں کی خصوصی صاف صفائی کی۔ جلوس کے استقبال اور مو مبارک ص کی زیارت کے لئے خوب تیاریاں کیں‌۔بروز جلوس بچوں سمیت غصل کیا، نئے نئے صاف ستھرے لباس زیب تن کئے،خوشبوئیں لگائیں۔ ایسی ہی تیاریاں لعل قلعے میں بھی کی گئیں۔ جلوس قلعے کے سامنے آنے سے کئی گھنٹے قبل شہزادیوں کی خواص نے قلعے کی برجیوں میں بہتر سے بہتر جگہیں گھیر لیں۔جلوس کا وقت قریب آیا، شہزادیاں بھی پہنچ گئیں۔ چند منٹ بعد مولوی اسماعیل دہلوی(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے پوتے) وہاں تشریف لائے۔ خواتین سمٹ کے رہ گئیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ جس بال (مو مبارک ص)کی زیارت کے لئے انتظار کر رہی ہو،حدیث و آثار میں اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ آپ ص کا ہی ہے۔ ایک شہزادی نے  اپنی خواص سے کہلوایا کہ ہم تو بزرگوں سے یہی سنتے آئے ہیں کہ یہ مو مبارک ص آپ ص کا ہی ہے۔ باقی آپ کہتے ہیں تو سچ ہی کہتے ہوں گے۔ اور وہ اپنی خواص کے ساتھ اٹھ کر چلی گئی۔ باقی بیٹھی رہیں۔

نتیجہ : مولوی صاحب نے چند سیکنڈ میں شہزادی کے دل و دماغ سے آپ ص کی محبت فاختہ کی طرح اڑا دی۔دس پندرہ دن کی تیاریوں اور زیارت مو مبارک ص کاجوش و خروش اور خوشی و عقیدت بھی۔۔۔۔۔

تب سے اب تک تمام ادیان نو بنو کے مولوی اور ان کے پیروکار اس طریقے کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان سے چار قدم آگے غیر مقلد نکلے، انہوں نے آپ ص کو بڑے بھائی کی طرح ماننا شروع کر دیا۔۔۔۔

ان مولویوں کو سجا سجایا دستر خوان مل گیا ہے۔ سب مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے کھینچ تان کر کے دسترخوان پھاڑ رہے ہیں اور باور کرا رہے ہیں کہ ہم اسلام پہ کر رہے ہیں۔ جیسے بر صغیر میں ایک ہزار سال سے اسلام پہ عمل ہی نہیں ہوا نہ کوئی مسلمان۔

ایک صحابی رض تھے۔ شراب پیتے تھے۔ کئی مرتبہ منع کیا گیا مگر طلب سے مجبور تھے۔ ایک روز حضور ص کی مجلس سے جا رہےتھے۔ چند صحابہ کرام رض نے پکڑ لیا اور لگے پرا بھلا کہنے۔ کسی نے آپ ص کو خبر کی۔ آپ ص تیزی سے تشریف لائے اور فرمایا ،چھوڑ دو اسے،یہ اللہ و رسول (ص) سے محبت کرتا ہے___

قرآن حدیث پہ عمل کے لئے دوسرا کامنٹ ملاحظہ فرمائیں_المہر خاں

ہاشمی صاحب کا بیان

ہاشمی صاحب کا بیان ، اس کو جاننے سمجھنے کے لئے گھر میں کم از کم ایک عدد صوفی (مولوی صوفی یا صوفی مولوی نہیں۔ ہاں صوفی مولوی ،مولوی صوفی سے ذرا مرا سا بہتر ہو سکتا ہے،خالص مولوی تو ہرگز نہیں) ہو یا کسی خانقاہ میں خود کو کسی بزرگ کے سپرد کرنا لازم ہے۔ یا پھر یہ کہ اجداد اسی طرح کرتے آئے ہیں پہ قائم رہے؛ عوام کے لئے یہ سب سے محفوظ راستہ ہے۔ ورنہ بیشتر خود تحقیق و تلاش کرنے والے خصوصا مولویانہ ادب کے ذریعے ، پرانی راہ چھوڑ دیتے ہیں،نئی تلاش کر نہیں پاتے اور عمر بھر بھٹکتے بھٹکاتے پھرتے ہیں۔خود سر و متکبر بن جاتے ہیں سو الک۔

یاد رکھنا چاہئے کہ تصوف تب سے ہے جب قرآن بھی تیس پاروں کی صورت میں مرتب ہوا تھا نہ کوئی اور کتاب تھی۔
اہل تصوف کے یہاں محدثین اور ان کے روات کی وہی راویتیں معتبر مانی جاتی ہیں جو آپ ص سے بواسطہ مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم سینۂ بسینہ پہنچی روایتوں سے  مطابقت رکھتی ہوں۔ محدثین کی روایتوں کے مقابلے حضرات حسنین کریمین، حضرت امام زین العابدین و دیگر ائمہ اہلبیت علیہ السلام ،حضرت حسن بصری،حضرت جنید بغدادی،حضرت بایزید بسطامی،حضرت غوث عظم رح وغیرہ وغیرہ اور آگے اسی طرح کے بزرگان دین کے فرمودات و ارشادات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ وجہ ؟ موٹی موٹی دو ہیں۔ ایک کتب احادیث کا دو تین سو سال اور اس کےبعد تالیف ہونا اور اس سے بھی اہم یہ کہ ایک ایک محدث نے زندگی صرف کر کے پانچ پانچ سات سات لاکھ احادیث ازبر و جمع کیں اور لکھیں صرف پانچ سات دس ہزار۔ باقی !!!؟

۔
____________________

https://www.facebook.com/100063796866548/posts/513383904131501/

اس لنک کو اوپن کرئے‌۔ یہ ایک ہندو لڑکے کا فیسبک پیج ہے۔ اس کے بینر پہ لکھا ہے: Allah Walo ka page. . اللہ والے یعنی بزرگان دین یعنی صوفی یعنی مزاروں میں مدفون بزرگ یعنی خانقاہوں کے مکیں۔ لائکس بھی چیک کیجئے گا ! چالیس میں سے دس ہندو ہیں‌۔
یہ اس لڑکے کو اللہ والوں کے وسیلے سے خدا کی دین ہے۔مولویوں کی روش کے مطابق دس مولوی مل کے بھی، دس سال میں بھی دس غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔ اور اس ہندو لڑکے کو دو چار سال ہی اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے ہوں گے!!!!!!!!!!!!!!!!
اس کی ہندی صحیح ہے نہ اردو क़ुबूल قبول Qubool کو कुबुल کبل Kubul لکھا اور دعا کو مونث و مذکر دونوں ! مگر اخلاص ۔

آیات،الحدید

الحدید،7 ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اورخرچ کرو اس چیز میں سے جس میں اس نے تم کو امین بنایا ہے، پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں اور خرچ کریں ان کے لیے بڑا اجر ہے۔
الحدید،8_۸۔اورتم کو کیا ہوا کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔حالاں کہ رسول تم کو بلا رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اوروہ تم سے عہد لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو۔

الحدید،9_۹۔وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں  اُتارتا  ہے تاکہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے ، اور اللہ تمھارے اوپر نرمی کرنے والا ہے، مہربان ہے۔

الحدید،10-۱۰۔اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے، حالاں کہ سب آسمان اور زمین آخر میں اللہ ہی کارہ جائے گا۔تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ کریں اور لڑیں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنھوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑے،اوراللہ نے سب سے بھلائی کاوعدہ کیا ہے،اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

Surat-9, Ayat-100
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے ،

معاہدہ حدیبیہ

معاہدہ حدیبیہ
”ابتدا اللہ کے نام سے۔ امن کی یہ شرائط محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور سہیل بن عمرو سفیرِ مکہ کے درمیان میں طے ہوئیں۔ دس سال تک کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ کوئی بھی (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ اسی طرح کوئی بھی قریش (مشرکینِ مکہ) کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ کوئی بھی جوان آدمی یا ایسا شخص جس کا باپ زندہ ہو (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف اپنے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر جائے تو اسے اپنے والد یا سرپرست کو واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر کوئی بھی قریش کی طرف جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ اس سال (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے۔ مگر اگلے سال وہ اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں، تین دن گزار سکتے ہیں اور طواف کر سکتے ہیں۔ ان تین دنوں میں قریشِ مکہ ارد گرد کی پہاڑیوں سے ہٹ جائیں گے۔ جب (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں گے تو غیر مسلح ہوں گے سوائے ان سادہ تلواروں کے جو عرب ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں“۔

ادیان نو بنو کے نام نہاد مسلمانوں نے نا مسلموں کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا

ادیان نو بنو کے نام نہاد مسلمانوں نے غیر مسلموں کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا۔قانون قدرت: جو رحم نہیں کرتا، اس پہ رحم نہیں کیا جاتا۔ جو عدل نہیں کرتا, اس سے عدل نہیں کیا جاتا۔ یہ اور ایسے ہی دیگر حقوق العباد کے فرائض کسی قوم کے 95% افراد کو ہر جگہ ہر وقت ادا کرنے ہوتے ہیں۔50-60% بھی ادا کریں تب بھی کسی قوم کی رحم دل اور عادل ہونے کی شبیہ نہیں بنتی۔ ہمارے یہاں بمشکل  00.01% لوگ ہی عادل ہوتے ہوں گے۔ یا پھر جانبداری کا نام عدل رکھ لیا ہے۔ یہ سب مزید بڑھتا جائے گا۔
  فرض کریں 2024 میں بی جی پی نہیں بھی آتی ، تب بھی کچھ فرق نہیں پڑے گا ۔ کیونکہ تبدیلی کی ضرورت ہمارے اپنے اندر ہے۔عدل عدل عدل۔ صرف ایک راستہ ہے،خانقاہی نظام کو بحال کرنا۔ مولوی اور ان کے مدرسے تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکے، نہ دے سکیں گے۔ انہوں نے اسلام کو سلامتی کا دین ہی نہیں رہنے دیا،بد امنی،بد تمیزی،بد چلنی، جھوٹ،دھوکے بازی، مکاری،عیاری،تکبر،انا پرستی،میں ماری،جانبداری،بے ایمانی،ناانصافی کا دین بنا دیا ہے۔
مسلمانوں کے دکھاوے کے کاموں کے باوجود دنیا یہی تاثر لے کے شام کو گھر جاتی ہے۔اب دکھنے والے نیک  اعمال اور لباس اسی لئے ناقابل اعتبار ہو گئے ہیں۔فی الوقت مسلمانوں کی یہ کرامات تجربے،مشاہدے اور سننے میں آتی ہیں کہ " ارے واہ ! میں نے اسے بے وقوف بنا دیا"۔ یہ ایک مولوی کا قول ہے جو ایک شناسا مولوی نے بتایا۔ بتانے والے مولوی صلاح مشورے اور دعا کے لئے آئے سیدھے سادھے عقیدت سے بھرے مسلمانوں کو شروع میں اچھا سامان رکھنے،اچھا کھانا پکانے اور سال چھ ماہ بعد ہوٹل یا دکان چل جائے، گھٹیا سامان رکھنے،کھانے کی کوالٹی گھٹانے کی نیک اور فائدہ مند صلاح دیتے دیکھے گئے ۔ کم بیش 18 سال ممبئی میں ہو گئے آج تک کسی مولوی کو حرام اور چھوٹ بولنے سے بچنے کی تلقین کرتے نہیں سنا۔ سب اس کے برعکس تعلیم فرماتے ہیں۔ کوئی صاف صاف کوئی اشارے کنایوں میں۔ہاں ،وہ خود بھی ان معاملوں میں نفاق بالکل نہیں کرتے۔ ایک دن ایک اور نصف مولوی اور پکے نماڑی دیندار سڑک پہ پانچ سات مسلمانوں کو تبلیغ کر رہے تھے " جب تماہرے پاس جیبیں بھر بھر کے نوٹ آتے تھے ,تب تو بچا کے نہیں رکھے! اب کام دھندے کا رونا رونے لگتے ہو۔" ان کا مطلب تھا کہ جب بھی میں تمہیں دین کی دعوت کے لئے کہتا ہوں،تم عذر پیش کر دیتے ہو کہ کام دھندہ نہیں ہے۔چلتے چلتے بات کان میں پڑی تھی اور معلوم بھی نہیں تھا کے مبلغ صاحب کے اطراف کھڑے لوگ ایسا کیا کرتے تھے کہ جیبیں بھر بھر کے نوٹ آتے تھے۔ کافی دنوں تک بیچنی رہی سو کسی سے معلوم کرنے کا فیصلہ کیا کہ آخر پانچ دس سال قبل لوگ کیا کرتے تھے۔معلوم ہوا کہ قریب ہی واقع بہت  بڑے بڑے سرکاری ٹینکوں سے ڈیزل اور پیٹرول چوری کر کے فروخت کیا کرتے تھے_المہر خاں

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟ --------------- کریم آقاﷺ کا فرمان فمر به النبي صلى...