جمعرات، 1 جنوری، 2026

میرے بعض صحابہ مجھے پھر نہ دیکھیں گے اور حوض کوثر سے نکال دیئے جائی گے ،حدیث

میرے بعض صحابہ مجھے پھر نہ دیکھیں گے اور حوض کوثر سے نکال دیئے جائیں گے (حدیث)

اہل حدیث عالم علامہ نواب وقار ( علامہ عبد الرحمن مبارکپوری کے شاگرد) فرماتے ہیں یہ حدیث کہ میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں تم ان میں سے جس کسی کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے اور گمراہ نہ ہو گے
منکر ہے، بلکہ بعضوں نے اس کو موضوعات میں شریک کیا ہے اور اس کا مطلب بھی صحیح نہیں ہوسکتا، یہ بھی ایک دلیل ہے اس کے موضوع ہونے کی ، کیونکہ بعض صحابہ نے ایسے برے کام کئے ہیں جو شرعا وعقلا ہر طرح مذموم ہیں ۔
مثلا معاویہ کا بغاوت کرنا ،امام برحق ( جناب امیر ) سے لڑنا ، ناحق خون کرنا ، زیاد کو زبردستی اپنا بھائی بنالینا ،عمرو بن عاص کا محمد بن ابی بکر کو مردہ گدھے کی کھال میں ڈلوا کر جلا دینا ،مغیرہ بن شعبہ کا یزید کی خلافت جمانا، تو ہر صحابی کی پیروی کیوں کر ہدایت ہوسکتی ہے ( انواراللغۃ )
دوسرے مقام پر محدث ممدوح الشان تحریر فرماتے ہیں :
لطف یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں بعضے بے وقوف کم علم یہ خیال کرتے ہیں کہ آ نحضرت کے صحابی ہونے کے بعد پھر کیسے ہی کام کریں وہ واجب التعظیم ہیں ۔ حالاں کہ یہ بڑا شیطانی مغالطہ ہے، خود آنحضرت نے فرمادیا کہ میرے بعض صحابہ مجھ کو مرنے کے بعد پھر نہ دیکھیں گے اور حوض کوثر سے نکال دیئے جائیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے آنحضرت کی وفات کے بعد پیٹ سے نئے نئے گن نکالے، آپ کے اہلبیت کو ستایا، مسلمانوں کو ناحق قتل کیا ، دنیا کی طمع میں دین کی کچھ پرواہ نہ کی، ان لوگوں کی سمجھ پر ہزار نفرین ہے

اس سے کچھ قبل محدث طاب ثراہ تحریر فرماتے ہیں جیسے اس وقت شاہان روم و ایران ہیں اسی طرح معاویہ بھی ایک بادشاہ جو زور اور زبردستی سے حاکم بن گئے تھے، جو شخص بلا صلاح و مشورہ ڈھینگا مشتی سے حاکم بن جائے اور اسکے حاکم بن جانے کے بعد لوگ ڈر کے مارے اس سے بیعت کر لیں ، تو ایسی خلافت ہرگز صحیح نہیں اور یزید پلید اسی قسم سے حاکم بن گیا تھا، یزید کا منہ د نیا و آخرت دونوں میں کالا ہوا ، اسی طرح اس کے طرفداروں کا منہ بھی کالا ہوا۔

محدث شہیر جلیل علامہ نواب وقارنواز جنگ طاب ثراہ مزید تحریر فرماتے ہیں: جن لوگوں نے معاویہ اور عمرو بن عاص کی صحابیت کی وجہ سے انہیں واجب التعظیم اور واجب المدح سمجھا ہے انہوں نے غلطی کی ہے نفس صحابیت سے بدون ادا سے حقوق صحبت کچھ نہیں ہوتا ، جیسے بی بی سلمہ نے آنحضرت سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بعض میرے اصحاب ایسے ہیں جو دنیا سے جانے کے بعد پھر مجھ کو نہ دیکھیں گے، یہ حدیث سن کر حضرت عمر گو ڈر ہوا اور بی بی صاحبہ سے پوچھا کہ میں تو ان اصحاب میں نہیں ہوں ،
اب جو آیتیں یا حدیثیں صحابہ کی فضیلت میں وارد ہیں ان سے مراد وہی صحابہ ہیں جنہوں نے آنحضرت کے حقوق صحبت کو ادا کیا ، آپ کے اقرباء اور اہلبیت سے محبت رکھی ، اور ان کی حمایت وامداد کی ، برخلاف معاویہ کے وہ تو مرتے دم تک اہلبیت علیہم السلام کے دشمن اور مخالف رہے، اور حضرت علی کو گالیاں دینے کے لئے تمام خطیبوں کو حکم دیا، اور اپنی آخری عمر میں مکر وفریب اور پولیٹکل چالوں سے یزید کو ولی عہد بنایا جو ان کے پاخانے کا لوٹا اٹھانے کی قابلیت بھی نہ رکھتا تھا اور اوپر گزر چکا کہ حضرت علی نے معاویہ کو شیطان کا نمائندہ فرمایا ،اورحق بھی یہی ہے کہ جو کوئی بھی معاویہ کے اعمال و افعال میں غور کرے اسے آفتاب کی طرح روشن ہو جاۓ کہ معاویہ کی نیت محض دنیا طلبی اور تحصیل حکومت و سلطنت تھی ، اور قاتلین عثمان سے ان کو قصاص لینا مقصود تھا تو جب امام حسن خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے اور معاویہ کی حکومت جم گئ تھی ، اس وقت ان قاتلین کو انہوں نے کیوں نہیں گرفتار کیا ، اور ان سے قصاص کیوں نہیں لیا، بلکہ علی الرغم یہ منقول ہے کہ جب تک حضرت عثمان محصور اور زندہ رہے معاویہ نے مدد بھیجنے میں تاخیر کی ، اور جب آپ شہید ہو گئے ، تو اس وقت ان کے خون کے مدعی بن گئے ،اس لئے حضرت علی نے معاویہ کو لکھا کہ جب عثمان کی مدد کا وقت تھا تو تو نے ان کو چھوڑ دیا اور جب تجھ کو فائدہ حاصل ہونے کا وقت ہے، اس وقت ان کی حمایت اور امداد کا دم بھرتا ہے۔
علامہ نواب وقار نواز  (انواراللغۃ ص 14/10) copied 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓباغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟

ابو الغادیہ قاتلِ عمارؓ باغی اور جہنم کی طرف بلانے والا گروہ اور عمارؓ کا قاتل کون ؟ --------------- کریم آقاﷺ کا فرمان فمر به النبي صلى...