معاویہ نے اسلام قبول ہی نہیں کیا !
ڈاکٹر علی سامی النشار نے اپنی کتاب نشأة الفکر الفلسفی فی الإسلام، میں معاویہ کے بارے میں روایت ذکر کی ہے، شافعی عالم نے اپنی کتاب میں لکھا:
فان الرجل لم یؤمن ابداً بالاسلام،
معاویہ نے بالکل اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
نشأة الفكر الفلسفي في الإسلام؛ ج 2، ص 18 ط السابعة، دار المعارف سنة 1977 م
کتاب مسائل امام احمد بن حنبل میں اسحاق ابن ابراہیم نیشاپوری سے روایت نقل ہوئی ہے:
سمعت علی بن جعد یقول مات والله معاویة علی غیر الاسلام،
میں نے علی ابن جعد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: خدا کی قسم ! معاویہ کی موت دین اسلام پر واقع نہیں ہوئی، یعنی وہ مسلمان دنیا سے رخصت نہیں ہوا۔
اسی طرح کتاب انساب الاشراف بلاذری میں روایت ہے اور اس کو 50 سے زائد اہل سنت علماء نے نقل کیا ہے:
کنْتُ عِنْدَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یطْلُعُ عَلَیکمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ یمُوتُ عَلَی غَیرِ مِلَّتِی،
صحابہ کرام رض کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ص کے پاس تھے کہ آپ ص نے فرمایا: ابھی اس دروازے سے ایک آدمی داخل ہو گا جو میرے مذہب پر نہیں مرے گا۔
قَالَ: وَکنْتُ تَرَکتُ أَبِی قَدْ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَکنْتُ کحَابِسِ الْبَوْلِ مَخَافَةَ أَنْ یجِیءَ،
راوی کہتا ہے: میرے والد وضو کرنے کے لیے چلے گئے، مجھے خود بھی بیت الخلاء جانے کی اشد ضرورت تھی، لیکن پھر بھی اس شخص کو دیکھنے کے لیے میں نے خود کو قابو کئے رکھا۔
قَالَ: فَطَلَعَ مُعَاوِیةُ فَقَالَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: هُوَ هَذَا،
راوی کہتا ہے کہ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ اس دروازے سے معاویہ داخل ہوا، اسکو دیکھتے ہی رسول خدا ص نے فرمایا: جس آدمی کے بارے میں، میں نے کہا تھا کہ وہ مسلمان دنیا سے نہیں مرے گا، وہ یہی آدمی ہے۔ (یعنی معاویہ مسلمان نہیں بلکہ کافر دنیا سے جائے گا)
جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری، تحقیق: سهیل زکار وریاض الزرکلی، ج 5، ص 126، ح 362 ،منقول
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں